خیبر پختونخوا کا قبائلی ضلع مہمند جس کی آبادی ساڑھے 5 لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے تعلیمی سہولیات کی کمی کا شکار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مہمند میں اہم رابطہ سڑک خستہ حالی کا شکار، ہزاروں مکین مشکلات سے دوچار
ایک اندازے کے مطابق ضلع میں ایک لاکھ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر ہیں جبکہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 13 سالہ دور اقتدار اور منتخب نمائندوں کے متعدد وعدوں کے باوجود یہاں اب تک کوئی یونیورسٹی قائم نہیں ہوسکی۔
مہمند کے شہریوں کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی طویل صوبائی حکومت کے دوران اچھی طرز حکمرانی اور ترقیاتی منصوبوں کو وہ ترجیح نہیں دی گئی جس کی علاقے کو ضرورت تھی۔
مزید پڑھیے: پی ٹی آئی 13 سالہ دور حکومت میں گورنمنٹ ڈگری کالج لکڑو مہمند کیوں نہ بنا سکی؟
مہمند کے شہری تعلیمی پسماندگی اور ترقیاتی منصوبوں کی عدم موجودگی پر کیا کہتے ہیں؟ دیکھیے جانیے اس ویڈیو رپورٹ میں۔








