100 سے زائد امریکی انٹیلیجنس اہلکار فحش جنسی گفتگو کرنے پر برطرف

جمعہ 28 فروری 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نیشنل انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر ٹلسی گببارڈ نے کہا کہ انٹیلی جنس کمیونٹی کے 100 سے زائد اہلکاروں کو حکومت کے ایک محفوظ چیٹ سسٹم کا استعمال کرتے ہوئے واضح طور پر فحش جنسی بات چیت کرنے کے الزام میں برطرف کر دیا گیا ہے۔ یہ چیٹ سسٹم حساس معلومات کے تبادلے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان سمیت دُنیا بھر کی خواتین سیاستدان، اداکارائیں فحش ویب سائٹ کا شکار

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق گببارڈ نے فاکس نیوز کو بتایا کہ ان اہلکاروں کا نیشنل سیکیورٹی ایجنسی کے ٹول کا استعمال اعتماد کی سنگین خلاف ورزی ہے جو پیشہ ورانہ معیار اور اصولوں کے خلاف ہے۔

مزید پڑھیں: پنجاب میں فحاشی میں ملوث تھیٹر اداکاروں اور رقاصاؤں پر تاحیات پابندی لگانے کا فیصلہ

گببارڈ نے کہا کہ میں نے ہدایات جاری کی ہیں کہ ان سب کو برطرف کردیا جائے اور ان کی سیکیورٹی کلیئرنس کو بھی منسوخ کر دیا جائے۔

نیشنل انٹیلی جنس کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ گببارڈ نے ایک میمو جاری کیا تھا جس میں تمام انٹیلی جنس ایجنسیوں کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ ان اہلکاروں کی شناخت کریں جو غیر اخلاقی، فحش اور جنسی چیٹ رومز میں حصہ لے رہے تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بلوچستان میں طوفانی بارش اور ژالہ باری سے تباہی، متعدد ہلاکتیں

مجھ سے جلنے والوں کی اپنی کوئی پہچان نہیں، دیدار کے الزامات پر ریشم کا سخت ردعمل

ماہرین کا گوگل پر زور: بچوں کے لیے یوٹیوب پر اے آئی ویڈیوز بند کریں

پاکستان کی لبنان میں اقوامِ متحدہ کے امن دستوں پر حملوں کی مذمت، جنگی جرم قرار

ٹرمپ کا ایران جنگ جاری رکھنے کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ

ویڈیو

سعودی عرب سے ترسیلات اور حجاز مقدس سے متعلق شہریوں کے خیالات

حج اور عمرہ کی یادیں جو آنکھوں کو نم کر دیں

پیغام پاکستان بیانیہ، محراب و منبر کی اصلاح اور عدالتی انصاف شدت پسندی ختم کر سکتا ہے: علّامہ عارف الواحدی

کالم / تجزیہ

’میں نے کہا تھا ناں کہ پھنس جائیں گے؟‘

ہز ماسٹرز وائس

ایران یا سعودی عرب: پاکستان کو مشکل فیصلہ کرنا پڑ سکتا ہے؟