امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تجارتی مشیر پیٹر ناوارو نے بھارت پر روسی تیل کی خریداری کے حوالے سے شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت’کریملن کے لیے لانڈری‘ کا کردار ادا کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت روسی تیل انڈین پیداوار کہہ کر باقی ملکوں کو بیچتا ہے، جنگ بندی کا کریڈٹ کیوں نہیں دیا؟ ٹرمپ مودی حکومت پر غصہ
ان کا کہنا ہے کہ نئی دہلی روس سے تیل خرید کر ریفائننگ کے ذریعے منافع کماتا ہے، جس سے یوکرین جنگ کو تقویت مل رہی ہے۔
ناوارو نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ 2022 میں یوکرین جنگ سے پہلے بھارت روس سے نہ ہونے کے برابر تیل خریدتا تھا، مگر اب یہ شرح 30 سے 35 فیصد تک جا پہنچی ہے۔

ان کے مطابق بھارت کو روسی تیل کی ضرورت نہیں، یہ محض منافع کمانے کا منصوبہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کا موجودہ کردار امن پیدا نہیں کر رہا بلکہ جنگ کو طول دے رہا ہے۔
ناوارو نے بھارت کو ’مہاراجہ آف ٹیرفس‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا پر بھارتی برآمدات سے تجارتی خسارہ بڑھ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:صدر ٹرمپ کی نئی اقتصادی حکمت عملی: روسی تیل پر پابندیاں، خود امریکا کو خطرہ؟
انہوں نے یاد دلایا کہ صدر ٹرمپ نے حال ہی میں بھارتی درآمدات پر 25 فیصد ٹیرف لگایا تھا جسے 27 اگست سے بڑھا کر 50 فیصد کیا جا رہا ہے۔
بھارتی ردِعمل
دوسری جانب بھارتی وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر، جو ان دنوں ماسکو کے دورے پر ہیں، نے امریکی الزامات کی تردید کی ہے۔

یاد رہے کہ پیٹر ناوارو اس سے قبل بھی ایک مضمون میں بھارت کے روسی تیل کے کاروبار کو ’موقع پرستی‘ اور ’دنیا کی کوششوں کے لیے نقصان دہ‘ قرار دے چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ بھارتی کاروبار سے حاصل رقوم روسی اسلحہ سازی میں استعمال ہوتی ہیں جبکہ امریکی و یورپی ٹیکس دہندگان کو یوکرین کی مدد کے لیے اربوں ڈالر خرچ کرنے پڑتے ہیں۔












