دنیا بھر میں سیاسی پناہ (اسائلم) کے لیے درخواست دینے والے افراد کی فہرست میں پاکستانی شہری اب پہلے نمبر پر آچکے ہیں اور تشویش ناک امر یہ ہے کہ صرف برطانیہ میں ایک سال کے دوران سب سے زیادہ اسائلم درخواستیں پاکستانیوں کی جانب سے دی گئی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی برطانیہ سے سب سے زیادہ ڈی پورٹ کیے جانے والے افراد میں بھی پاکستانی سرفہرست ہیں۔
اوورسیز ایمپلائمنٹ ایسوسی ایشن کے نائب صدر محمد عدنان پراچہ کے مطابق پچھلے 3 برسوں کے دوران پاکستان کے معاشی اشاریے بہتر ضرور دکھائی دے رہے ہیں مگر اس کے باوجود بیرون ملک، خاص طور پر برطانیہ میں اسائلم لینے والوں میں پاکستانی شہریوں کی تعداد خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بیرون ملک سیاسی پناہ لینے والے پاکستانیوں کو پاسپورٹ جاری نہ کرنے کا فیصلہ منسوخ
عدنان پراچہ کہتے ہیں کہ زیادہ تر افراد تمام قانونی دستاویزات کے ساتھ بیرون ملک جاتے ہیں مگر اس کے لیے غیرقانونی راستہ بھی اختیار کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اکثر لوگ وزٹ ویزا پر جا کر اسائلم کے لیے درخواست دے دیتے ہیں۔ ان درخواستوں کی بنیاد مختلف ہو سکتی ہے جیسے کہ سیاسی عدم تحفظ، مذہبی امتیاز یا ذاتی دشمنی جیسے خطرات۔
عدنان پراچہ نے زور دیا کہ ان افراد کو روکنے کے لیے پاکستان میں بہتر روزگار، مناسب تنخواہیں اور محفوظ ماحول فراہم کرنا ضروری ہے کیونکہ یہ افراد ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں۔ جب تک ان کے لیے متبادل مواقع پیدا نہیں کیے جائیں گے غیرقانونی طریقے اختیار کیے جاتے رہیں گے۔
اسائلم کیسے لیا جاتا ہے؟
عدنان پراچہ نے بتایا کہ کسی بھی ملک میں اسائلم کی درخواست تب دی جاتی ہے جب درخواست گزار یہ ثابت کرے کہ اسے اپنے وطن واپس جانے کی صورت میں جان، آزادی یا دیگر بنیادی حقوق کو خطرہ ہے۔
مزید پڑھیے: یورپی یونین نے سیاسی پناہ کے قوانین سخت کر دیے
انہوں نے کہا کہ یہ خطرات سیاسی نظریات، مذہب، نسلی تعصب یا ذاتی دشمنی کی بنیاد پر ہو سکتے ہیں۔ متعلقہ ملک کی حکومت اس درخواست کو اپنے قوانین کے مطابق پرکھتی ہے اور اگر دلائل معقول ہوں تو اسائلم منظور کر لیا جاتا ہے۔