دنیا ایک بڑی تبدیلی سے گزر رہی ہے اور اس بڑی تبدیلی کے دوران 2 ممالک کی پوزیشن خاص طور پر قابل غور ہے۔ ایک پاکستان جسے بقول انڈیا، وہ عالمی تنہائی کا شکار کرچکا تھا۔ دوسرا انڈیا جو انڈین وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر خارجہ جے شنکر کے بقول ’عالمی طاقت‘ بن چکا تھا کیونکہ وہ ٹاپ 10 اکانومیز اور جی 20 تک رسائی حاصل کرچکا تھا۔ یہ بات پیش نظر رہے کہ یہ وہی انڈیا ہے جو گوادر پورٹ کے آگے چاہ بہار پورٹ کی دیوار بھی کھڑی کر رہا تھا لیکن پچھلے ایک سال میں صورتحال اس تیزی سے بدلی ہے کہ یقین نہیں آتا یہ سب صرف ایک سال میں ہوا ہے۔ اکڑتے بھارت کا لرزتے بھارت میں بدلنا ایک دلچسپ کیس اسٹڈی ہے۔ جسے مربوط انداز سے سمجھنا ضروری ہے۔
آپریشن سندور سے پہلے انڈیا نے اپنی سفارتی طاقت کی ایک بہت بڑی تصویر بنا لی تھی۔ ایک ایسی تصویر جو بس اسی کے ذہن میں تھی اور وہ چاہتا تھا کہ اس تصویر کو ساری دنیا پکاسو کا شاہکار مان کر قبول کرلے۔ یہ خیالی تصویر کچھ حقائق سے غلط نتائج اخذ کرنے کا حاصل تھی سو دنیا اسے قبول کرنے کو تیار نہ تھی۔
مثلاً سنہ 2019 کے بعد بھارت نے یہ سفارتی بیانیہ ترتیب دیا کہ ہم دنیا کی بڑی معیشت ہیں، چین کا متبادل ہیں، مغرب کو ہماری ضرورت ہے، اور چونکہ روس سے بھی ہمارے تعلقات ہیں، لہٰذا ہم کسی کے دباؤ میں نہیں آتے، اپنے فیصلے خود کرتے ہیں۔ اس خیالی پلاؤ کے پیچھے یہ حقائق کار فرما تھے کہ انڈیا جی 20 کی صدارت تک پہنچا تھا، کواڈ کا حصہ تھا، امریکا کے ساتھ دفاعی تعاون رشتے بڑھ رہے تھے، ساتھ ہی یورپ کے ساتھ بھی تعلقات۔ لیکن روسی تیل کی خریداری کے باوجود مغرب سے تعلقات برقرار رکھنا، اور پھر یوکرین جنگ میں ’ہم امن چاہتے ہیں لیکن روس کو چھوڑیں گے نہیں‘ والی پوزیشن لیے ہوئے تھا۔ لیکن غلط نتیجہ یہ نکال لیتا تھا کہ ان سب باتوں نے بھارت کو ’اپنے فیصلے خود کرنے والی بڑی طاقت‘ بنا دیا ہے۔
اس تصویر میں ایک بنیادی خرابی تھی، وہ یہ کہ بھارت کی معاشی طاقت حقیقت تھی، مگر اس سے عالمی سیاسی طاقت خود بخود پیدا نہیں ہوتی۔ ایک ملک کا جی ڈی پی بڑا ہونا اور اس کا بحران کے وقت دوسرے بڑے ملکوں کو اپنی مرضی کے مطابق چلوا سکنا 2 بالکل مختلف چیزیں ہیں۔ اس کی اس سے زبردست مثال اور کیا ہوگی کہ انڈیا پہلے ہی مغرب سے اس کشمکش میں ہزیمت کا سامنا کر رہا تھا کہ اپنا یہ مؤقف ہی اس سے نہیں منوا پا رہا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: گلا سڑا نظام اور وزیر داخلہ کی تقریر
اگر یاد کیجیے تو مودی حکومت کو بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے جمہوریت، انسانی حقوق اور اقلیتوں کے بارے میں سوالات سخت ناگوار گزرتے تھے۔ کیونکہ یہ سوالات انڈیا کے بیانیے پر اچھالے گئے کیچڑ کا کام دیتے۔ اسی طرح امریکا میں مودی حکومت سے متعلق 2 بڑے قانونی معاملات، خصوصا ایک بھارتی شہری پر امریکی سرزمین پر قتل کی سازش کا مقدمہ، اور کینیڈا میں خالصتان ایکٹوسٹ ہردیپ سنگھ نجار کے قتل کا واقعہ بھی تعلقات میں تناؤ پیدا کرچکے تھے۔ قتل کے ان 2 کیسز کی تفصیلات دیکھنے سے جو خیال فورا ذہن میں آتا ہے، وہ یہ ہے کہ ان کے پیچھے جو ذہن کار فرما ہے وہ ’صلاحیت‘ کے اعتبار سے ڈونلڈ ٹرمپ لیول کا ہے۔ اور کون انکار کر سکتا ہے کہ مودی انڈیا کے ٹرمپ ہی ہیں۔
مثلاً یہ دیکھیے کہ ہر دیپ سنگھ نجار کو اس لارنس بشنوی کی مدد سے 18 جون 2023 کو کینیڈا میں قتل کروایا جو راجھستان اور پنجاب میں ایک کالج لیول کا غنڈہ تھا، مگر اچانک اسے گرفتار کرکے سخت سیکیورٹی والی جیل منتقل کردیا گیا تھا، اور بظاہر اس کے ہر طرح کے رابطے منقطع تھے۔ لیکن جب فائیو آئی یعنی امریکا، برطانیہ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور کینیڈا کے مشترکہ انٹیلی جنس نظام نے اسی لارنس بشنوی کی وہ کال ٹریس کرلی جس کے ذریعے اس نے ہردیپ سنگھ نجار کے قتل کا آڈر دیا تھا، تو اس انٹیلی جنس نظام نے خفیہ تحقیقات شروع کردیں، جن سے پتا چلا لارنس بشنوی قیدی نہیں ہے، بلکہ اب وہ انڈین حکومت کے لیے انٹرنیشنل سطح کا ڈیتھ سکواڈ چلا رہا ہے۔ چنانچہ اس وقت کے کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے اس کی تفصیلات پبلک بھی کردیں۔
اس سے بھی بڑا بلنڈر نیویارک والا کیس تھا جو تھا بھی سنہ 2023 کا ہی۔ امریکی محکمہ انصاف نے نکھل گپتا نامی ایسے شخص کو گرفتار کیا تھا جو گرپتونت سنگھ پنوں کے قتل کے لیے کرائے کا کوئی قاتل ڈھونڈ رہا تھا۔ نکھل کی بدبختی کہ اس نے جس شخص کے ساتھ اس سلسلے میں ڈیل کی کوشش کی وہ امریکی محکمہ انسداد منشیات کا مخبر نکلا، یوں معاملہ سیدھا ایف بی آئی کے پاس پہنچ گیا۔ لیکن مودی پھنسے بری طرح تب جب امریکی اداروں نے اس بات کے ثبوت حاصل کر لیے کہ قتل کا حکم دینے والا انڈین انٹیلی جنس افسر وکاش یادیو تھا۔ یوں اس دوسرے کیس میں انڈین حکومت ہی واضح طور پر ملوث پائی گئی۔ یہ سوچ کر ہنسی ہی چھوٹتی ہے کہ کینیڈا اور امریکا جیسے ممالک میں مخالفین کو قتل کروانے کا خیال اسی کو آسکتا ہے جس کے دماغ میں یہ خناس بہت گہرائی تک سرایت کر گیا ہو کہ ہم عالمی طاقت ہیں، دنیا کے کسی بھی کونے میں مخالفین تک کو قتل کرواسکتے ہیں۔
مزید پڑھیے: ’جیسا پہلے کبھی نہ دیکھا گیا‘
انڈیا کو سبکی کا سامنا صرف امریکا اور کینیڈا میں نہیں تھا بلکہ یورپ میں بھی ٹھنڈ ہوا ندارد۔ یورپی پارلیمنٹ نے سنہ 2024 میں بھارت میں انسانی حقوق کے حوالے سے تشویش ظاہر کی، جبکہ ای یو انڈیا تجارتی مذاکرات میں انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی جیسے معاملات بھی موجود تھے۔
مگر اس سب کے باوجود مغرب کی جانب سے انڈیا کو سنگین ایکشن کا سامنا نہ تھا، وہ بس باتیں ہی کر رہے تھے۔ جس کی وجہ یہ تھی انڈیا چین کی نسبت سے مغرب کو اپنی ضرورت نظر آتا تھا۔ یعنی مغرب کی نظر میں بھارت کی خامیاں اہم تھیں، مگر چین کے مقابلے کے لیے بھارت بطور تزویراتی ضرورت اس سے زیادہ اہم تھا۔ یہ نکتہ بہت ہی بنیادی ہے، کیونکہ چین کے خلاف اپنی گیم میں مغرب نے انڈیا کو اس قدر اہمیت دے رکھی تھی کہ امریکا اپنی پیسیفک کمانڈ کا نام تک سنہ 2018 میں انڈوپیسیفک کمانڈ کرچکا تھا۔
ایسے میں آیا آپریشن سندور والا موڑ۔ اگر آپ یاد کیجیے تو پہلگام واقعے کے بعد سے انڈیا پاکستان پر حملے کے واضح اشارے دے رہا تھا، تیاریاں بھی جاری تھیں، لیکن جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے اخبار نویسوں نے اس بابت سوال کیا تو جواب آیا۔ ’ہم ان دونوں ممالک کے آپسی معاملات میں دخل نہیں دینا چاہتے‘ یہ گویا مودی کے لیے گرین سگنل تھا کہ چین سے قبل اس کے دائیں ہاتھ کو ڈیمج کردو۔
اب مودی جی تو یہ خیالی پلاؤ پہلے ہی پکائے بیٹھے تھے کہ انڈیا اب بڑی عالمی طاقت ہے اور پاکستان ایک ایسا چھوٹا سا ملک جو سیاسی تنہائی کا بھی سامنا کر رہا ہے۔ مگر اندر ہی اندر مودی جی کو یہ خوف بھی کھائے جا رہا تھا کہ کہیں بڑی طاقت ہونے کا پول ہی نہ کھل جائے۔ چنانچہ جب مئی 2025 میں حملہ کیا تو یوں کہ پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہونے کا رسک ہی نہ لیا۔ کارگل جنگ والا پائلٹ تو چلو پرانی بات ہوگئی تھی مگر ابھینندن کی گرفتاری تو ابھی کل ہی کی بات تھی۔ یہ اس لحاظ غیر معمولی بات تھی کہ ثابت ہوگیا تھا، انڈیا پاکستان میں داخل ہونے سے خوفزدہ ہے۔
مگر آہ! لاکھ احتیاط کے باوجود انڈیا کو اپنی تاریخ کی سب سے بڑی ہزیمت کا سامنا کرنا پڑ گیا۔ پاک فضائیہ نے بغیر کسی نقصان کے اس کے 7 طیارے اسی کی سرزمین پر گرا دیئے تھے وہ بھی ایک رات کے صرف آخری نصف حصے میں۔ اگلے چند گھنٹوں میں پوری انڈین ایئرفورس گراؤنڈ ہوچکی اور وہ بھی پاکستانی سرحدوں سے 300 کلومیٹر کی دوری رکھ کر۔ اگلی ہی صبح پاکستان ایئرفورس انٹرنیشنل میڈیا کو بریفنگ دے رہی تھی اور انڈین ایئرفورس کو سانپ سونگھا ہوا تھا۔
پاکستان کا مؤقف بالکل واضح تھا، کہ انڈین طیارے تو ہم نے دفاع کرتے ہوئے گرائے ہیں، حملے کا باقاعدہ جواب دینا ابھی باقی ہے۔ اور جب 10 مئی 2025 کو پاکستانی میزائلوں نے جواب دینا شروع کیا تو دن 12 بجے ہی ٹرمپ پر واضح ہوگیا کہ اپنی ’پالٹی‘ بری طرح پٹ رہی ہے۔ یوں اسے بچانے کے لیے وہ فورا بیچ میں آئے۔ اور اعلان کردیا کہ انہوں نے ممکنہ ایٹمی جنگ بند کرادی ہے، لہٰذا لاؤ نوبیل پرائز دو !
ٹرمپ کے اس اعلان سے مودی کا وہ سارا بیانیہ ہی ہوا میں تحلیل ہوگیا جسے آگے بڑھاتے ہوئے وہ سالوں سے کہتے آرہے تھے کہ ہم عالمی طاقت ہیں اپنے فیصلے خود کرتے ہیں۔ یوں یہ سوچے بغیر ٹرمپ کی تردید کردی کہ وہ اس کرہ ارض پر موجود سب بڑا خود پسند لیڈر ہے۔ اس تردید کا جواب ڈونلڈ ٹرمپ نے 2 طرح سے دیا۔ پہلا یہ کہ پاکستان اور بالخصوص فیلڈ مارشل عاصم منیر کو بہت قریب کرلیا۔ جبکہ انڈیا کے گرائے گئے طیاروں کے عدد کے ذریعے مودی کہ وہ ٹرولنگ شروع کی کہ خدا کی پناہ۔
اور یہاں سے شروع ہوا پاکستان کا کھیل۔ ٹرمپ نے عاصم منیر کو اس لیے نہیں قریب کیا تھا کہ انہیں واقعی عاصم منیر سے کوئی عشق ہوچلا تھا۔ وہ تو بس مودی کو تردید کی سزا دے رہے تھے۔ اور یہ بات ہمارے بااختیار اچھی طرح جانتے تھے، سو انہوں نے اس ٹرولنگ کو پاکستان کے حق میں برق رفتار سفارتکاری کے ذریعے کیش کرنے کی مہم شروع کردی۔ برق رفتار اس لیے کہ وہ جانتے تھے ٹرمپ کا کچھ پتا نہیں چلتا کب قلابازی مار لے، سو جو بھی کرنا ہے بہت تیزی سے کرنا ہے۔ یوں خارجہ محاذ پر آج پاکستان جہاں کھڑا ہے وہ آپریشن سندور کے ملٹری اور اس کے بعد والے سفارتی آپریشن کا نتیجہ ہے۔ اور انڈیا آج اس حال میں بیٹھا ہے کہ حکمران عالمی طاقت بن جانے والا چورن اب وہ بیرون ملک چھوڑیئے خود اپنی پبلک کو بھی نہیں بیچ پا رہے۔ خاص طور پر یہ منظر تو ان کے لیے بالکل ہی ناقابل یقین ہے کہ جنوبی ایشیا کا ملک پاکستان مغربی ایشیا کے امور بھی لیڈ کر رہا ہے۔ وہ بھی یوں کہ سعودی عرب اور ایران دونوں ہی اس کے شکر گزار بھی ہیں۔
مزید پڑھیں: شفاف انتخابات کا فریب
کسی بھی ملک کی خارجہ و دفاعی پالیسی باہم مربوط ہوتی ہیں۔ کیونکہ یہ دونوں پالیسیز بوقت ضرورت ایک دوسرے کی جگہ لیتی ہیں۔ مثلاً کوئی مسئلہ سفارتکاری سے حل نہ ہو تو جو جنگ آزما لی جاتی ہے۔ جنگ فیل ہوجائے تو سفارتکاری آگے کردی جاتی ہے۔
وہ انڈیا کہاں کی طاقت جس نے گوادر پورٹ کے توڑ کے لیے چاہ بہار پورٹ کھڑی کرنی شروع کی۔ لیکن جب امریکا نے آنکھیں دکھائیں تو ایران سے تل کی خریداری بھی بند کردی، اور چاہ بہار پورٹ بھی چھوڑ کر بھاگا۔ وہی چاہ بہار پورٹ جو اب دھیرے دھیرے گوادر کی ’سسٹر پورٹ‘ کا خطاب پانے لگی ہے۔ یوں گویا انڈین خارجہ و دفاعی دونوں پالیسیز کی ارتھی تو اسی دن اٹھ گئی تھی جب یہ چاہ بہار پورٹ چھوڑ کر بھاگا تھا۔ اور ثابت ہوگیا تھا کہ انڈیا اپنے فیصلے خود کرنے والا ملک نہیں۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













