’ہم معذرت خواہ ہیں‘، پاکستانی شرٹ پہنے تماشائی کو نکالنے پر لنکاشائر نے معافی مانگ لی

جمعہ 1 اگست 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

لنکاشائر کاؤنٹی کرکٹ کلب نے انگلینڈ اور بھارت کے درمیان اولڈ ٹریفورڈ میں کھیلے جانے والے ٹیسٹ میچ کے آخری دن پاکستانی ٹیم کی کرکٹ جرسی پہنے ایک شائق کو اسٹیڈیم سے نکالنے پر معذرت کر لی ہے۔

 شائق نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کی تھی جس میں وہ سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ بات چیت کرتے نظر آ رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق لنکاشائر کلب کے ایک اسٹاف ممبر نے فاروق نذر سے کہا کہ وہ اپنی سبز پاکستانی جرسی کو ڈھانپ لیں، لیکن انکار کرنے پر پولیس نے انہیں اسٹیڈیم سے باہر نکال دیا۔ اس واقعے پر سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی گئی جس کے بعد کلب نے اس معاملے کی اندرونی تحقیقات شروع کیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی ٹی شرٹ پہنے تماشائی کو گراؤنڈ سے باہر کیوں نکالا گیا؟ لنکاشائر کلب نے ایکشن لے لیا

کلب نے اپنے جواب میں واضح کیا کہ شائق کو صرف پاکستان کی جرسی پہننے کی بنیاد پر نہیں نکالا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو صرف پاکستان کرکٹ شرٹ پہننے کی وجہ سے نکالنے کا ارادہ نہیں تھا۔ ساتھ ہی انہوں نے اس سے قبل پیش آنے والے ایک واقعے کا حوالہ دیا کچھ مداحوں کی جانب سے پاکستانی پرچم لہرانے پر پاکستانی اور بھارتی شائقین کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی تھی۔

بیان کے مطابق، ’ایک گروپ نے پاکستان کا قومی پرچم لہرا یا، جس سے قریب کھڑے بھارتی شائقین کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی۔ اس موقع پر ہمارے اسٹیورڈز نے احترام سے صورتحال کو قابو پایا اور پرچم نیچے کرنے کی درخواست کی، جس پر وہ فوراً رضا مند ہو گئے‘۔

کلب نے بتایا کہ فاروق نذر سے ان کی جرسی کو ڈھانپنے کی درخواست ایک نگران نے کی تھی تاکہ ممکنہ تناؤ سے بچا جا سکے، اور کئی بار نرمی سے کہا گیا، مگر پولیس کی مداخلت کے بغیر نذر نہ مانے۔ لنکاشائر نے کہا کہ اس پس منظر کی وجہ سے آخری میچ کے دوران حفاظتی نقطہ نظر اپنایا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی شرٹ پر پابندی؟ پی سی بی سے آئی سی سی میں آواز اٹھانے کا مطالبہ

بیان میں مزید کہا گیا کہ ’اسٹینڈ کے نگران نے نرمی سے نذر سے درخواست کی کہ اپنی شرٹ ڈھانپیں تاکہ ان کی حفاظت یقینی بن سکے اور کشیدگی سے بچا جا سکے لیکن نگران اور ریسپانس ٹیم کی متعدد نرم درخواستوں کے باوجود، نذر نے تعاون سے انکار کیا‘۔

واضح رہے کہ یہ واقعہ ایک ایسے وقت پر پیش آیا ہے جب بھارت اور پاکستان کے درمیان سیاسی کشیدگی عروج پر ہے، خصوصاً جون کے آغاز میں ہونے والی مختصر سرحدی جھڑپوں کے بعد اس تناؤ کا اثر دونوں ملکوں کے کرکٹ بورڈز، بی سی سی آئی اور پی سی بی کے تعلقات پر بھی پڑا ہے، پاکستان اور بھارت کی کرکٹ ٹیموں کے مابین درمیان 2012-13 کے بعد کوئی باقاعدہ سیریز نہیں ہوئی، جبکہ ٹیسٹ کرکٹ تو 2007-08 سے بند ہے۔

آئی سی سی ایونٹس میں بھی دونوں ممالک کے درمیان میچز کے لیے حالیہ برسوں میں غیر جانبدار مقام کو ترجیح دی گئی ہے تاکہ کسی ایک ملک کی میزبانی کا تنازع نہ پیدا ہو۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران نے پاکستانی پرچم بردار مزید 20 جہازوں کو ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی، اسحاق ڈار کا انکشاف

مشرق و سطیٰ کشیدگی: آج اسلام آباد میں پاکستانی، سعودی، ترکیہ اور مصری وزرائے خارجہ کی اہم بیٹھک ہوگی

لاہور جنرل اسپتال میں کامیاب طبی کارروائی، 3 ماہ کے بچے کے معدے سے لوہے کا واشر نکال لیا گیا

خطے کی صورتحال پر چہار فریقی اجلاس،  مصری وزیر خارجہ پاکستان پہنچ گئے

’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘

ویڈیو

عمران خان کی آنکھ نہیں بلکہ پاکستان کے بارے میں ان کی سوچ اور نظر ہی خراب ہے، رکن خیبر پختونخوا اسمبلی سونیا شاہ

اسرائیل میں نیتن یاہو پر دباؤ، جے شنکر کی وجہ سے مودی حکومت پھر متنازع صورتحال میں مبتلا

گلگت بلتستان، جہاں پاک فوج کے منصوبے ترقی کی نئی داستان لکھ رہے ہیں

کالم / تجزیہ

مانیں نہ مانیں، پاکستان نے کرشمہ تو دکھایا ہے

ٹرمپ کے پراپرٹی ڈیلر

کیا تحریک انصاف مکتی باہنی کے راستے پر چل رہی ہے؟