پنجاب میں قبضے ختم کرانے کے لیے خصوصی عدالتیں قائم ہوں گی، فیصلے 90 دن میں ہوں گے: وزیراعلیٰ

جمعرات 25 ستمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے اعلان کیا ہے کہ صوبے میں نجی زمینوں پر  قبضے واگزار کرانے کے لیے خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں گی، جو 90 دن کے اندر کیسز کا فیصلہ سنائیں گی۔

پیرا فورس کی پہلی پاسنگ آؤٹ پریڈ کے موقع پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ اقدام قبضہ مافیا کے خلاف تاریخی پیشرفت ہوگی، خاص طور پر غریبوں، بیواؤں اور یتیموں کی جائیدادوں کے تحفظ کے لیے۔ ان کے مطابق زمین پر قبضہ کرنے والوں کو 10 سال قید اور بھاری جرمانے کی سزائیں دی جائیں گی۔

حکومتی ذرائع کے مطابق اس مقصد کے لیے پنجاب انفورسمنٹ آف ویمن پراپرٹی ترمیمی بل کا مسودہ تیار کیا جا رہا ہے، جسے دسمبر تک پنجاب اسمبلی سے منظور کروانے کا ہدف ہے۔

بل میں عدالتوں کی تعداد، دائرہ کار اور ٹائم فریم کی وضاحت کی جائے گی۔ خصوصی عدالتیں صوبے کے تمام اضلاع میں قائم ہوں گی اور انہیں زمین قبضہ کیسز کے فوری فیصلے کا اختیار حاصل ہوگا۔

مزید پڑھیں: مریم نواز کا جنوبی پنجاب میں اپنا سیکریٹریٹ لگانے کا اعلان

فی الحال پیرا فورس کے پاس صرف سرکاری زمین واگزار کرانے کا اختیار ہے، تاہم ترمیم کے بعد نجی زمینوں پر قبضے کے خلاف بھی کارروائی ممکن ہو جائے گی۔

پیرا فورس کا پس منظر

پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (پیرا فورس) جولائی 2025 میں قائم کی گئی تھی۔ اس کا بنیادی مقصد مہنگائی، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز تجاوزات کے خلاف کارروائیاں کرنا ہے۔

وزیراعلیٰ مریم نواز نے اس موقع پر کہا تھا کہ پیرا فورس ظالموں کے لیے دہشت کی علامت ہوگی۔ فورس میں 8 ہزار اہلکار شامل ہیں جو صوبے کے ہر ضلع اور تحصیل میں تعینات ہوں گے۔

زمینوں پر قبضے کے پہلے بھی قوانین اور ادارے موجود ہیں، اگر 90 دن میں فیصلے ہوئے تو عوام کو ریلیف ملے گا۔ ماہرینِ قانون

مزید پڑھیں: مراد علی شاہ بہتر وزیراعلیٰ ہیں، مریم نواز تو لاہور میں صدر کا استقبال نہیں کرتیں، ندیم افضل چن

قانونی ماہر ایڈووکیٹ حسن مجید نے وی نیوز سے گفتگو میں کہا کہ یتیموں اور بیواؤں کی زمینوں پر قبضے کے حوالے سے پہلے بھی قوانین اور ادارے موجود ہیں، جیسا کہ پنجاب میں محتسب کا نظام، جس کے ذریعے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔

تاہم، اگر حکومت نئی خصوصی عدالتیں قائم کرتی ہے اور ان میں واقعی 90 دن کے اندر فیصلے ہوتے ہیں تو عوام کو بڑا ریلیف ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ عدالتیں آزاد اور سیاسی دباؤ سے محفوظ ہونی چاہییں۔

ایڈووکیٹ ناصر بشیر کے مطابق خصوصی عدالتوں کا قیام آئین کے آرٹیکل 175 کے تحت ممکن ہے، مگر قبضہ مافیا کے اثرورسوخ کو مدِنظر رکھتے ہوئے پیرا فورس کو مزید وسائل اور قانونی تحفظ درکار ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ بل یقیناً گڈ گورننس کی سمت ایک قدم ہے، لیکن اس کی کامیابی عمل درآمد پر منحصر ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

صومالی قزاقوں کو تاوان ادا نہیں کریں گے، پاکستان عالمی قوانین کا پابند ہے، اسحاق ڈار

ملک کے مختلف علاقوں میں 30 اگست سے 4 ستمبر تک بارشوں کی پیشگوئی، الرٹ جاری

وزیراعظم آزاد کشمیر افتخار گیلانی کا بند راستے کھولنے اور انٹرنیٹ سروس کی بحالی کا اعلان، گرین بس سروس کا افتتاح کردیا

بانی پی ٹی آئی کے بیٹوں کے نائیکوپ فعال، ویزے کا بھی کوئی مسئلہ نہیں، تحریک انصاف کا منفی پروپیگنڈا بے نقاب

دیامیر بھاشا ڈیم کا 4500 میگاواٹ بجلی منصوبہ منسوخ نہیں ہوا، وزارتِ اقتصادی امور نے گمراہ کن دعوؤں کو مسترد کردیا

ویڈیو

زینب اور فاطمہ کو بی ایل اے نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا، وزیر داخلہ بلوچستان ضیا لانگو کی متاثرہ خواتین کے ہمراہ پریس کانفرنس

میڈیا طلبہ کی عملی تربیت، وی نیوز میں انٹرن شپ مکمل ہونے پر تقریب

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں