تہران: اسرائیلی حملوں میں جاں بحق فوجی کمانڈروں اور سائنسدانوں کی نمازِ جنازہ ادا، ہزاروں افراد شریک

ہفتہ 28 جون 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسرائیلی حملوں میں جاں بحق ہونے والے فوجی کمانڈروں اور سائنسدانوں سمیت 60 افراد کی نماز جنازہ ایران کے دارالحکومت تہران میں ادا کردی گئی۔

اس نماز جنازہ میں ہزاروں افراد سیاہ لباس پہن کر ایرانی جھنڈے لہراتے ہوئے شریک ہوئے اور اسرائیل اور امریکا کے خلاف نعرے بھی لگائے۔

شرکا نے انقلابی گارڈ کے سربراہ، دیگر اعلیٰ عسکری کمانڈرز اور جوہری سائنسدانوں کی تصاویر اٹھا کر سڑکوں پر نکل آئے۔

یہ بھی پڑھیے: ایران-اسرائیل جنگ بندی کیوں اور کیسے ہوئی؟

ایران میں شہادتیں اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ کے درمیان ہوئیں جس کا آغاز 13 جون کو ہوا تھا۔

ہفتے کے روز ہونے والی نماز جنازہ جنگ بندی کے بعد ایرانی اعلیٰ کمانڈرز کی پہلی عوامی تعزیتی تقریب تھی۔ ایران کی سرکاری ٹی وی کے مطابق ان میں 4 خواتین اور 4 بچوں سمیت کل 60 شہدا شامل تھے۔

ان میں انقلابی گارڈ کے چیف جنرل حسین سلامی، جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کے سربراہ جنرل امیر علی حاجی زادہ، میجر جنرل انقلابی گارڈ محمد باقری اور اعلیٰ جوہری سائنسدان محمد مہدی تہرانچی شامل تھے جن کی نماز جنازہ دوسرے شہدا کے ساتھ ادا کی گئی۔

ہفتے کے روز تہران میں حکام نے سرکاری دفاتر بند کر دیے تاکہ سرکاری ملازمین بھی اس تعزیتی اجتماع میں شرکت کر سکیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کراچی: سی ٹی ڈی کی بڑی کارروائی، بی ایل اے کے اہم کمانڈر سمیت 4 دہشتگرد ہلاک

پنڈی گھیب حملہ کیس: سزائے موت کالعدم، ملزمان کو فوری رہا کرنے کا حکم

عمران خان کے بیٹوں کو فوری ملاقات کی اجازت دی جائے، جمائمہ خان کی شہباز شریف سے اپیل

سلمان علی آغا کے متنازع رن آؤٹ پر ایم سی سی نے وضاحت جاری کردی

ایپل نے دوسری جنریشن کے ایئرپوڈز میکس 549 ڈالر میں متعارف کرا دیے

ویڈیو

اسلام آباد کا عید بازار جہاں خواتین کے لیے رنگ برنگے اسٹالز موجود ہیں

وی ایکسکلوسیو: نیو ورلڈ آرڈر کے بعد اگر ہم فیصلوں کی میز پر نہ ہوئے تو فیصلوں کا شکار ہو جائیں گے، خرم دستگیر

کیا آپ کی غلطیاں آپ کو جینے نہیں دے رہیں، دل کو ری سیٹ کیسے کریں؟

کالم / تجزیہ

پاک افغان تعلقات: ایک پہلو یہ بھی ہے

صحافت کا افتخار اور فیض صاحب کا مرثیہ

کھلے دل سے اعتراف اور قصہ ’رمضان عیدی‘کا