زمین سے محبت کا اظہار، ارتھ آور کے موقع پر پارلیمنٹ سمیت اہم عمارتوں کی لائٹیں بند

ہفتہ 22 مارچ 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان میں ارتھ آور کا آغاز ہوگیا ہے، جس کا مقصد زمین سے محبت کا اظہار کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں ارتھ آور : زمین کو ماحولیاتی تبدیلیوں سے بچانا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے، شہباز شریف

پارلیمنٹ سمیت اہم سرکاری عمارتوں کی لائٹیں اس وقت بند کردی گئی ہیں، اور یہ سلسلہ ایک گھنٹے تک جاری رہے گا۔

ایوان صدر، پارلیمنٹ ہاؤس سمیت تمام اہم سرکاری عمارتوں کی غیرضروری لائٹیں ایک گھنٹے تک بند رہیں گی۔

یاد رہے کہ ارتھ آور کو منانے کا آغاز 2007 میں ہوا تھا، جس کے بعد اسے ہر سال مارچ کے آخر میں منایا جاتا ہے۔

ارتھ آور کو مخصوص انداز سے منانے کا مقصد کرہ ارض کو ماحولیاتی آلودگی سے بچانے کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا ہے۔

قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہاکہ آئیں سوات کے پہاڑوں سے لے کر گوادر کے ساحلوں تک سب پاکستانی متحد ہو جائیں۔

یہ بھی پڑھیں ماحولیاتی آلودگی چلغوزے کے ایک لاکھ درخت نگل گئی، سالانہ 3 ارب روپے حاصل ہوتے تھے

انہوں نے کہاکہ آج 22 مارچ کے دن ہم سب رات 8 بجکر 30 منٹ پر لائٹیں بند کرکے آگاہی و شعور پیدا کریں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

14 اگست، پاکستان کا آزادی کی جانب سفر، 79 سالہ قربانیوں اور ترقی کا سفر

پاکستان اور فرانس کا کثیرالجہتی امور پر تعاون اور عالمی فورمز پر رابطہ مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

آزادی محض سرزمین کے حصول کا نام نہیں بلکہ عوام کے حقوق کا وعدہ پورا  کرنا  بھی ہے، بلاول بھٹو کا پیغام

پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ نے بیکنہم میں یوم آزادی منایا، کھلاڑیوں کے قوم کے نام خصوصی پیغامات

کرسٹیانو رونالڈو کی خفیہ شادی، والدہ اور بہن بھائیوں کی عدم شرکت نے نئی بحث چھیڑ دی

ویڈیو

14 اگست، پاکستان کا آزادی کی جانب سفر، 79 سالہ قربانیوں اور ترقی کا سفر

آزادی محض سرزمین کے حصول کا نام نہیں بلکہ عوام کے حقوق کا وعدہ پورا  کرنا  بھی ہے، بلاول بھٹو کا پیغام

پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ نے بیکنہم میں یوم آزادی منایا، کھلاڑیوں کے قوم کے نام خصوصی پیغامات

کالم / تجزیہ

مایوس ہونے سے پہلے یہ حساب کتاب بھی کر لیں

سن 47، 1200 پاکستانی اور ایک چابی

انڈین خارجہ پالیسی کی ارتھی