علاقائی لہجوں کی نقل کرنے والا اے آئی وائس ٹول متعارف، زبانیں خطرے میں کیوں؟

بدھ 16 جولائی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

برطانیہ کی ایک کمپنی نے ایسا نیا مصنوعی ذہانت (AI) ٹول تیار کیا ہے جو برطانیہ کے مختلف علاقائی لہجوں کو درست انداز میں نقل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ ٹول امریکی اور چینی کمپنیوں کے ٹولز سے زیادہ بہتر کارکردگی دکھاتا ہے۔

عام طور پر وائس اے آئی ماڈلز شمالی امریکا یا جنوبی انگلش لہجوں پر مبنی ڈیٹا سے تربیت پاتے ہیں، جس کی وجہ سے اکثر مصنوعی آوازیں ایک جیسی محسوس ہوتی ہیں۔ لیکن کمپنی سنتھیسیا  نے اس مسئلے کے حل کے لیے برطانوی علاقائی لہجوں پر مشتمل ایک نیا ڈیٹا بیس تیار کیا ہے، جس میں اسٹوڈیوز میں ریکارڈنگ اور آن لائن مواد شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: گوگل کی تازہ ترین اے آئی ماڈل جیمنی 2.5  کی خصوصیات کیا ہیں؟

یہ ڈیٹا  ایکسپریس وائس نامی نئے ٹول کی تربیت کے لیے استعمال کیا گیا، جو کسی فرد کی آواز کی نقل یا مکمل طور پر نئی مصنوعی آواز بنا سکتا ہے۔ اس ٹول کو تربیتی ویڈیوز، سیلز سپورٹ اور پریزنٹیشنز میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

کمپنی کے ریسرچ سربراہ یوسف یوسف کے مطابق آپ کمپنی کے سی ای او ہوں یا ایک عام فرد، آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا اصل لہجہ برقرار رہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ فرانسیسی بولنے والے صارفین بھی شکایت کرتے ہیں کہ زیادہ تر مصنوعی فرانسیسی آوازیں فرانسیسی کینیڈین لہجے کی ہوتی ہیں، نہ کہ فرانس سے تعلق رکھنے والے لہجے کی۔

یہ اس لیے ہوتا ہے کیونکہ زیادہ تر کمپنیاں جو یہ ماڈلز تیار کرتی ہیں، وہ شمالی امریکا میں واقع ہیں اور ان کے ڈیٹا سیٹس ان ہی کی آبادی پر مبنی ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اے آئی شیف برج خلیفہ کے ریستوران میں روایتی باورچیوں کی جگہ سنبھالے گا

کم اور غیر معروف لہجے سکھانا سب سے مشکل ثابت ہوتا ہے کیونکہ ان کے متعلق ریکارڈ شدہ مواد بہت کم دستیاب ہوتا ہے۔

برطانیہ کی ویسٹ مڈلینڈز پولیس کی ایک رپورٹ میں یہ خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ اسمارٹ اسپیکرز جیسے وائس ریکگنیشن سسٹمز برمنگھم کے ’برمی‘ لہجے کو درست طور پر نہیں سمجھ پاتے۔

دوسری طرف، امریکا کی کمپنی Sanas ایک ایسا ٹول تیار کر رہی ہے جو کال سینٹرز میں کام کرنے والے بھارتی اور فلپائنی عملے کے لہجوں کو غیر جانبدار کر دیتا ہے، تاکہ صارفین ان کی بات بہتر سمجھ سکیں۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ اقدام لہجہ پر مبنی امتیازی سلوک کو کم کرنے کے لیے ہے۔

زبانیں خطرے میں

ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل دور میں دنیا کی بہت سی زبانیں اور لہجے ناپید ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔

مصنفہ کیرن ہاؤ اپنی کتاب Empire of AI میں لکھتی ہیں ’دنیا میں موجود 7 ہزار سے زیادہ زبانوں میں سے تقریباً نصف اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسکو کے مطابق خطرے میں ہیں؛ صرف ایک تہائی کا آن لائن وجود ہے؛ 2 فیصد سے بھی کم زبانیں گوگل ٹرانسلیٹ میں شامل ہیں، OpenAI کے مطابق صرف 15 زبانیں ایسی ہیں جنہیں GPT-4 ماڈل 80 فیصد سے زائد درستگی کے ساتھ اسپورٹ کرتا ہے۔‘

مصنوعی ذہانت کے ماہر ہنری اجدر، جو حکومتوں اور مختلف کمپنیوں کے مشیر بھی ہیں، کہتے ہیں، زبان کے ماڈلز گفتگو کو یکساں بنا رہے ہیں، البتہ جتنے بہتر یہ ماڈلز ہوتے جائیں گے، اتنا ہی ان کے غلط استعمال کا خطرہ بھی بڑھتا جائے گا۔

سینتھیسیا کا یہ نیا ٹول مفت دستیاب نہیں ہوگا اور اس پر نفرت انگیز اور فحش مواد کے خلاف حفاظتی پابندیاں موجود ہوں گی، تاہم اس وقت پہلے سے کئی مفت، اوپن سورس وائس کلوننگ ٹولز دستیاب ہیں، جن پر ایسی پابندیاں نہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا میں سرکاری ڈیوائسز میں ‘ڈیپ سیک’ سمیت چین کی دیگر اے آئی اپیس کے استعمال پر پابندی

جولائی کے آغاز میں امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو کی آواز کی نقل کرتے ہوئے ایک اے آئی پیغام کئی وزرا کو بھیجا گیا، جس نے سیکیورٹی خدشات کو مزید بڑھا دیا۔

ہنری اجدر کہتے ہیں کہ پچھلے 9 سے 12 مہینوں میں اوپن سورس وائس ٹیکنالوجی کا شعبہ بہت تیزی سے آگے بڑھا ہے، اور یہی ایک بہت بڑا سیکیورٹی چیلنج ہے۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پیپلز پارٹی آزاد کشمیر میں ہار تسلیم کرے، بلاول بھٹو کو اپنے بیانیے اور کام پر توجہ دینی چاہیے، مریم نواز

جاپان اور یونیسیف کا پاکستان میں بچوں کے تحفظ اور فلاح کے لیے طویل شراکت داری جاری رکھنے کا عزم

افغان طالبان کا نیا ہتھکنڈا: کم عمر بچوں کو عسکری مقاصد کے لیے بھرتی کرنے اور انتہا پسندانہ تربیت دینے کا انکشاف

عام تعطیلات: اگست میں 7 چھٹیاں ملیں گی، کچھ کو 12 بھی

‘میں خوبصورتی کے بنائے گئے سانچے میں فٹ نہیں بیٹھتی’، کبریٰ خان

ویڈیو

امریکی کانگریس کے وفد کی اسحاق ڈار سے ملاقات، دو طرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

آزاد کشمیر میں عوامی مینڈیٹ کا ہر قیمت پر دفاع کریں گے، دھاندلی کے الزامات کی شفاف تحقیقات ہونی چاہیے، بلاول بھٹو

جنوب مغربی جاپان میں 7.1 شدت کا زلزلہ، سونامی الرٹ جاری

کالم / تجزیہ

28 جولائی 2010: وہ دن جب میرے قدموں تلے زمین نکل گئی

جاوید ہاشمی جواب دیں

فخر درانی۔ ایک دلیر صحافی