صحافی پر حملے کے کیس میں ملزم ارمغان قصوروار قرار

جمعرات 19 جون 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

انسداد دہشتگردی کی عدالت میں صحافی مصطفیٰ عامر قتل کیس کے ملزم ارمغان کے خلاف ایک اور مقدمے، یعنی صحافی پر حملے کے کیس کی سماعت ہوئی۔ پولیس نے اپنی تفتیش مکمل کرنے کے بعد ملزم ارمغان کو صحافی پر حملے میں قصوروار قرار دے دیا۔

یہ بھی پڑھیں:مصطفیٰ عامر قتل کیس کے ملزم ارمغان کی پولیس پر فائرنگ کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی

بہادرآباد پولیس کی جانب سے ملزم ارمغان کے خلاف مقدمے کا عبوری چالان عدالت میں جمع کرا دیا گیا، جس میں پراسیکیوشن کے 8 سے زائد گواہوں کو شامل کیا گیا ہے۔

چالان کے مطابق، 19 نومبر 2024 کو ملزم ارمغان اپنی ویگو گاڑی میں سوار تھا جب اس نے صحافی ندیم احمد خان کو روکا اور دونوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔ اس دوران ارمغان نے فائرنگ کرکے صحافی کو زخمی کر دیا اور موقع سے فرار ہو گیا۔

یہ بھی پڑھیں:ارمغان کےگھر سے برآمد ہونے والا اسنائپر سمیت جدید اسلحہ کہاں سے آیا؟

عبوری چالان میں مزید بتایا گیا ہے کہ تفتیش کے دوران ملزم ارمغان نے اپنے جرم کا اعتراف کیا۔ اس نے بیان دیا کہ اس نے صحافی کو جان سے مارنے کی نیت سے فائرنگ کی۔ مدعی مقدمہ نے بھی ملزم کو شناخت کر لیا ہے۔

عدالت نے پولیس کی جانب سے جمع کرایا گیا عبوری چالان منظور کرتے ہوئے کیس کو سماعت کے لیے انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نمبر 15 کو منتقل کر دیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

لانڈھی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون میں فیکٹری میں آتشزدگی

زیتون کا تیل اور ہڈیوں کا سوپ: کیا سوشل میڈیا پر وائرل غذائیں واقعی مؤثر ہیں؟

اسلام آباد مسجد حملہ، بھارت کا اظہارِ افسوس

مکہ مکرمہ میں شہری ترقی کے حالیہ اقدامات نے معیار زندگی مزید بہتر بنادیا

اسلام آباد سانحہ، پی ٹی آئی کا وفاقی حکومت کی ناکامیوں پر استعفوں اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ

ویڈیو

اسلام آباد امام بار گاہ میں خود کش دھماکا بھارت کی سرپرستی میں کیا گیا، وزیر مملکت برائے داخلہ کی میڈیا سے گفتگو

امریکا ایران کشیدگی: سعودی عرب، ترکی اور پاکستان نے واشنگٹن کو کیا پیغام دیا؟

لاہور میں بسنت کے تہوار پر تاریخی جشن

کالم / تجزیہ

پاکستان کا پیچا!

’کشمیر کی جلتی وادی میں بہتے ہوئے خون کا شور سنو‘

مغربی تہذیب کا انہدام!