امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی ختم کرانے کے لیے اقدامات کریں گے۔
ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ میری آٹھویں جنگ ہوگی جسے میں حل کروں گا۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ اس وقت پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ جاری ہے۔ میں واپس آ کر اس پر توجہ دوں گا۔ میں جنگیں ختم کرنے اور امن قائم کرنے میں اچھا ہوں، اور یہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔ میں نے لاکھوں زندگیاں بچائی ہیں۔
مزید پڑھیں: امن نوبیل انعام 2025: صدر ٹرمپ پر سبقت پانے والی ماریا کورینا کون ہیں؟
پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب ہونے والی جھڑپوں میں درجنوں فوجی شہید ہوئے، جو 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سب سے خونریز جھڑپیں قرار دی جا رہی ہیں۔
افغان طالبان انتظامیہ نے دعویٰ کیا کہ جمعرات کی شب پاکستانی فضائیہ نے پکتیکا صوبے کے مرغہ علاقے میں فضائی حملہ کیا، جس میں عام شہری ہلاک ہوئے۔
مزید پڑھیں: امریکی صدر ٹرمپ کا جنگیں ختم کرانے کا دعویٰ7، کتنی حقیقت، کتنا فسانہ؟
صدر ٹرمپ پیر کو اسرائیل پہنچیں گے، جہاں وہ اسرائیلی یرغمالیوں کے اہل خانہ سے ملاقات اور پارلیمنٹ سے خطاب کریں گے۔ اس کے بعد وہ مصر کے شہر شرم الشیخ جائیں گے، جہاں وہ صدر عبدالفتاح السیسی کے ساتھ شرم الشیخ امن سربراہی اجلاس کی صدارت کریں گے۔
اجلاس کا مقصد غزہ میں جنگ بندی، مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام، اور علاقائی سلامتی کے نئے دور کا آغاز کرنا ہے۔














