’دل آزاری پر معذرت‘، پشاور میں ٹک ٹاکرز کے خلاف کریک ڈاؤن کیوں؟

جمعرات 11 ستمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کیپٹل سٹی پولیس پشاور نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک پر مبینہ فحش، قابلِ اعتراض اور غیر اخلاقی مواد پھیلانے والوں کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن کا آغاز کیا ہے اور 7 ایف آئی آر درج کرکے خواتین سمیت 10 افراد کو گرفتار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:لڑکی کا روپ دھارنے والا صوابی کا نوجوان ٹک ٹاکر گرفتار، حقیقت بے نقاب

ایس ایس پی آپریشنز مسعود احمد بنگش نے پولیس کریک ڈاؤن کی تصدیق کی اور بتایا کہ پولیس کو سوشل میڈیا پر فحاشی کے حوالے سے شکایات مل رہی تھیں جس کی بنا پر کارروائی عمل میں لائی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ چند روز میں پشاور کے تھانوں میں 7 ایف آئی آر درج کرکے اب تک خواتین اور خواجہ سرا سمیت 10 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق شاہ پور، گلبہار، خزانہ، کوتوالی اور یکہ توت تھانوں کی حدود میں کارروائیاں کی گئیں جہاں مقدمات درج کرکے عشرت عرف کنگ خان، ثنا عرف کوکو، شیراز ولد شیر زادہ، علی شاہ عرف 007 دختر داؤد شاہ، سونیا شاہ زوجہ داؤد شاہ، خواجہ سرا سجل خان اور نور زادہ عرف لالے ولد نواب خان کو گرفتار کیا گیا۔

’ہمارا مقصد سزا دینا نہیں اصلاح کرنا ہے‘

ایس ایس پی نے بتایا کہ کریک ڈاؤن عوامی شکایات پر کیا گیا اور یہ عمل جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کارروائی کا مقصد کسی کو سزا دینا نہیں بلکہ اصلاح کرنا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گرفتار افراد نے آئندہ ایسا نہ کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:جوئے کی پروموشن کا الزام: ڈکی بھائی کے بعد مزید 2 ٹک ٹاکرز این سی سی آئی اے کے نشانے پر، نوٹسز جاری

پشاور پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ پشاور میں سماجی برائیوں کے خلاف جاری مہم کے دوران گن کلچر، ہوائی فائرنگ اور اسلحہ نمائش کے خلاف بھی ایکشن لیا گیا۔

اس دوران گلبہار، یکہ توت، کوتوالی، ریگی، انقلاب، ناصر باغ اور خزانہ میں کارروائی کرتے ہوئے 22 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔

پولیس حکام نے واضح کیا کہ غیر اخلاقی مواد اپ لوڈ کرنے والوں اور گن کلچر کو فروغ دینے والوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائیاں جاری رہیں گی تاکہ شہریوں کو پرامن اور محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔

’کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو معذرت‘

پشاور پولیس نے ٹک ٹاکرز کی مختلف ویڈیوز بھی جاری کی ہیں جن میں 2 حصے ہیں۔

ویڈیوز کے شروع میں ان کی سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی گئی ویڈیوز دکھائی گئی ہیں جن میں کچھ قابلِ اعتراض یا نازیبا حرکتیں شامل ہیں، جبکہ دوسرے حصے میں متعلقہ ٹک ٹاکر کی جانب سے معذرت کی ویڈیو ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ٹک ٹاکر سامعہ حجاب اغوا کیس، ملزم کی ضمانت منظور

ایک مختصر ویڈیو میں علیشاہ 007 نامی خاتون ٹک ٹاکر بتا رہی ہیں کہ انہیں گلبہار پولیس نے گرفتار کیا ہے اور وہ اپنی ویڈیوز پر معافی مانگ رہی ہیں۔

ویڈیو میں وہ کہتی ہیں کہ وہ آئندہ ایسی ویڈیوز اپ لوڈ نہیں کریں گی اور اگر کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو اس پر بھی معافی چاہتی ہیں۔

پولیس نے باقاعدہ گرفتار ٹک ٹاکرز کی ویڈیوز جاری کی ہیں جن میں سب دوبارہ ایسی حرکات نہ کرنے کی یقین دہانی کر رہے ہیں۔

ٹک ٹاک پر مبینہ فحاشی کے خلاف ہائیکورٹ میں درخواست

کچھ دن پہلے نوشہرہ سے تعلق رکھنے والے ثاقب الرحمن نامی شہری نے پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی ہے جس میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ ٹک ٹاک پر فحاشی پھیلائی جا رہی ہے جس سے معاشرہ خراب ہو رہا ہے۔

درخواست کے مطابق ٹک ٹاکرز سوال جواب کا مقابلہ کرتے ہیں اور ہارنے والے کو نازیبا سزائیں دی جاتی ہیں، جبکہ فحش گالیاں بھی دی جاتی ہیں۔ درخواست پر ابھی تک سماعت نہیں ہوئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بلاول بھٹو کی سابق آسٹرین شہزادی سے شادی کی خبریں گرم، صدر زرداری بھی ویانا پہنچ گئے

پمز سانحہ: سی سی ٹی وی فوٹیج میں بچوں کو بچانے کی کوششوں سے متعلق اہم تفصیلات سامنے آگئیں

ہاکی نیشنز کپ 2026: پاکستان انڈر 21 کی بیلاروس کو 1-4 سے شکست، ٹورنامنٹ میں پہلی شاندار فتح

پاک انگلینڈ میچ کے دوران عمران خان کے بیٹوں کا انٹرویو بڑی غلطی ہے، اسپورٹس صحافیوں کا ردعمل

بھارتی جیلوں سے رہائی کے بعد 25 پاکستانی ماہی گیر واہگہ بارڈر کے ذریعے وطن واپس پہنچ گئے

ویڈیو

پاک انگلینڈ میچ کے دوران عمران خان کے بیٹوں کا انٹرویو بڑی غلطی ہے، اسپورٹس صحافیوں کا ردعمل

ہمارا نظامِ صحت سڑ چکا، سانحہ پمز کی انکوائری رپورٹ سے تمام حقائق سامنے آجائیں گے، وزیر صحت مصطفیٰ کمال

وزیر داخلہ محسن نقوی کا کراچی پاسپورٹ آفس اور ایئرپورٹ کا دورہ، سہولیات میں اضافے کا اعلان

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں