بھارت کی جیلوں سے رہائی پانے والے 54 پاکستانی ماہی گیر وطن واپس پہنچ گئے

منگل 14 اکتوبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت کی جیلوں میں کئی سال قید رہنے والے 54 پاکستانی ماہی گیر آخرکار رہائی کے بعد واہگہ بارڈر کے ذریعے وطن واپس پہنچ گئے۔ طویل اور مشکل اسیری کے بعد ان کی واپسی نے اہل خانہ کے لیے خوشی کا لمحہ پیدا کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق یہ ماہی گیر 2017 سے 2021 کے درمیان بھارتی سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں سرکریک کے قریب سمندری حدود کی مبینہ خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار کیے گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیے: دن بھر کی مشقت کے باوجود دو وقت کی روٹی سے مجبور گوادر کے ماہی گیروں کی دکھ بھری داستان

واپسی پر ایدھی فاؤنڈیشن کی ٹیموں نے انہیں واہگہ بارڈر پر وصول کیا اور خصوصی گاڑیوں کے ذریعے کراچی منتقل کیا، جہاں ایدھی ٹاور سینٹر میں ان کا پُرتپاک استقبال کیا گیا۔ ماہی گیروں پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں اور ہار پہنائے گئے۔

واپسی پر متعدد ماہی گیروں نے بھارتی قید میں گزرے کٹھن اور اذیت ناک دنوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں تشدد اور غیر انسانی سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔

ادھر سندھ کے مختلف ساحلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے ان ماہی گیروں کے اہل خانہ، جو سالوں سے اپنے پیاروں کی واپسی کے منتظر تھے، خوشی اور آنسوؤں کے امتزاج کے ساتھ ان سے جا ملے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کیا مریم نواز مستقبل کی وزیراعظم ہوں گی؟ پنجاب کے شہریوں کی رائے سامنے آگئی

13 سالہ اقتدار کے باوجود پی ٹی آئی لنڈی کوتل میں کوئی بڑا ترقیاتی منصوبہ شروع نہ کر سکی، شہری مایوس

مہمند میں ایک لاکھ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر، پی ٹی آئی 13 سال میں ایک جامعہ بھی نہ بناسکی

شادی کی تقریب میں جنرل (ر) باجوہ سے بیرسٹر گوہر اور اسد قیصر کی ملاقات نے نئی بحث چھیڑ دی

خیبرپختونخوا پولیس کی تنخواہوں میں اضافے کے معاملے پر محکمہ خزانہ کو کیا اعتراضات ہیں؟

ویڈیو

کیا مریم نواز مستقبل کی وزیراعظم ہوں گی؟ پنجاب کے شہریوں کی رائے سامنے آگئی

13 سالہ اقتدار کے باوجود پی ٹی آئی لنڈی کوتل میں کوئی بڑا ترقیاتی منصوبہ شروع نہ کر سکی، شہری مایوس

مہمند میں ایک لاکھ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر، پی ٹی آئی 13 سال میں ایک جامعہ بھی نہ بناسکی

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا