اداکارہ حمیرا اصغر کی پراسرار موت کی تحقیقات میں تیزی آگئی ہے۔ پولیس نے معاملے کی تفتیش کے لیے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی مدد حاصل کرلی ہے۔
ذرائع کے مطابق حمیرا اصغر کے موبائل فونز سی ٹی ڈی کے حوالے کر دیے گئے ہیں، جن کا ڈیٹا تجزیے کے لیے آئی ٹی ماہرین کی ٹیم کام کر رہی ہے۔ بعض ایپلی کیشنز کی پرائیویسی رکاوٹوں کو توڑنے کی بھی کوشش کی جا رہی ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اداکارہ کی سفری تاریخ معلوم کرنے کے لیے ایف آئی اے کو باضابطہ خط لکھ دیا گیا ہے۔ تحقیقات کے دوران ہمسایوں کے بیانات بھی قلمبند کیے جا چکے ہیں۔ موقع سے حمیرا اصغر کا پاسپورٹ اور شناختی کارڈ بھی برآمد ہوا ہے۔
پولیس کے مطابق اداکارہ کے مالک مکان، اسٹیٹ ایجنٹس اور قریبی دوست درشہوار سمیت 10 سے زائد افراد کے بیانات ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ درشہوار لاہور میں مقیم ہیں اور ان کا بیان فون پر ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے علاوہ عمارت کے چوکیدار، گھریلو ملازمہ، دوسری منزل کے مکینوں اور چوتھی منزل کے رہائشیوں سے بھی پوچھ گچھ کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: اداکارہ حمیرا اصغر کے کیس میں اہم پیشرفت، پولیس نے موبائل فونز اور لیپ ٹاپ سے ڈیٹا حاصل کرلیا
حکام کے مطابق حمیرا اصغر نے فلیٹ 2 مختلف اسٹیٹ ایجنٹس کے ذریعے حاصل کیا تھا، جن دونوں کے بیانات لے لیے گئے ہیں۔ اب تک کسی بھی بیان سے کوئی اہم یا غیر معمولی بات سامنے نہیں آئی۔ تمام افراد سے حمیرا کے ساتھ آخری رابطے اور باہمی تعلقات کے حوالے سے سوالات کیے گئے ہیں۔ پولیس نے اداکارہ کی ذاتی ڈائری سے حاصل ایک فون نمبر پر بھی رابطہ کرنے کی کوشش شروع کر دی ہے۔
خیال رہے کہ حمیرا اصغر کی لاش 8 جولائی کو اتحاد کمرشل کے ایک فلیٹ سے اس وقت ملی جب کرائے کی عدم ادائیگی پر مالک مکان کے عدالت پہنچنے پر عدالتی بیلف ان کے گھر پہنچا اور فلیٹ کا دروازہ نہ کھولنے پر دروازہ توڑا گیا تو اداکارہ کی لاش برآمد ہوئی۔
لاش کے پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لاش ڈی کمپوز کے آخری اسٹیج پر ہے جسے دیکھ کر اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اداکارہ کی موت قریباً 8 ماہ پرانی ہے۔














