جہیز کی رقم برآمدگی کیس، سپریم کورٹ نے معاملہ لارجر بینچ کو بھجوا دیا

بدھ 27 اگست 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ میں جہیز کی رقم برآمدگی سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔

دورانِ سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالت کے پہلے 2 فیصلے موجود ہیں اور سوال یہ ہے کہ کیا 3 رکنی بینچ اس معاملے کو سن سکتا ہے؟

یہ بھی پڑھیں:قتل کیس میں ویڈیو لنک کے ذریعے راضی نامے کی تصدیق سے سپریم کورٹ کا انکار

عدالتی معاون حافظ عرفات نے مؤقف اختیار کیا کہ اس کیس کے لیے لارجر بینچ تشکیل دینا ضروری ہے کیونکہ نکاح نامے کے پیراگراف نمبر 16 پر قانونی اختلاف موجود ہے۔

ان کے مطابق پیراگراف نمبر 13 حق مہر کے بارے میں ہے جبکہ پیراگراف نمبر 16 خاوند کی وراثت میں سے اہلیہ کے حصے سے متعلق ہے۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ طلاق کی صورت میں اہلیہ کو حق مہر اور خاوند کی وراثت میں سے حصہ، دونوں ملیں گے۔

حافظ عرفات نے یہ بھی کہا کہ اس معاملے پر 2022 میں جسٹس منصور علی شاہ اور 2024 میں عدالت کے فیصلے موجود ہیں، اس لیے اب بڑے بینچ کی رائے ناگزیر ہے۔

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کیس کو مزید سماعت کے لیے لارجر بینچ کو بھجوا دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

فیفا کا بڑا فیصلہ، امریکی فٹبالر بالوگن کا ریڈ کارڈ واپس، صدر ٹرمپ کا خصوصی اظہار تشکر

ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ: آسٹریلیا نے انگلینڈ کو شکست دے کر 7 ویں بارعالمی چیمپیئن کا تاج اپنے سر سجا لیا

خاتون کو بچاتے ہوئے گولی لگنے سے شہید ہونے والے گروپ کیپٹن عاصم کا قاتل گرفتار کرلیا گیا

آئی فون کو ٹکر دینے کی تیاری، سام سنگ گلیکسی ایس 27 میں زبردست فیچر متعارف

کل 6 جولائی سے ملک بھر میں موسلا دھار بارشیں، این ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کردیا

ویڈیو

پاکستان اور ترکیہ معاشی شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جائیں گے، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار

’بھارت نے پانی روکا تو پاکستان بھارت کی لائف لائن بند کر دے گا‘

’مریم کی دستک‘ ایپ کیا ہے اور اس کے ساتھ کتنے ادارے منسلک ہیں؟

کالم / تجزیہ

ریڈیو کا روشن باب: بھائی لال اور اوم پرکاش

بریسٹ کینسر: خوف نہیں، آگاہی کی ضرورت

بھارتی آبی دہشتگردی کا پاکستان کیسے جواب دے؟