کیا پاکستان میں ویپنگ، ای سگریٹ پر پابندی لگنے والی ہے؟

بدھ 8 اکتوبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ملک میں ای سگریٹ، ویپ اور ای شیشے جیسے الیکٹرانک نکوٹین مصنوعات کا رجحان خاص طور پر نوجوانوں اور کالج، یونیورسٹی کے طلبہ میں تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

مختلف سروے رپورٹس کے مطابق پاکستان میں 15 سے 24 سال کی عمر کے افراد میں ویپنگ کا استعمال گزشتہ 5 سالوں میں دوگنا ہو چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:’آسمان سے گرے کھجور میں اٹکے‘: ای سگریٹ گلے پڑگئی، بچے بھی لت میں مبتلا

سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور یوٹیوب ویڈیوز کے ذریعے نوجوانوں میں اسے ایک ’ فیشن‘ اور ’کم نقصان دہ متبادل‘ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جو درحقیقت ایک خطرناک تاثر ہے۔

نئی قانون سازی کی تیاری

ای سگریٹ اور ویپ کے بڑھتے ہوئے استعمال اور نوجوانوں میں ان کے فروغ پر قابو پانے کے لیے ایک اہم قانون سازی ہونے جا رہی ہے۔

سینیٹر سرمد علی نے سینیٹ سیکرٹریٹ میں بل جمع کرایا ہے، جس کے تحت 18 سال سے کم عمر بچوں کو ان مصنوعات کی فروخت کو سختی سے روکا جائے گا۔

بل میں کیا ہے؟

سینیٹر سرمد علی کی جانب سے پیش کیے گئے بل میں کہا گیا ہے کہ 18 سال سے کم عمر بچوں کو ای سگریٹ، ویپ یا ای شیشہ فروخت کرنا قانونی جرم ہوگا۔

الیکٹرانک نکوٹین مصنوعات کا پیکٹ محفوظ، غیر چھیڑ چھاڑ شدہ ہوگا، اور اس پر واضح طور پر درج ہوگا کہ یہ 18 سال سے کم عمر کے لیے نہیں اور اس میں شامل اجزاء نشہ آور ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:اسکول جانے والے بچوں میں نیکوٹین پاؤچز اور ای سگریٹ کا بڑھتا رجحان، یہ کتنے خطرناک ہیں؟

بل کے مطابق کوئی بھی فرد پاکستان اسٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (PSQCA) کی منظوری کے بغیر یہ مصنوعات درآمد، تیار یا فروخت نہیں کر سکے گا۔

تعلیمی اداروں کے 50 میٹر کے اندر فروخت کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس کے علاوہ تشہیر، اسپانسرشپ اور پروموشن پر مکمل پابندی عائد ہوگی، چاہے یہ تشہیر بل بورڈ پر ہو یا سوشل میڈیا پر۔

بل میں قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے سزائیں بھی تجویز کی گئی ہیں۔ خلاف ورزی کرنے والے کو پہلی بار 50 ہزار روپے جرمانہ، جبکہ دوبارہ جرم پر ایک لاکھ روپے تک کا جرمانہ کیا جائے گا۔

ای سگریٹ اور ویپ کے نقصانات

ماہرینِ صحت کے مطابق ای سگریٹ اور ویپ میں شامل نکوٹین دماغ کی نشوونما پر اثرانداز ہوتی ہے، خاص طور پر نوجوانوں میں۔ ویپنگ کے ذریعے پھیپھڑوں میں کیمیکل بخارات داخل ہوتے ہیں، جو سانس کی بیماریوں، الرجی، اور حتیٰ کہ ’پاپ کارن لنگ ڈیزیز‘ جیسے امراض کا سبب بن سکتے ہیں۔

بعض ویپ کارٹریجز میں نکوٹین کے علاوہ کینسر پیدا کرنے والے کیمیکل بھی پائے گئے ہیں۔ ڈاکٹرز کے مطابق یہ خیال کہ ویپ یا ای سگریٹ روایتی سگریٹ سے کم نقصان دہ ہیں، ایک خطرناک مغالطہ ہے۔

پاکستان میں ویپنگ کا پھیلاؤ

پاکستان میں ویپنگ مصنوعات کی فروخت کا کوئی باقاعدہ ڈیٹا موجود نہیں، لیکن اندازہ ہے کہ صرف کراچی، لاہور اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں میں لاکھوں نوجوان ویپ یا ای شیشہ استعمال کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستانی خواتین میں ای سگریٹ کا بڑھتا رجحان، اس کے نقصانات کیا ہیں؟

ان میں لڑکیوں کی بھی بڑی تعداد شامل ہے۔ آن لائن شاپنگ اور غیر رجسٹرڈ اسٹورز کے ذریعے ان مصنوعات تک رسائی انتہائی آسان ہو چکی ہے۔

ماہرینِ صحت کا مؤقف

ماہرِ صحت ڈاکٹر عائشہ سعید کے مطابق یہ قانون وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ویپنگ نے نوجوان نسل کو خاموشی سے نشے کی لت میں دھکیلنا شروع کر دیا ہے، جو بعد میں سگریٹ یا دیگر نشہ آور اشیا کے استعمال کی طرف بھی لے جا سکتا ہے۔

اس بل کے پیش ہونے سے پاکستان ویپنگ سے متعلق قوانین بنانے والے چند ایشیائی ممالک میں شامل ہو گیا ہے، لیکن اصل چیلنج اس قانون پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہوگا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک آن لائن فروخت، درآمدات اور سوشل میڈیا پر تشہیر پر سخت نگرانی نہ کی جائے، تب تک ویپنگ کے پھیلاؤ کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

یومِ آزادی کے موقع پر مزارِ قائد کی حفاظت کا اعزاز پاک بحریہ کے چاق و چوبند دستے کے سپرد

صدر آصف علی زرداری کی جانب سے 355 شخصیات کے لیے سول اعزازات کی سفارشات

14 اگست، پاکستان کا آزادی کی جانب سفر، 79 سالہ قربانیوں اور ترقی کا سفر

پاکستان اور فرانس کا کثیرالجہتی امور پر تعاون اور عالمی فورمز پر رابطہ مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

آزادی محض سرزمین کے حصول کا نام نہیں بلکہ عوام کے حقوق کا وعدہ پورا  کرنا  بھی ہے، بلاول بھٹو کا پیغام

ویڈیو

14 اگست، پاکستان کا آزادی کی جانب سفر، 79 سالہ قربانیوں اور ترقی کا سفر

آزادی محض سرزمین کے حصول کا نام نہیں بلکہ عوام کے حقوق کا وعدہ پورا  کرنا  بھی ہے، بلاول بھٹو کا پیغام

پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ نے بیکنہم میں یوم آزادی منایا، کھلاڑیوں کے قوم کے نام خصوصی پیغامات

کالم / تجزیہ

مایوس ہونے سے پہلے یہ حساب کتاب بھی کر لیں

سن 47، 1200 پاکستانی اور ایک چابی

انڈین خارجہ پالیسی کی ارتھی