چین کی نایاب معدنیات کی برآمدات پر نئی پابندیاں، امریکا برہم

بدھ 15 اکتوبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے چین کی جانب سے نایاب معدنیات کی برآمدات پر نئی پابندیوں کو ’دنیا بمقابلہ چین‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن اور اس کے اتحادی نہ کسی کے حکم کے تابع ہوں گے، نہ کسی کے قابو میں۔

بدھ کے روز ایک پریس کانفرنس کے دوران اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ حالیہ پیش رفت امریکا اور اتحادیوں کے لیے ایک واضح اشارہ ہے کہ انہیں مل کر کام کرنا ہوگا۔ ’۔۔۔اور ہم ایسا ہی کریں گے۔‘

یہ بھی پڑھیں: امریکا نے چینی دباؤ سے نکلنے کے لیے میانمار کی نایاب معدنیات پر نظریں گاڑھ لیں

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی اقتصادی رہنما واشنگٹن میں آئی ایم ایف اورورلڈ بینک کے خزاں اجلاسوں میں شریک ہیں۔

امریکی وزیرِ خزانہ نے کہا ہم علیحدگی نہیں چاہتے، مگر ہمیں خطرات کم کرنے اور اپنی سپلائی چینز کو چین پر انحصار سے جلد از جلد متنوع بنانا ہوگا۔”

یہ بیانات اس وقت سامنے آئے جب چند روز قبل بیجنگ نے نایاب ارضیاتی ٹیکنالوجی اور مصنوعات کی برآمدات پر نئی پابندیاں عائد کیں۔

چین ان معدنیات کا سب سے بڑا عالمی پروڈیوسر ہے، جن سے ایسی مقناطیسی مصنوعات تیار کی جاتی ہیں جو گاڑیوں، الیکٹرونکس اور دفاعی صنعتوں کے لیے ناگزیر ہیں۔

مزید پڑھیں: امریکا کے پاکستان میں اہم معدنیات پر مفاہمت کی یادداشت پر دستخط

اسی پریس کانفرنس میں امریکی تجارتی نمائندہ جیمیسن گریر نے کہ یہ صرف امریکا کا مسئلہ نہیں ہے۔ ’چین کا یہ اعلان دراصل عالمی سپلائی چین پر غلبہ حاصل کرنے کی کوشش ہے۔‘

’یہ کسی متناسب جوابی اقدام کا حصہ نہیں بلکہ دنیا کے ہر ملک پر معاشی دباؤ ڈالنے کی ایک حکمتِ عملی ہے۔ـ‘

واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان تجارتی کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت میں دوبارہ عروج پر پہنچ گئی ہے۔

مزید پڑھیں:چین کا جوابی وار: امریکی جہازوں پر بندرگاہی فیس عائد کردی

دونوں ممالک کے درمیان جوابی محصولات کبھی 3 ہندسوں تک جا پہنچے تھے۔

اگرچہ بعد میں کچھ نرمی آئی، لیکن اس معاشی جنگ بندی کا معاہدہ اب بھی غیر یقینی ہے اور نومبر کے اوائل میں ختم ہونے والا ہے۔

نایاب معدنیات سے متعلق تازہ پابندیوں کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نومبر سے چین سے درآمد ہونے والی اشیا پر مزید 100 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی بھی دی ہے۔

اسکاٹ بیسنٹ نے عندیہ دیا کہ اگر چین اپنی معدنیات سے متعلق پابندیوں میں تاخیر کرے تو امریکا بھی بلند شرح محصولات کے نفاذ کو مؤخر کرنے پر غور کر سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وفاقی سرکاری اسپتالوں میں فوری فائر سیفٹی آڈٹ کا حکم جاری

’آپ جیکولین سے حسد کرتی تھیں‘، سکیش چندر شیکھر کا نورا فتیحی کے نام خط وائرل

نیپال میں تباہی کا انتباہ 5 ماہ قبل کیا گیا، ہمالیائی گلیشیئرز تیزی سے پگھلنے کا انکشاف

وزن نارمل ہونے کے باوجود دل کو خطرہ، کمر کا گھیر اہم علامت قرار

’ہمیں مدد کی ضرورت نہیں‘ سے ’غیرملکی مدد قبول‘، نیپال کا سیلاب پر مؤقف بدل گیا

ویڈیو

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

پمز سانحہ: ’ایک شخص کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے پورے ہیلتھ سسٹم کو دیکھنا ہوگا‘، پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں