مایوس ہونے سے پہلے یہ حساب کتاب بھی کر لیں

جمعہ 14 اگست 2026
author image

عامر خاکوانی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اگست شروع ہوتے ہی ہماری ٹائم لائن پر دو طرح کی پوسٹیں آنے لگتی ہیں۔ ایک وہ جن میں سبز ہلالی پرچم، ملی نغمے اور جوش وخروش ہوتا ہے۔ دوسری وہ جن میں سوال اٹھایا جاتا ہے کہ جشن کس بات کا؟ ہم تو ڈوب چکے، ہم سے تو بنگلہ دیش بہتر نکلا، ہمارے نوجوان بھاگ رہے ہیں اور جو بھاگ نہیں سکتے وہ ویزے کی لائن میں لگے ہیں۔

دوسری قسم کی پوسٹیں لکھنے والوں کو غلط یا غیر محب وطن نہ کہیں۔ ان میں سے بہت سے بے چارے مخلص اور دکھی لوگ ہیں، بجلی کےبل نے جن کا بیڑا غرق کر رکھا ہے۔ جنہوں نے مہنگائی میں جمع پونجی گنوا دی، جن کے بچے پڑھ لکھ کر گھر بیٹھے ہیں۔ ان کے دکھ کا مذاق اڑانا زیادتی ہوگی۔

مجھے مگر ان سے ایک شکایت ہے۔ حساب کتاب کرتے ہوئے یہ لوگ ایک سفید کاغذ لے کر عمودی لکیر لگاتے ہیں، ایک طرف خسارہ، دوسری طرف منافع۔ افسوس کہ لکھتے وقت یہ صرف خسارے والا خانہ بھرتے ہیں، نفع والا خانہ خالی چھوڑ دیتے ہیں۔ کوئی دکاندار اس طرح حساب لگائے تو دو دن میں دکان بند کر کے بیٹھ جائے۔

تو یارو،صاحبو، پیارے پڑھنے والو آج کچھ دیر کے لیے دوسرا خانہ بھی بھر لیتے ہیں۔ جو کام دوسرے نہیں کر رہے، میں اس کی کوشش کرتا ہوں۔ یہ البتہ وعدہ ہے کہ اس میں کوئی خواہ مخواہ کی بات شامل نہیں ہوگی۔

پاکستانیوں کی سب سےبڑی کامیابی

قیام پاکستان کے فیصلے پر ہمارے ہاں 70 سال بحث ہوتی رہی۔ ایک اچھا خاصآ حلقہ کہتا رہا کہ تقسیم غلط تھی، اکٹھے رہتے تو مسلمان بھارت میں ایک بڑی طاقت ہوتے، ووٹ بینک ہوتے، پارلیمنٹ میں ان کی آواز ہوتی، وغیرہ وغیرہ۔

چند سال پہلے یہ بحث عملی طور پر ختم ہوگئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خود بھارتی حکومت اور اہل بھارت نے ایسا کیا۔ بی جے پی اور آر ایس ایس وغیرہ نے ہمیں سمجھا اور بتادیا کہ بچو تم خوش نصیب ہو، قائداعظم کی دانائی سے بچ گئے، ورنہ آج انڈیا کا حصہ ہوتے تو ذلیل وخوار ہو رہے ہوتے۔

ایک طویل فہرست ہے ان زیادتیوں کی۔ بابری مسجد تو چلو 1991 میں دن دیہاڑے شہید ہوئی تھی، مگر لوگوں کو شاید صبر آجاتا، جس طرح دیدہ دلیری سے اس کی جگہ رام مندر بنایا گیا، اس نے اچھے بھلے قوم پرست بھارتی مسلمانوں کا بھی منہ بند کردیا۔

گجرات فسادات تاریخ کا حصہ ہیں، مگر شہریت کے قانون میں مسلمانوں کے خلاف ہونے والی ترمیم تو ابھی کل کی ہی بات ہے۔ کشمیر کی خصوصی حیثیت ایک صبح اٹھ کر ختم کردی گئی۔ اوقاف کے قانون میں وہ ترامیم منظور ہوئیں جن پر پورے بھارت کے مسلمان سراپا احتجاج تھے، مگر ان کی کہیں کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔

یہ بڑے واقعات ہیں۔ اصل تکلیف دہ چیز مگر وہ ہے جو روزمرہ میں ہوتی ہے۔ دادری کے محمد اخلاق کو اس شبے میں گھر سے نکال کر مار دیا گیا کہ اس کے فریج میں گائے کا گوشت ہے۔ جنید خان نامی نوجوان کو عید کی خریداری کے بعد واپسی پر ٹرین میں چاقو مار مار کر قتل کردیا گیا۔ بلڈوزر لے کر پہنچ جانا اب باقاعدہ ایک انتظامی طریقہ کار بن چکا ہے اور بھارتی عدالتیں تک اس پر تشویش ظاہر کرچکی ہیں۔

اب اس کے مقابلے میں ذرا اپنی صبح کا سوچیں۔ آپ لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ کہیں کے بھی ہوں، آپ نے کبھی یہ سوچ کر گھر سے قدم نہیں نکالا کہ میرے نام سے میرا مذہب ظاہر ہوجائے گا۔ آپ نے کبھی یہ فکر نہیں کی کہ فریج میں کیا پڑا ہے۔ آپ کے بچے نے اسکول میں کبھی یہ نہیں سنا کہ تم واپس چلے جاؤ۔ آپ کو کبھی کسی ٹی وی اینکر کے سامنے بیٹھ کر یہ ثابت نہیں کرنا پڑا کہ ہاں جی میں محب وطن ہوں، دیکھیں مجھے قومی ترانہ بھی یاد ہے۔

ہمارے اپنے مسائل ہیں، ان سے انکار نہیں مگر بہرحال جس طرح کے خوف کا سامنا بھارتی مسلمانوں کو ہے، وہ پاکستانیوں کو ہرگز ہرگز نہیں۔ ہمارے ہاں اس خوف سے آزادی ہے اور دنیا میں کروڑوں لوگ اس کے لیے ترستے ہیں۔ ہمیں یہ اس لیے نظر نہیں آتی کہ مفت ملی ہوئی ہے۔ ہوا کی طرح، جس کی قدر تب ہوتی ہے جب سانس رکنے لگے۔

خاکسار کی رائے میں قائداعظم کا سب سے بڑا کارنامہ یہی تھا کہ انہوں نے کانگریسی قیادت کے چہرے کے پیچھے چھپا اصل چہرہ چالیس کے عشرے میں پہچان لیا۔ آج ہمیں وہ چہرہ نظر آرہا ہے، انہوں نے تب دیکھ لیا تھا۔

ذرا اپنے اثاثوں کی فہرست دیکھیں

ایک ملک جسے 1947 میں دفتروں کے لیے فرنیچر تک ادھار مانگنا پڑا، وہ آج ایک ایٹمی طاقت ہے۔ پچھلے سال مئی میں یہ بھی ثابت ہوگیا جب کئی گنا بڑی اور کئی گنا زیادہ مہنگے اسلحے سے لیس فوج نے حملہ کیا اور اسے منہ کی کھانی پڑی۔ عالمی میڈیا نے، حتیٰ کہ کئی بھارتی دفاعی تجزیہ کاروں نے بھی یہ تسلیم کیا۔ ان دنوں لندن اور ٹورنٹو میں بیٹھے پاکستانیوں کے پیغامات عجیب کیفیت پیدا کردیتے تھے۔ ایک صاحب نے لکھا کہ برسوں بعد وہ اپنے دفتر میں سر اٹھا کر چل رہے ہیں۔ یہ احساس کسی معاشی پیکیج سے نہیں خریدا جا سکتا۔

ہم دنیا کے ان چند ملکوں میں ہیں جو اپنی آبادی کا پیٹ اپنی زمین سے بھرتے ہیں۔ گندم، چاول، کپاس، آم، کینو، سب اپنا۔ سوڈان اور مصر جیسے ملکوں کو دیکھ لیں جہاں روٹی کے لیے قطار لگتی ہے، تب اندازہ ہوگا کہ زرعی خود کفالت کتنی بڑی نعمت ہے۔

پچھلے مالی سال میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے 38 ارب ڈالر سے زائد رقم وطن بھیجی، جو ایک ریکارڈ ہے۔ یہ کروڑ پتیوں کی رقم نہیں۔ یہ دبئی کی کسی سائٹ پر کام کرنے والے مزدور، ریاض کے کسی ڈرائیور، مانچسٹر کے کسی ٹیکسی چلانے والے کی محنت ہے جو وہ اپنی ماں، بہن، بیوی کو بھیجتا ہے۔

آئی ٹی ایکسپورٹس پونے چار ارب ڈالر کے قریب پہنچ چکی ہیں اور یہ زیادہ تر ان لڑکوں لڑکیوں کی کمائی ہے جن کے پاس سفارش تھی نہ سرمایہ۔ ملتان، سرگودھا، ایبٹ آباد میں بیٹھے بچے امریکی اور یورپی کلائنٹس کا کام کر رہے ہیں۔ ان میں سے کسی نے حکومت سے کچھ نہیں مانگا، بس یہ چاہا کہ انٹرنیٹ چلتا رہے۔

سب سے بڑا اثاثہ وہ ہے جس پر ہم ماتم کرتے ہیں، یعنی ہماری نوجوان آبادی۔ یورپ اور چین بوڑھے ہو رہے ہیں، جاپان اپنے دیہات خالی ہوتے دیکھ رہا ہے، کوریا میں شرح پیدائش نے حکومت کے ہوش اڑا رکھے ہیں۔ ہمارے پاس نوجوان ہاتھ ہیں۔ یہ بوجھ بھی بن سکتے ہیں اور سرمایہ بھی۔ فرق صرف تربیت اور مواقع کا ہے۔

وہ خوبی جس کا ذکر کوئی نہیں کرتا

2005 کا زلزلہ ہو، 2010 کا سیلاب ہو یا پچھلے سال پنجاب میں پانی کی یلغار، ہر بار ایک منظر دہرایا جاتا ہے۔ ابھی سرکاری مشینری ہکا بکا کھڑی ہوتی ہے اور عام پاکستانی ٹرک بھر بھر کر روانہ ہوجاتا ہے۔ یہ حقیقی پاکستانی قوم ہے جس کی جھلک بحران میں نظر آتی ہے۔

 عبدالستار ایدھی نے چندے سے دنیا کی سب سے بڑی ایمبولینس سروس کھڑی کردی۔ ڈاکٹر امجد ثاقب کی اخوت اربوں روپے کے بلاسود قرضے دے چکی، وہ بھی بغیر کسی گارنٹی کے، اور واپسی کی شرح 99 فیصد سے اوپر رہی۔ اسی نکتپ پر غور فرمائیے۔ جس قوم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ بددیانت ہے، اس کے غریب ترین لوگ بغیر ضمانت لیا ہوا قرض واپس کردیتے ہیں۔

الخدمت، سیلانی، غزالی مسکولز، پی او بی، کاروان علم فاونڈیشن، ریڈ فاونڈیشن وغیرہ وغیرہ۔ان سب کے پیچھے کوئی حکومتی گرانٹ نہیں، عام لوگوں کی جمع پونجی اور کشادہ دلی ہے۔ یہ ہماری سب سے قیمتی چیز ہے اور اسے نہ کوئی حکومت خراب کرسکی نہ کوئی بحران کھا سکا۔

اب کچھ سچی باتیں بھی

یہ سب لکھ کر میں یہ نہیں کہہ رہا کہ سب اچھا ہے۔ ایسا ہرگز نہیں۔ دو کروڑ ساٹھ لاکھ بچے مسکول سے باہر ہیں، یہ عدد لکھتے ہوئے ہاتھ کانپتا ہے اور شرم سے میری آنکھیں جھک جاتی ہیں۔ ہماری معیشت آئی ایم ایف کے دروازے پر بار بار دستک دیتی ہے۔ سیاسی تلخی اس حد تک بڑھ چکی کہ خاندانوں میں لوگ ایک دوسرے سے بات نہیں کرتے۔ ادارے اپنی حدود سے باہر نکلتے رہے اور نقصان سب نے اٹھایا۔ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشتگردی نے پھر سر اٹھایا ہے۔ اس بارے میں صرف ایک بات کہنا چاہتا ہوں۔ قوموں کے یہ مرحلے آتے ہیں اور گزر بھی جاتے ہیں۔

جنوبی کوریا کی فی کس آمدنی 60 کے عشرے میں پاکستان سے کم تھی۔ ویتنام پر امریکا نے دوسری جنگ عظیم سے زیادہ بم گرائے، اس کا ملک کھنڈر بنا، مگر آج اس کی برآمدات 400 ارب ڈالر سے اوپر ہیں۔ بنگلہ دیش کو ایک زمانے میں امریکی انٹرنیشنل کشکول کہا کرتے تھے، یہ سب بدل گیا۔ ترکیہ 2001 میں دیوالیہ ہونے کے کنارے تھا اور لوگ بینکوں کے باہر قطاروں میں کھڑے تھے، آج دیکھ لیں کہاں پہنچ گیا۔

ان میں سے کسی ملک نے کوئی جادو نہیں کیا۔ انہوں نے صرف دو چیزیں کیں۔ اپنی سمت درست کی اور پھر بیس پچیس سال اسی سمت میں چلتے رہے۔ ہم اس دوسری چیز میں مار کھا جاتے ہیں۔ ہماری پالیسیاں ہر تین سال بعد بدل جاتی ہیں، ہر نئی حکومت پچھلی کے منصوبے روک دیتی ہے اور ہم اٹکل پچو انداز میں نئے سرے سے شروع کر لیتے ہیں۔ یہ عادت بدلنی ہے، تقدیر نہیں۔

ایک بات ان نوجوانوں سے بھی جو باہر جانا چاہتے ہیں۔ بھائی لوگو، جانا بُرا نہیں۔ جائیں، پڑھیں، کمائیں، دنیا دیکھیں۔ بس یہ نہ کہیں کہ میں اس ملک سے نفرت کرکے جا رہا ہوں۔ اس لیے کہ جس دن پاک بھارت میچ ہوتا ہے، ان کم بخت ماروں کے سینے میں وہی دل دھڑکتا ہے جو ہمارے سینے میں ہے۔ پاکستان کی جیت پر یہ سب بھی ہماری طرح نہال اور سرشار ہوجاتے ہیں۔

وہ مشورہ جو میں نے اپنے بیٹے کو دیا تھا

تین چار سال پہلے کی بات ہے۔ میرا بڑا بیٹا اس سال یوم آزادی پر اتفاق سے لاہور کے بجائے اپنے ننھیال بہاولپور میں تھا، اس نے مجھے فون کیا اور پوچھا کہ یوم آزادی آپ لوگ کس طرح منا رہے ہیں؟ میں نے اسے دو باتوں کا مشورہ دیا۔ ایک تو یہ کہ آج نماز کے بعد پاکستان کے لیے دو نفل ضرور پڑھے اور ملک کی سالمیت، ترقی کے لیے دعا کرے۔ دوسرا یہ کہ چودہ اگست کے دن کچھ دیر کے لیے، چند منٹ سہی، اکیلا بیٹھ کر سوچے کہ میں پاکستان کے لیے کیا کرسکتا ہوں؟ کس انداز میں بہتری کے لیے کنٹری بیوٹ کرسکتا ہوں؟

کچھ کرنے کے لیے زیادہ پیسے یا بڑی تنظیم کا ہونا ضروری نہیں۔ ایک پودا لگانا بھی کنٹری بیوشن ہے، اپنی گلی صاف رکھنا، پارکوں میں بکھرے شاپنگ بیگ چن لینا بھی کنٹری بیوشن کی قسم ہے۔ اسی طرح بے شمار طریقے ہیں، اپنے انداز سے آپ بھی سوچیں، اپنے بچوں کو بھی ترغیب دیں۔

یوم آزادی منانے کا ایک طریقہ اسے سیلی بریٹ کرنا، خوشی منانا ہے، ضرور کریں، جھنڈے لہرائیں، شرٹ پر بیج لگائیں، چہرے پر چاند تارہ پینٹ کریں، ماتھے پر چاند تارے والی پٹی باندھیں، یہ سب اس دن اچھا لگتا ہے، کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ اگرچہ بھدی آواز والے باجے اور بغیر سائلنسر موٹر سائیکل پلیز نہ چلائیں۔ ان سب کچھ کے ساتھ چند منٹ کے لیے اپنے وطن، اپنے سماج کے لیے کچھ کرنے کا بھی سوچیں۔ یہ کم اہم ایکٹیوٹی نہیں۔

آخری بات

79 سال پہلے ایک ایسا ملک وجود میں آیا جس کے بارے میں دنیا کا خیال تھا کہ یہ چند مہینے نہیں چل سکے گا۔ اس کے پاس خزانہ نہیں تھا، دفاتر نہیں تھے، ایک کروڑ سے زائد پناہ گزین سرحد پار کرکے آرہے تھے اور بانی کی زندگی کے صرف تیرہ مہینے باقی تھے۔

وہ ملک 79 سال بعد بھی موجود ہے، ایٹمی طاقت ہے، 23 کروڑ لوگوں کا گھر ہے اور اپنے دشمن کو منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

جو ہم نے پا لیا، اس پر شکر۔ جو رہ گیا، اس پر کام کریں۔ اللہ کریم وہ دن دکھائے جب ہمارے بچوں کو یہ کالم پڑھ کر حیرت ہو کہ اس زمانے میں کوئی مایوس بھی ہوتا تھا۔ آمین۔

جشن آزادی مبارک۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp