اسرائیل نے حالیہ دنوں ایران کے خلاف محدود جنگ کی نوعیت کی فوجی کارروائی کی، جس کے پیچھے ایک طویل خفیہ منصوبہ بندی، تزویراتی مواقع اور ایران کے نیوکلیئر پروگرام سے درپیش خطرات شامل تھے۔
اسرائیل نے اس موقع کو ’ستاروں کے یکجا ہونے‘ سے تشبیہ دی، جس میں خطے کے حالات، بین الاقوامی حمایت اور ایران کی داخلی کمزوریوں نے فیصلہ کن کردار ادا کیا۔
2023 میں حماس کے ساتھ شدید جھڑپوں کے بعد اسرائیلی قیادت کا اعتماد بحال ہوا، اور ایران کے اندرونی سیاسی انتشار کے باعث اسے ایک کمزور دشمن تصور کیا گیا۔ ساتھ ہی، عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کی تشویشناک رپورٹ اور بیلسٹک میزائلوں کی تیاری نے اسرائیل کو پیش قدمی پر آمادہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں:موساد کے سربراہ کا ایران کیخلاف کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان
اس وقت اسرائیل کی قیادت نے فیصلہ کیا کہ ایران کے ایٹمی انفراسٹرکچر کو کئی سال پیچھے دھکیلنے کا یہی مناسب وقت ہے۔
یہ کارروائی انتہائی رازداری سے کی گئی۔ اسرائیلی ملٹری انٹیلیجنس، فضائیہ اور دیگر حساس اداروں کو جزوی علم تھا۔ جنگ کا مقصد ایران کے نیوکلیئر نظام کو مختصر مدت میں غیر مؤثر بنانا اور خطے میں اسرائیل کی اسٹریٹجک پوزیشن کو مستحکم کرنا تھا۔

اس جنگ میں 12 دن کے اندر اسرائیل نے تقریباً 1,500 فضائی حملے کیے جن میں 4,300 بم اور میزائل استعمال ہوئے۔ ان حملوں میں ایران کے 80 سے زائد فضائی دفاعی نظام، 200 سے زائد بیلسٹک میزائل لانچرز، 70 ریڈارز، 15 طیارے، اور کئی نیوکلیئر تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
ان حملوں کا اثر ایران کے نیوکلیئر پروگرام پر گہرا پڑا۔ متعدد افزودگی کے پلانٹس تباہ ہوئے، اور نیوکلیئر کور تیاری کے مراحل کو شدید دھچکا پہنچا۔
اسرائیلی افواج کا اندازہ ہے کہ ایران کا نیوکلیئر پروگرام کئی سال پیچھے چلا گیا ہے، لیکن یہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔
یہ بھی پڑھیں:خامنہ ای پہنچ سے دور ہونے کی وجہ سے نہیں مارے جا سکے، اسرائیل وزیر دفاع کا انکشاف
اس کارروائی کے نتیجے میں اسرائیل کو فوری طور پر علاقائی عسکری برتری حاصل ہوئی، جبکہ ایران کو فوجی، تکنیکی اور نفسیاتی نقصان پہنچا۔ البتہ اس حملے نے ایرانی عوام میں ایک قسم کی قومی یکجہتی بھی پیدا کی۔
بہت سے ایرانیوں نے، جو پہلے حکومت کے ناقد تھے، اس حملے کے بعد ریاستی بیانیے کی حمایت شروع کی، اور امریکا و اسرائیل کو دشمن کے طور پر دیکھا۔
خطے میں موجود دیگر ریاستوں، خصوصاً خلیجی ممالک نے اس کارروائی کو گہری نظر سے دیکھا، اور اسرائیل سے تعلقات کے حوالے سے محتاط رویہ اپنایا۔

یہ جنگ اسرائیل کے لیے فوری کامیابی تو ثابت ہوئی، لیکن ماہرین کے مطابق اس کے طویل المدتی اثرات ابھی سامنے آنا باقی ہیں۔ خطرہ ہے کہ ایران مزید تیزی سے نیوکلیئر تیاریوں کی طرف بڑھے گا، یا اسرائیل اور امریکا کے مفادات کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ ساتھ ہی، خطے میں ایک نئے ہتھیاروں کی دوڑ اور عدم استحکام کا بھی خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
یہ کارروائی اس بات کی علامت ہے کہ اسرائیل اب خطے میں صرف دفاعی نہیں بلکہ جارحانہ حکمت عملی بھی اپنانے کے لیے تیار ہے، اور ایران کے خلاف ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدام کو ترجیح دے رہا ہے۔
جنگ کے نتائج اور اس کے سیاسی، سفارتی اور فوجی اثرات آنے والے مہینوں میں زیادہ واضح ہوں گے۔
…………………………………………………………………………………………………………
ٹائمز آف اسرائیل میں شائع یہ تحریر Emanuel Fabian کے ایک طویل مضمون کی تلخیص پر مشتمل ہے۔














