وحدتِ کشمیر سازشوں کی زد میں

جمعہ 3 اکتوبر 2025
author image

محمد اقبال

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آزاد کشمیر، وہ سرزمین جو قدرتی حسن، بہتے جھرنوں، سرسبز وادیوں، خوشبودار قدرتی گل و برگ، پھلوں، جنگلوں، سبزہ زاروں، تن بدن کو جگا دینے والی لہراتی میٹھی ہواؤں، چمکتے آسمانوں، خوبصورت انسانوں سے مزین انتہائی پرامن خطہ تھا، آج اپنے ہی باسیوں کے لہو سے رنگین ہو چکا ہے۔

جہاں کبھی امن کی ہوائیں بہتی تھیں، آج وہاں نفرت، تقسیم اور اضطراب کی لہر دوڑ رہی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ’عوامی ایکشن کمیٹی‘ کا پلیٹ فارم کیوں بنا؟ احتجاج کیوں ہوا؟، بلکہ سوال یہ ہے کہ وہ پرامن احتجاج کیسے شوریدہ ہوا؟ کس نے اس ’سوہنی دھرتی ‘ کو نفرت کی داغدار چادر تھما دی، اس کا فائدہ کس کو ہوا، مزید کون فائدہ اٹھائے گا؟

خطہ آزاد کشمیر میں جاری ’تحریک‘ نے ایک مرتبہ پھر ہمیں آئینہ دکھایا ہے کہ دشمن صرف سرحد کے اُس پار نہیں، بلکہ ہمارے اندر گھس کر سازشیں کرنے کی بھرپور صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

جب بھارتی وزیر دفاع ’راجناتھ سنگھ بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ ’ہمیں آزاد کشمیر کو فوج کے ذریعے فتح کرنے کی ضرورت نہیں، یہ خود ہی پاکستان کا حصہ نہیں رہے گا‘، تو یہ محض ایک بیان نہیں، بلکہ ایک منصوبہ ہے، ایک ایسا منصوبہ جو برسوں سے کشمیر کی وحدت کو ہمیشہ کے لیے بگاڑنے، عوام کو باہم الجھانے اور پاکستان کو داخلی طور پر کمزور کرنے کی کوشش کرتا آیا ہے۔

بدقسمتی سے، ہم نے خود دشمن کو یہ موقع فراہم کیا۔ مہاجرین کی نشستوں کا معاملہ ہو یا اشرافیہ کی مراعات، یہ وہ سوالات ہیں جن پر بات ہونی چاہیے، لیکن اس کی تکمیل بندوقوں اور لاشوں کی گواہی پر نہیں، بلکہ دلیل، ووٹ اور آئینی راستے سے ہونی چاہیے۔

اشرافیہ کی بات کی جائے تو یہ بالکل درست ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام اپنے چندے پر سڑکیں بنا رہے ہیں، اپنی مدد آپ ’پیادہ‘ راستے بنا رہے ہیں، سرکاری اسکولوں کی عمارتیں نا گفتہ بہ ہیں، اسپتالوں میں علاج کی سہولتیں نا پید ہیں، جعلی ادویات کی بھرمار ہے، تھانہ، کچہری، محکمہ مال کرپشن اور رشوت ستانی کے گڑھ ہیں، ٹرانسپورٹ کا نظام درہم برہم ہے۔

یہ سب وہ ساختی برائیاں اور مسائل ہیں جو ہماری حکمران اشرافیہ کے پیدا کردہ ہیں، ان کا احتساب یقیناً ضروری ہے لیکن اس کے لیے بھی قصور وار یہی عوام ہے کہ وہ ایسے نمائندوں کو بار بار اسمبلی میں کیوں بھیجتی ہے جو ان کے حقوق کے تحفظ کے بجائے، ان کے حقوق پر ’غاصب‘ بن جائیں، یہ تبدیلی بھی جمہوری طریقوں اور ووٹ سے لائی جا سکتی ہے۔

اگر آزاد کشمیر کے عوام واقعی ’مرعات یافتہ اشرافیہ‘ سے چھٹکارا چاہتے ہیں، تو انہیں سب سے پہلے اپنے سیاسی شعور کو بیدار کرنا ہوگا۔ وہ نمائندے جو عوامی مسائل کو نظر انداز کر کے صرف مراعات اور اقتدار کی سیاست کرتے ہیں، ان کا احتساب صرف اور صرف ووٹ کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

خود اسمبلیوں میں پہنچانے والوں کو ہٹانے کا فیصلہ سڑکوں پر قطعاً ممکن نہیں، اس کے لیے عوام کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ صرف لسانی، قبائلی یا جذباتی بنیادوں پر ووٹ نہیں دیں گے بلکہ کارکردگی، امانت و دیانت کی بنیاد پر اپنے نمائندے منتخب کریں گے۔

دشمن یقیناً طاق میں تھا، ایسا لگتا ہے کہ ایک جانب ہمارا دشمن مقبوضہ کشمیر کی ’ڈیموگرافی‘ تبدیل کرتے ہوئے اکثریت کو اقلیت میں بدلنے میں کامیاب ہونے جا رہا ہے، تو دوسری جانب ہمارے ’اندر‘ نفرتوں کی آگ لگانے میں بھی کامیاب ٹھہرا۔

کشمیر ایک ’وحدت‘ ہے، جس کی، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، جموں کشمیر اور لداخ، 4 اکائیاں ہیں۔ جب تک یہ چاروں اکائیاں باہم ایک نہیں ہوتیں تکمیلِ ’ریاست جموں کشمیر‘ خواب ادھورا رہے گا، ’عوامی ایکشن کمیٹی‘ کی جانب سے مہاجرین کی سیٹوں کے خاتمے کا مطالبہ تبھی پورا ہو سکتا ہے جب ’ریاست جموں کشمیر‘ کی چاروں اکائیوں کے ساتھ تکمیل ریاست کے لیے بھرپور جدوجہد کی جائے گی‘۔

عوامی ایکشن کمیٹی کا مہاجرین کی سیٹوں کے خاتمے کا مطالبہ یقیناً ’تکمیل ریاست جموں کمشیر‘ کا ایجنڈا نہیں ہو سکتا، یہ چاروں اکائیاں ریاست جموں کشمیر کا وجود ہیں، جن کے لیے ’خطہ آزاد کشمیر‘ کو ان کا ’بیس کیمپ‘ قرار دیا گیا، ان چاروں اکائیوں کی نمائندگی ہمارے ’مہاجر‘ بھائی ہی کرتے ہیں، ان مہاجر بھائیوں کو اپنے وجود سے الگ کرنے کا مطلب چاروں اکائیوں کو الگ کرنے کے مترادف ہے اور ہمارا دشمن بھی یہی چاہتا ہے، مہاجرین کی سیٹوں کی تعداد میں کمی کی بات تو کی جا سکتی ہے لیکن ان کا خاتمہ ’وحدت کشمیر‘ کے خاتمے سے کم نہیں تصور ہوگا۔

مہاجرین وہی لوگ ہیں جو ریاستِ جموں کشمیر کی دیگراکائیوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کی نشستوں کا خاتمہ دراصل کشمیر کی چاروں اکائیوں کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔

مہاجرین کی نمائندگی کا تحفظ، اشرافیہ کے احتساب کا مطالبہ اور عوامی مسائل کا حل سب ضروری ہیں، لیکن یہ سب تبھی ممکن ہیں، جب ہم عقل، شعور اور جمہوری اقدار کے ساتھ اپنے مسائل کا حل تلاش کریں۔ خونریزی، انتشار اور نفرت کا راستہ نہ صرف مسئلہ کشمیر کو کمزور کرے گا بلکہ دشمن کے بیانیے کو بھی تقویت فراہم کرے گا۔

یقیناً جہاں عوام کو پانی، بجلی، تعلیم، علاج اور انصاف جیسی بنیادی سہولیات سے محروم رکھا جاتا ہے، وہاں غصہ اور اضطراب فطری ہے۔ لیکن اس اضطراب کو استعمال کرنے والے عناصر کون ہیں؟ جب پولیس اور مظاہرین کو آمنے سامنے لاکھڑا کیا گیا، جب تھوڑ پھوڑ ہو رہی ہے، جب اسلحہ کھلے عام استعمال ہو رہا ہے، تو یہ واضح ہو گیا کہ معاملہ صرف مہنگائی یا مہاجرین کی نشستوں تک محدود نہیں ہے۔

یہ سب ایک منظم منصوبے کا حصہ ہے جس کا مقصد ریاست کو کمزور کرنا، عوام کو اشتعال دلانا اور بیرونی پروپیگنڈے کو ’انسانی لاشوں‘ کے ذریعے خوراک مہیا کرنا ہے۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ انٹرنیٹ کی بندش پر سب سے زیادہ چیخ و پکار ہوئی، کیوں؟ کیونکہ سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا کو ایک مخصوص بیانیہ دکھایا جانا مقصود تھا۔

یہی بیانیہ بھارت کے مفاد میں استعمال ہو رہا ہے جو دنیا کو یہ تاثر دینا چاہتا ہے کہ ’آزاد‘ کشمیر بھی کسی قید سے کم نہیں۔ اس ماحول میں بیرون ملک بیٹھے اپنے ہی خطے کے لوگوں نے اپنے ہی لوگوں کے خلاف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے زہر اُگلا، ریاست کو بدنام کیا اور احتجاج کو تحریکِ آزادی کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی، آزاد کشمیر کو پاکستان کا ’مقبوضہ کشمیر‘ قرار دے کر کشمیریوں کی پاکستان کے ساتھ وابستگی کو کمزور کیا گیا۔

ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ احتجاج کرنا ایک جمہوری حق ہے، لیکن ریاست پر حملہ، عوامی و قومی اداروں کو تباہ کرنا، اپنے ہی بھائیوں پر گولیاں برسانا اور نفرت کی بنیاد پر بیانیہ بنانا دشمن کا ایجنڈا ہی ہو سکتا ہے۔

پولیس، ایف سی، رینجرز پر حملہ صرف اداروں پر نہیں بلکہ پاکستان کے ساتھ کشمیریوں کی نظریاتی وابستگی اور ریاست جموں کشمیر کی بنیادوں پر حملہ ہے اور اگر دشمن کو فائدہ پہنچ رہا ہے تو پھر یہ ضرور جانچنا ہوگا کہ ہم کہیں دانستہ یا نادانستہ طور پر اس کے ایجنڈے کو مکمل تو نہیں کر رہے؟

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ’عوامی محرومیوں کا حل بندوق نہیں، بیلٹ ہے۔ بدعنوان اشرافیہ کا محاسبہ نفرت سے نہیں بلکہ آئینی اصلاحات سے بھی ممکن ہے۔ ہمیں اپنی صفوں میں موجود اُن عناصر کو بھی بے نقاب کرنا ہوگا جو سچے عوامی مطالبات کو اپنے خفیہ ایجنڈوں کی تکمیل کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

اب بھی وقت ہے کہ ہم لاشوں کے پیچھے چھپی سازشوں کو سمجھیں، اپنی ریاستی وحدت کو مضبوط کریں اور آئندہ نسلوں کے لیے ایک پرامن، خوشحال اور متحد کشمیر کا خواب بچا سکیں۔ ہمیں اس دھرتی کو پھر سے وہی امن، محبت، اور بھائی چارے کی زمیں بنانا ہوگا جہاں خون نہیں، علم اور شعور اگتا ہو۔

آزاد کشمیر کے عوام کو اب فیصلہ کرنا ہے کہ ’کشمیر ایک وحدت ہے اور اس کی کسی ایک ’اکائی‘ میں کسی بھی قسم کا ’انتشار‘ قابل قبول نہیں، عوام کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ ’سوہنی دھرتی‘ کے رنگ کو اپنے لہو سے رنگنے دیں گے یا اس کو امید، ترقی اور اتحاد کے رنگ سے سجا کر دشمن کو یہ پیغام دیں گے کہ ’کشمیر ایک ہے، کشمیر زندہ ہے اور کشمیر آزاد ہو کر رہے گا‘۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سابق این سی پی رہنما میر ارشد الحق کی بی این پی میں شمولیت

سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ٹوکنائزیشن، وزیر خزانہ کی عالمی وفد سے ملاقات

کرکٹ بورڈ کو الٹی میٹم دینے کی بھارتی خبریں غلط اور غیر مستند ہیں، بنگلادیش

ایران کیخلاف کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا، آرمی چیف کا دشمنوں کو سخت انتباہ

جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں مودی کے خلاف پھر نعرے، احتجاج ملک بھر میں پھیل گیا

ویڈیو

کراچی میں منفرد  ڈاگ شو کا انعقاد

جعلی مقدمات قائم کرنے سے لوگ ہیرو بن جاتے ہیں، میاں داؤد ایڈووکیٹ

عمران خان نے کہا تھا کہ ’فوج میری ہے اور میں فوج کا ہوں‘، شاندانہ گلزار

کالم / تجزیہ

امریکا تیل نہیں ایران اور چین کے پیچھے وینزویلا پہنچا

وینزویلا کی’فتح‘ کے بعد، دنیا کا نقشہ کیا بنے گا؟

منو بھائی کیوں یاد آئے؟