رحیم یار خان: عید کے کپڑے مانگنے پر باپ نے بچوں سمیت زہر کھا لیا

منگل 3 جون 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

رحیم یار خان کے علاقے رکن پور میں غربت اور بے بسی نے ایک محنت کش باپ کو ایسا قدم اٹھانے پر مجبور کر دیا جس نے 3 زندگیاں نگل لیں۔ پولیس کے مطابق واقعہ سردار گڑھ بستی حاجی پیر میں پیش آیا، جہاں ایک شخص نے عید کے کپڑوں کی فرمائش پر 2 معذور بیٹوں اور ایک بیٹی کو زہریلی گولیاں دے دیں اور خود بھی وہی گولیاں نگل کر خودکشی کرلی۔

ترجمان شیخ زید اسپتال کے مطابق زہریلی گولیاں کھانے سے باپ اور دونوں بیٹے دم توڑ گئے، جبکہ بیٹی کی حالت خطرے سے باہر ہے اور اسپتال میں زیر علاج ہے۔

مزید پڑھیں: عید قربان پر بھاگ ناڑی کے بیل کی دھوم: طاقت، خوبصورتی اور ثقافت کا امتزاج

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مذکورہ شخص ٹریکٹر ٹرالی چلا کر روزگار کرتا تھا لیکن کئی روز سے کام نہ ملنے کے باعث شدید مالی پریشانی میں مبتلا تھا۔ ابتدائی تفتیش میں معلوم ہوا ہے کہ بچوں نے عید کے کپڑوں کی فرمائش کی تھی جسے پورا نہ کر پانے پر اس نے انتہائی قدم اٹھایا۔ واقعے کے بعد علاقے میں افسوس اور سوگ کی فضا ہے جبکہ پولیس نے قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر

واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار

تھائی لینڈ میں غیر ملکیوں کی خفیہ کاروباری سرگرمیوں اور شیل کمپنیوں کے خلاف بڑا آپریشن 

مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی

مردان قتل کیس: ملزمان مغوی بچوں کو چارسدہ روڈ پر چھوڑ کر فرار، تحقیقات جاری

ویڈیو

مریم نواز کی کارکردگی پر لاہور کے عوام کی رائے کیا ہے؟

صرف مسلم لیگ (ن) ہی گلگت بلتستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے، ثروت صباء

عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر

کالم / تجزیہ

کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟

28 ویں ترمیم تو آنی ہی آنی ہے

جب یورپ کو پاکستان کی بات سمجھ آئی