سگریٹ نوشی کے بے شمار نقصانات کے پیش نظر ویپ یا ای سگریٹ متعارف کرائی گئی تھی تاکہ اس لت میں مبتلا افراد آہستہ آہستہ اس علت سے چھٹکارا پا لیں لیکن تمباکو نوشی نہ کرنے والے لوگوں خصوصاً بچوں میں اس شوق کا بڑھتا رجحان انتہائی تشویشناک ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ویپنگ سگریٹ چھوڑنے میں 3 گنا زیادہ مؤثر، آسٹریلوی تحقیق
عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں 10 کروڑ سے زائد افراد جن میں کم از کم ڈیڑھ کروڑ بچے بھی شامل ہیں ای سگریٹ کا استعمال کر رہے ہیں جو نکوٹین کی ایک نئی لت کو جنم دے رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بچے بالغوں کے مقابلے میں اوسطاً 9 گنا زیادہ ویپنگ کرتے ہیں جو تشویشناک ہے۔
نکوٹین کی نئی لہر
ڈبلیو ایچ او کے ڈاکٹر ایٹیئن کروگ کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو ‘نقصان میں کمی‘ کے طور پر مارکیٹ کیا جاتا ہے لیکن حقیقت میں یہ نوجوانوں کو نکوٹین کی لت میں مبتلا کر رہی ہے اور تمباکو کے خلاف دہائیوں کی جدوجہد کو نقصان پہنچا رہی ہے۔
ادارے کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس گیبریئسس نے کہا کہ تمباکو انڈسٹری جارحانہ انداز میں نوجوانوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔
مزید پڑھیے: پھیپھڑے صحت کا راز کھولتے ہیں، ان کی کاردکردگی خود کیسے چیک کی جائے؟
انہوں نے کہا کہ جب دنیا بھر کے ممالک تمباکو کنٹرول پالیسیز کے ذریعے کامیابی حاصل کر رہے ہیں تب تمباکو انڈسٹری نئے نکوٹین پروڈکٹس کے ذریعے جوابی وار کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خاص طور پر نوجوانوں کو ہدف بنایا جا رہا ہے لہٰذا حکومتوں کو فوری اور مؤثر اقدامات کرنے ہوں گے۔
اعداد و شمار: کہاں کھڑے ہیں ہم؟
وییپنگ کرنے والے افراد کی مجموعی تعداد 10 کروڑ سے زیادہ ہے اور ان میں سے 8 کروڑ 60 لاکھ بالغ افراد ہیں جو زیادہ تر ترقی یافتہ ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔
نوجوان صارفین کم از کم ڈیڑھ کروڑ ہیں جن کی عمریں 13 سے 15 سال کے درمیان ہیں۔
مزید پڑھیں: برطانیہ میں ڈسپوزایبل ویپس پر پابندی کیوں عائد کی گئی؟
123 ممالک سے حاصل شدہ سروے ڈیٹا کے مطابق یہ اعداد و شمار سامنے آئے ہیں تاہم 109 ممالک خصوصاً افریقہ اور جنوب مشرقی ایشیا نے اب تک اس حوالے سے کوئی ڈیٹا جمع نہیں کیا ہے۔
قوانین کی کمی
عالمی ادارہ صحت کے مطابق62 ممالک میں اب بھی ای سگریٹ کے حوالے سے کوئی پالیسی موجود نہیں ہے۔
74 ممالک میں ای سگریٹ خریدنے کی کم از کم عمر کی کوئی حد مقرر نہیں۔
تمباکو نوشی میں کمی لیکن تشویش میں اضافہ
اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ دنیا بھر میں تمباکو نوشی میں کمی آئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستانی خواتین میں ای سگریٹ کا بڑھتا رجحان، اس کے نقصانات کیا ہیں؟
سنہ 2000 میں ایک ارب 38 کروڑ افراد تمباکو نوشی کیا کرتے تھے جبکہ سنہ 2024 میں یہ تعداد کچھ کم ہوکر ایک ارب 20 کروڑ کروڑ ہوچکی ہے۔
خواتین میں تمباکو نوشی کی شرح
خواتین میں تمباکو نوشی کی شرح سنہ 2010 میں 11 فیصد تھی جو کم ہو کر2024 میں 6 اعشاریہ 6 فیصد پر آ گئی۔
مردوں میں شرح
سنہ 2010 میں مردوں میں تمباکو نوشی کی شرح 41 اعشاریہ 4 فیصد تھی جو سنہ 2024 میں کم ہوکر 312 اعشاریہ 5 فیصد ہوگئی تھی۔
مزید پڑھیں: تمباکو نوشی کرنے والے 12 لاکھ پاکستانیوں کی جان کیسے بچائی جا سکتی ہے؟
تاہم ہر 5 میں سے ایک بالغ شخص دنیا بھر میں اب بھی تمباکو استعمال کرتا ہے۔
کیا ویپنگ سگریٹ سے بہتر ہے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ویپنگ سگریٹ نوشی سے کم نقصان دہ ہے اور یہ سگریٹ چھوڑنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
تاہم جو افراد سگریٹ نوشی کے عادی نہیں ہیں ان کے لیے اس کا استعمال قطعی طور پر غیر مناسب ہے۔
یہ بھی پڑھیے: وہ عادت جو آپ کو دانتوں سے محروم کر سکتی ہے
ای سگریٹ میں تمباکو نہیں جلتا، نہ ہی ٹار یا کاربن مونو آکسائیڈ پیدا ہوتی ہے جو روایتی سگریٹ کے 2 انتہائی خطرناک عناصر ہیں۔ البتہ ان میں نکوٹین موجود ہوتی ہے جو بہرحال اپنی لت میں مبتلا کردیتی ہے۔














