نو منتخب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے عہدہ سنبھالتے ہی پہلا اہم اقدام اٹھاتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی خاتون کارکن صنم جاوید کی گرفتاری کا نوٹس لے لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید پشاور میں وزیراعلیٰ ہاؤس کے قریب سے گرفتار ہوئیں یا اغوا؟
وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ خیبرپختونخوا کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے اس حوالے سے انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس خیبر پختونخوا کو فوری طور پر اپنے دفتر طلب کیا اور واقعے کی تفصیلات طلب کیں۔
وزیر اعلیٰ نے آئی جی پی کو ہدایت کی کہ صنم جاوید واقعے سے متعلق تمام پہلوؤں پر مشتمل جامع رپورٹ تیار کر کے کل تک وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ میں پیش کی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: صنم جاوید کی گرفتاری پر خیبرپختونخوا حکومت پوزیشن واضح کرے، جنید اکبر کا مطالبہ
سہیل آفریدی نے واضح کیا کہ صوبے میں قانون کی عمل داری ہر صورت یقینی بنائی جائے گی اور کسی شہری کے ساتھ ناانصافی برداشت نہیں کی جائے گی، وزیر اعلیٰ کی جانب سے یہ ہدایت اس وقت سامنے آئی ہے جب مختلف حلقوں کی جانب سے صنم جاوید کے ساتھ پیش آنے والے واقعے پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا تھا۔
یاد رہے کہ پی ٹی آئی سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ صنم جاوید کو ایک ہفتہ قبل پشاور سے گرفتار کیا گیا تھا، صنم جاوید کی گاڑی کو راستے میں روک کر اُنہیں حراست میں لیا گیا، یہ واقعہ دیگر مسافروں کے سامنے پیش آیا۔














