کراچی کے علاقے انچولی میں پیش آنے والے ٹریفک حادثے میں ملوث جے ڈی سی کے سربراہ ظفر عباس کے ڈرائیور عرب رضا کو پولیس نے گرفتار کرکے گاڑی برآمد کر لی ہے۔ حادثے میں 2 موٹر سائیکل سوار نوجوان زخمی ہوئے تھے، جبکہ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج اور ویڈیوز نے ظفر عباس کے ابتدائی دعوؤں کی نفی کردی ہے۔
پولیس کے مطابق، گرفتار ڈرائیور سے ابتدائی بیان لیا جا رہا ہے، جبکہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں واضح طور پر ڈبل کیبن گاڑی کو رانگ وے سے دوسری سڑک پر جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ڈرائیور نے غلط سمت سے آتے ہوئے سڑک پار کرنے کی کوشش کی، جس کے دوران موٹر سائیکل سوار نوجوانوں کو ٹکر مار دی۔
پولیس حکام کا مزید کہنا ہے کہ حادثے کے بعد ڈرائیور گاڑی سمیت جائے وقوعہ سے فرار ہو گیا، جبکہ گاڑی میں 2 گارڈز بھی موجود تھے۔ واقعے کے فوراً بعد شہری بڑی تعداد میں جائے حادثہ پر جمع ہو گئے۔
مزید پڑھیں: کم عمر ڈرائیور نے 3 موٹر سائیکلوں کو کچل دیا، ’کیا پیسے والوں کو سب گناہ معاف ہیں؟‘
ویڈیو فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ موٹر سائیکل سوار نوجوان صحیح سمت میں آ رہے تھے، جنہیں گاڑی نے سامنے سے ٹکر ماری۔ ٹکر کی شدت سے نوجوان موٹر سائیکل سے اچھل کر فٹ پاتھ پر گر پڑے۔
ظفر عباس نے گزشتہ روز دعویٰ کیا تھا کہ حادثے کا سبب موٹر سائیکل کی ہیڈ لائٹ بند ہونا تھا، تاہم سی سی ٹی وی نے اس دعوے کو غلط ثابت کردیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ زخمی نوجوانوں کے اہلخانہ فی الحال مقدمہ درج نہیں کرا رہے، وہ بچوں کے علاج میں مصروف ہیں، اور قانونی کارروائی سے متعلق فیصلہ بعد میں کریں گے۔ تاہم، اہلخانہ مسلسل سمن آباد پولیس اسٹیشن سے رابطے میں ہیں۔
یاد رہے کہ یہ گاڑی ظفر عباس کے نام پر رجسٹرڈ ہے، اور حادثے میں زخمی ہونے والے دونوں نوجوان شدید زخموں کے باعث اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ واقعے پر سوشل میڈیا پر بھی شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔













