چین اور امریکا کی تجارت میں فرق

جمعہ 4 جولائی 2025
author image

وقار حیدر

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

یونیورسٹی آف ایریزونا میں تاحیات معلم کے عہدے پر’لاریئٹ پروفیسر‘ کام کرنے والے معمر فلسفی نوم چومسکی نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ حالیہ برسوں میں تباہی کا پیمانہ جانچنے کیلئے بنائی گئی گھڑی ’ڈوُمس ڈے کلاک‘ تباہی کیلئے مقرر کیے گئے پوائنٹ کے قریب پہنچ چکی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان اپنے خاتمے کیلئے آمادہ ہے۔

28 اپریل 2025 کی سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی طرف سے شائع ہونے والے نئے اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں عالمی فوجی اخراجات 2718 بلین ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ اس وقت دنیا میں ہزاروں ایٹمی بم موجود ہیں، جو کہ اس دنیا کو بار ہا ملیامیٹ کرنے یا تباہ کرنے کیلئے کافی ہیں۔

دنیا کے مختلف حصوں میں چھوٹے بڑے مسائل موجود ہیں، کہیں پر بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل ممکن بنایا جا رہا ہے تو کہیں بات جنگوں تک پہنچ گئی ہے۔

اور جنگوں کی بات کی جائے تو ایشیا اور ملحقہ ممالک ان جنگوں کا مرکز سالہاسال سے چلے آرہے ہیں۔ اور اس سے بھی بڑھ کر مشرق وسطی کم از کم گذشتہ 3 سالوں سے جنگوں کی لپیٹ میں ہے۔

یوں کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پورا ایشیا مغرب زدہ جنگوں کی بھینٹ چڑھ چکا ہے اور یہ سلسلہ تھمتا ہوا نظر نہیں آرہا ہے۔

افغانستان، عراق، لبیا، شام، یمن، لبنان، ایران جہاں بھی جنگ کا کاروبار ہوتا نظر آتا ہے اس کے پیچھے یورپی یونین یا امریکا ضرور نظر آتا ہے۔ سوال یہ بنتا ہے کہ آخر مغرب ہمیشہ جنگ کیلئے آمادہ کیوں نظر آتا ہے؟ ہمیشہ مغرب ہی مشرق پر حملہ آور کیوں ہوتا ہے اور اس سے مغرب کو کیا فائدہ ہے؟

اگر امریکا کی بات کی جائے تو امریکا اس وقت 2 قسم کی جنگوں سے دنیا کو متاثر کر رہا ہے۔ ایک تجارتی جنگ اور دوسری جنگ کی تجارت پہلی جنگ میں امریکا نے دنیا کے کاروباری نظام کو اپنی خود سری اور خود پسندی کے بھینٹ چڑھایا اور دوسری جنگ یعنی جنگوں کی تجارت میں امریکہ نے ہتھیار بنا کر دنیا کو بیچنے کا دھندہ عروج پر پہنچایا اور جن علاقے یہ ہتھیار نہ خریدینے چاہیں ان پر پراکسی وار کے ذریعے جنگوں کو مسلط کیا گیا اور پھر دنیا کے قوانین کو پس پشت ڈال کر عالمی قوانین کی دھجیاں اُڑا کر کئی ملکوں پر براہ راست حملے کئے اس کی تازہ مثال ایران ہے۔

ڈیفنس انڈسٹری یورپ کی ویب گاہ نے امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ سے لیَے گئے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2024 میں امریکا نے 318 بلین ڈالرسے زائد کا جنگی سازو سامان بیچا، جو 2023 کے مقابلے میں 29 فیصد زیادہ تھا۔

جس میں 23 بلین ڈالر کے ایف 16 ترکیہ کو ، 18 اعشاریہ 8 بلین ڈالر کے ایف 15 اسرائیل کو اور 2 اعشاریہ 5 بلین ڈالر کے ٹینک رومانیہ کو بیچےہیں۔

یہ صرف چند بڑی اعداد و شمار ہیں۔ شکاگو پالیسی رویو نامی تنظیم نے لکھا امریکہ دنیا میں سب سے بڑا ہتھیار بیچنے والا ملک ہے۔

اب بات کرتے ہیں عالمی دنیا میں امریکہ کے مدمقابل چین کی، یوں تو چین نے گذشتہ سال 150 کے قریب ممالک کے ساتھ تجارت کی اور اپنے تعلقات بڑھائے۔

سی جی ٹی این پر جاری ایک رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق چین نے بیرونی تجارت کے نئے محرکات کو زور و شور سے فروغ دیا ہے، جس سے اس شعبے میں اعلیٰ معیار کی ترقی کے ذریعے عالمی اقتصادی نمو کو تقویت ملی ہے۔

2024 میں، چین کی برآمدات کا حجم 25.45 کھرب یوآن (3.51 کھرب ڈالر) تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سال کی نسبت 7.1 فیصد زیادہ ہے، اور یہ لگاتار آٹھویں سال کی نمو میں بہتری کا اشارہ ہے۔

درآمدات کا حجم 18.39 کھرب یوآن (2.54 کھرب ڈالر) رہا، جس میں 2.3 فیصد کی شرح نمو ریکارڈ کی گئی، جو عالمی اوسط سے 1 فیصد زیادہ ہے۔

10 سال قبل صدر شی جن پھنگ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے  اجلاس کے عام مباحثے میں اپنی تقریر میں یہ خیال پیش کیا تھا کہ امن، ترقی، عدل، انصاف، جمہوریت اور آزادی تمام انسانیت کی مشترکہ اقدار اور اقوام متحدہ کے بلند مقاصد ہیں۔

ہمیں تمام انسانیت کی مشترکہ اقدار کو برقرار رکھنے اور بروئے کار لانے کی ضرورت ہے، ایک مساوی، منظم اور کثیر القطبی دنیا کی تشکیل دینے، جامع  اقتصادی عالمگیریت کو فروغ دینے کے لئے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے، اور دنیا کو امن، سلامتی، خوشحالی اور ترقی کے روشن مستقبل کی طرف لے جایا جائے۔

صدر شی جن پھنگ کی زیر قیادت چین آج بھی دوطرفہ تجارت، باہمی ترقی اور کثیر الجہتی تعاون اور امن بقائے باہمی پر عمل پیرا ہے۔

ذرا دیر کو سوچئے کہ ہتھیاروں کی تجارت پر خرچ ہونے والا اگر آدھا پیسہ بھی تعلیم و تربیت پر صرف کیا جاتا تو یہ دنیا یقینا امن کا گہوراہ بن جاتی۔

یونیورسٹی آف آکسفورڈ کا سالانہ بجٹ 3.8 بلین ڈالر ہے۔ ایک اندازے کے مطابق عالمی معیار کی ایک ایسی یونیورسٹی قائم کرنے کیلئے ابتدائی طور پر 20 بلین ڈالر چاہیے ہوں گے۔

آپ خود انداز لگا سکتے ہیں کہ صرف 1 سال کے جنگی اخراجات سے سیکڑوں یونیورسٹیاں قائم کی جا سکتی ہیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران کے خلاف جنگ اختتامی مرحلے کے قریب پہنچ چکی، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

معروف آسٹریلوی آل راؤنڈر ایشٹن ٹرنر ملتان سلطانز کے کپتان مقرر

آذربائیجان کے صدر کا مجتبیٰ خامنہ ای کو خط، ایران کا سپریم لیڈر بننے پر مبارکباد

ترکیہ کے لیے خطرہ بننے والے اشتعال انگیز اقدامات نہ کیے جائیں، ترک صدر نے ایران کو خبردار کردیا

ایران کے تیل پر قبضہ کرنے کی بات ابھی جلد بازی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ

ویڈیو

اسلام میں ذہنی سکون حاصل کرنے کے طریقے

تیل کی قیمتوں میں اضافہ، حالات کنٹرول سے باہر ہونے کا خدشہ، امریکا و اسرائیل کو بھاری نقصان، ٹرمپ کی چیخیں

نقاب میں شناخت، چارسدہ کی نوجوان کنٹینٹ کریئیٹر کی کہانی

کالم / تجزیہ

انڈین کرکٹ ٹیم مسلسل ناقابل شکست کیسے بنی؟

کیا یہ امریکا کی آخری جنگ ہے؟

موکھی متارا: کراچی کی ایک تاریخی داستان