سپر ٹیکس سے متعلق قانون سازی میں تضاد، سپریم کورٹ میں اہم نکات سامنے آگئے

پیر 29 ستمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ کے 5 رکنی آئینی بینچ نے سپر ٹیکس سے متعلق مختلف کمپنیوں کی درخواستوں پر سماعت کی۔

جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں قائم بینچ میں جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر سمیت دیگر جج صاحبان شامل تھے۔

سماعت کے دوران درخواست گزار کمپنیوں کے وکلا امتیاز رشید صدیقی اور شہزاد عطا الہی نے اپنے دلائل پیش کیے۔

یہ بھی پڑھیں: موٹر وے اور جی ٹی روڈ ٹول ٹیکس میں اضافہ بھتے کی مانند ہے، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن

امتیاز رشید صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان جیسے ملک میں سپر ٹیکس لگانے کا فیصلہ خود سوالیہ نشان ہے اور اس پر نظرِ ثانی ناگزیر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ لاہور ہائیکورٹ کے سنگل اور ڈویژن بینچز پہلے ہی ٹیکس دہندگان کو ریلیف دے چکے ہیں، اور آئین پاکستان بھی شہریوں کو اس سلسلے میں تحفظ فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یکم جولائی 2022 سے انہیں وہ ٹیکس بھی دینا پڑ رہا ہے جو وہ گزشتہ سال پہلے ہی ادا کرچکے ہیں، جو آئینی طور پر درست نہیں۔

مزید پڑھیں: ایف بی آر کی ٹیکس دہندگان کیخلاف ایف آئی آرز، گرفتاریاں اور ٹرائلز غیر قانونی قرار، سپریم کورٹ کا بڑا، تفصیلی فیصلہ جاری

جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ سندھ سمیت مختلف صوبوں سے 2023 کے تمام کیسز اسلام آباد ہائیکورٹ میں منتقل ہوئے ہیں۔

وکیل شہزاد عطا الہی نے عدالت کو بتایا کہ 10 جون 2022 کو پیش کیا گیا بل صرف بینکوں کے لیے تھا، مگر 24 جون کو اچانک 13 مزید سیکٹرز کو بھی شامل کردیا گیا۔

ان کے مطابق اس وقت کے وفاقی وزیر خزانہ نے بجٹ تقریر میں کہا تھا کہ 30 کروڑ روپے سے زائد آمدنی پر 10 فیصد سپر ٹیکس عائد ہوگا۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ: سپر ٹیکس کا ایک روپیہ بھی بے گھر افراد کی بحالی پر خرچ نہیں ہوا، وکیل مخدوم علی خان کا دعویٰ

جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ انہیں تو اس وقت کے وفاقی وزیر پر ترس آرہا ہے۔

شہزاد عطا الہی نے مزید کہا کہ ایف بی آر کے پاس محض 116 کمپنیوں کا ڈیٹا ہے جو اسٹیٹ بینک نے فراہم کیا، جبکہ حقیقت میں ملک میں سینکڑوں بڑی کمپنیاں موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں نے اپٹما میں 500 کمپنیوں کی فہرست دیکھی ہے لیکن حکومت کے پاس صرف 20 فیصد کمپنیوں کا ریکارڈ ہے۔

مزید پڑھیں: ٹیکس کا سارا بوجھ عوام پر، لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کریں گے تو کام چلیں گے، سپریم کورٹ

شہزاد عطا الہی کے مطابق دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت کے پاس جن کمپنیوں کا ڈیٹا موجود ہے وہ خود ہر 3 ماہ بعد اپنی تفصیلات شائع کرتی ہیں۔

عدالت نے شہزاد عطا الہی کے دلائل جاری رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت کل صبح ساڑھے 11 بجے تک ملتوی کردی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وینیزویلا پر امریکی حملے کے بعد ’جیک رائن‘ سیریز کا کلپ کیوں وائرل ہوا؟

ریٹائرمنٹ کے بعد لیونل میسی کیا کرنا پسند کریں گے؟ فٹبالر نے خود بتادیا

پی ٹی آئی کا 8 فروری کو کوئی شو نہیں ہوگا، یہ پہیہ جام ہڑتال کی صلاحیت نہیں رکھتے، رانا ثنااللہ

پنجاب میں دھند کا راج برقرار، مختلف موٹرویز بند

امریکا کے بغیر روس اور چین کو نیٹو کا کوئی خوف نہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

ویڈیو

خیبرپختونخوا میں گورنر راج، کیا سہیل آفریدی کی چھٹی کا فیصلہ ہوگیا؟

تبدیلی ایک دو روز کے دھرنے سے نہیں آتی، ہر گلی محلے میں عوام کو متحرک کریں گے، سلمان اکرم راجا

کراچی میں منفرد  ڈاگ شو کا انعقاد

کالم / تجزیہ

امریکا تیل نہیں ایران اور چین کے پیچھے وینزویلا پہنچا

وینزویلا کی’فتح‘ کے بعد، دنیا کا نقشہ کیا بنے گا؟

منو بھائی کیوں یاد آئے؟