مدراس ہائیکورٹ نے سابق بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان مہندر سنگھ دھونی کے دائر کردہ 100 کروڑ روپے کے ہرجانہ کیس میں ٹرائل شروع کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ یہ مقدمہ گزشتہ 10 سال سے زیر التواء ہے اور اس میں دھونی نے زی میڈیا کارپوریشن، صحافی سدھیر چودھری، ریٹائرڈ آئی پی ایس افسر جی سمپت کمار اور نیوز نیشن نیٹ ورک کو فریق بنایا ہے۔
مقدمے کا پس منظر
دھونی نے یہ مقدمہ 2014 میں اس وقت دائر کیا تھا جب ان کا نام انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) اسپاٹ فکسنگ اور بیٹنگ اسکینڈل میں جوڑا گیا تھا۔ دھونی کا موقف ہے کہ ان کا اسکینڈل سے کوئی تعلق نہیں تھا، مگر ملزمان نے جھوٹے الزامات کے ذریعے ان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا، جس کے لیے وہ 100 کروڑ روپے کے ہرجانے کے حقدار ہیں۔
عدالتی کارروائی کی تفصیلات
دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق، دھونی نے عدالت کو آگاہ کیا ہے کہ وہ اس سال 20 اکتوبر سے 10 دسمبر کے درمیان گواہی دینے اور جرح کے لیے دستیاب ہوں گے۔ جسٹس سی وی کارتھی کیین نے ایک ایڈوکیٹ کمشنر کو مقرر کیا ہے جو چنئی میں فریقین کی باہمی سہولت کے مطابق کسی جگہ پر دھونی کا بیان ریکارڈ کرے گا۔ عدالت نے وضاحت دی کہ یہ اقدام اس لیے اٹھایا جا رہا ہے تاکہ دھونی کی عدالت میں موجودگی سے ممکنہ رش اور بدنظمی سے بچا جا سکے۔
آئندہ کی پیش رفت
اگرچہ مقدمہ ایک دہائی سے زیر سماعت ہے، لیکن عدالت کی جانب سے ٹرائل کے آغاز کا حکم اس معاملے میں بڑی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔ کرکٹ اور قانونی حلقوں میں یہ دیکھنا دلچسپی کا باعث ہوگا کہ آئندہ سماعتوں میں فریقین کے دلائل کس سمت اختیار کرتے ہیں اور دھونی کس حد تک اپنے موقف کو ثابت کرنے میں کامیاب رہتے ہیں۔














