بسنت کے تہوار سے قبل والڈ سٹی اتھارٹی نے لاہور ہائیکورٹ کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے تاریخی فصیل بند شہر میں خستہ حال اور خطرناک عمارتوں کا سروے مکمل کر لیا ہے۔
سروے کے مطابق لاہور کے فصیل بند شہر میں مجموعی طور پر 346 عمارتوں کو خطرناک قرار دیا گیا ہے، جن میں سے 183 عمارتیں ناقابلِ مرمت جبکہ 163 کو مرمت کے قابل قرار دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور کی 59 عمارتیں خطرناک قرار، داتا گنج بخش ٹاؤن سرفہرست
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انتہائی خطرناک عمارتوں میں سے 92 عمارتیں خالی کروا لی گئی ہیں، تاہم 254 عمارتیں تاحال آباد ہیں جو مسلسل جانی خطرے کا سبب بنی ہوئی ہیں۔
اتھارٹی کے مطابق آباد عمارتوں میں سے 103 ناقابلِ مرمت جبکہ 151 مرمت کے قابل ہیں، جبکہ خالی کرائی گئی عمارتوں میں سے 80 کو مسمار کرنے اور 12 کو مرمت کے قابل قرار دیا گیا ہے۔
والڈ سٹی اتھارٹی کا کہنا ہے کہ ان غیر محفوظ عمارتوں کی چھتیں بسنت کے دوران پتنگ بازی کے لیے ہرگز محفوظ نہیں ہیں۔
مزید پڑھیں: لاہور میں 5 ملکوں کی مشہور عمارتوں کے ڈیزائن والے گلوبل ویلیج میں کیا ہے؟
حکام نے چھتوں کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں، جن میں وارننگ نوٹسز آویزاں کرنا اور آگاہی بینرز لگانا شامل ہے۔
بسنت کے دوران حادثات سے بچاؤ کے لیے رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ خطرناک حصوں کو سیل کیا جائے، پولیس اور نیم فوجی دستے تعینات کیے جائیں اور ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے اضافی حفاظتی اقدامات کیے جائیں۔












