روس کا مسئلہ کشمیر شملہ معاہدے اور لاہور ڈیکلیریشن کے تحت حل کرنے پر زور، پاک سعودی دفاعی معاہدے کی حمایت

منگل 23 ستمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان میں روسی فیڈریشن کے سفیر البرٹ پی خورئیو نے کہا ہے کہ روس کا مؤقف ہے کہ مسئلہ کشمیر شملہ معاہدے اور 1999 کے لاہور ڈیکلیریشن کے تحت حل ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مئی میں پاک بھارت تنازع کے دوران روس نے توازن اختیار کیا اور اسی پالیسی پر قائم ہے۔

روسی سفیر نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ دفاعی معاہدے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے کی ایک وجہ اسرائیل کی طرف سے قطر پر حالیہ حملہ بھی ہے۔

انہوں نے امریکا کی جانب سے بگرام ایئربیس دوبارہ حاصل کرنے کے دعوؤں کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ نوآبادیاتی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے مطابق اگر امریکا واقعی افغانستان میں مثبت کردار ادا کرنا چاہتا ہے تو اسے افغان عوام کے 10 ارب ڈالرز کے منجمد اثاثے بحال کرنے چاہییں۔

مزید پڑھیں: پنجاب اسمبلی میں پاک سعودی دفاعی معاہدے کے حق میں قرارداد جمع

انہوں نے کہا کہ پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی کے لیے اسلام آباد اور ماسکو کے درمیان مذاکرات جاری ہیں اور روسی حکومت پاکستان کی اس پالیسی کو سراہتی ہے کہ وہ بیرونی دباؤ کے باوجود یوکرین تنازعے پر غیر جانبداری اپنائے ہوئے ہے۔

خورئیو کے مطابق پاکستان کا مؤقف روسی موقف سے ہم آہنگ ہے کیونکہ دونوں ممالک اس تنازع کے سفارتی حل کے حامی ہیں۔

روسی سفیر نے مزید کہا کہ پاکستان میں سروائیکل کینسر کی ویکسین کے حوالے سے تاحال کوئی بڑی پیشرفت نہیں ہوئی، تاہم چند فارما سوئیٹیکل کمپنیوں کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ چین کے ساتھ روس کے تعلقات خوشگوار سطح پر ہیں جبکہ یوکرین کے معاملے پر امریکا سمجھداری دکھا رہا ہے، تاہم یورپی ممالک جارحانہ رویہ اپنا رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان سعودی عرب باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیا معنی رکھتے ہیں؟

خورئیو نے بتایا کہ یوکرین گزشتہ چند ماہ میں روس پر ڈرون حملوں میں اضافہ کر رہا ہے اور یورپی امداد کا فائدہ اٹھا کر اپنی فوج کو دوبارہ منظم اور مسلح کرنا چاہتا ہے۔

ان کے مطابق خصوصی فوجی آپریشن کے آغاز سے اب تک یوکرین کو قریباً 70.2 ارب ڈالرز کی امداد دی جا چکی ہے۔ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلینسکی کی آئینی مدت 2024 میں ختم ہو چکی ہے اور وہ عالمی رہنماؤں سے ملاقاتوں کے ذریعے اپنی سیاسی حیثیت برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

روسی حکام کے مطابق ماسکو کی افواج کا یورپ یا ہالینڈ میں اہداف کو نشانہ بنانے کا کوئی ارادہ نہیں اور روس کو پولینڈ یا نیٹو کے دیگر ممالک کے ساتھ کشیدگی بڑھانے میں بھی کوئی دلچسپی نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بانی پی ٹی آئی کے بیٹوں کے نائیکوپ فعال، ویزے کا بھی کوئی مسئلہ نہیں، تحریک انصاف کا منفی پروپیگنڈا بے نقاب

دیامیر بھاشا ڈیم کا 4500 میگاواٹ بجلی منصوبہ منسوخ نہیں ہوا، وزارتِ اقتصادی امور نے گمراہ کن دعوؤں کو مسترد کردیا

جنوبی خیبر پختونخوا میں ریاستی رِٹ کی بحالی، متوازی طاقت کے مراکز کے خلاف فیصلہ کن کارروائی

’دنیا کے رنگ نرالے‘ امریکا میں روبوٹ ویٹر نے بھی ٹِپ مانگ لی

ایلینز کی تلاش میں انسان کا سب سے بڑا قدم، دنیا کی طاقتور ترین دوربین کی تیاری جاری

ویڈیو

زینب اور فاطمہ کو بی ایل اے نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا، وزیر داخلہ بلوچستان ضیا لانگو کی متاثرہ خواتین کے ہمراہ پریس کانفرنس

میڈیا طلبہ کی عملی تربیت، وی نیوز میں انٹرن شپ مکمل ہونے پر تقریب

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں