جدید ٹیکنالوجی اور مشینی پرنٹنگ کے اس دور میں بھی ہاتھ سے کی جانے والی بلاک پرنٹنگ کی روایت آج بھی اپنی پہچان برقرار رکھے ہوئے ہے۔ یہ فن نہ صرف کپڑے پر رنگوں کی زبان بولتا ہے بلکہ اس میں نسلوں کی محنت، صبر اور جمالیاتی احساس جھلکتا ہے۔
پرانے کاریگر آج بھی لکڑی کے تراشیدہ بلاکس سے دوپٹے، چادریں اور لباس پر نقش و نگار ابھارتے ہیں۔ ہر چھاپ کاریگر کی سانسوں کے ساتھ جڑی ایک دعا ہوتی ہے، جو رنگوں میں زندگی بھرتی ہے۔ مگر افسوس کہ یہ روایت اب زوال کی طرف بڑھ رہی ہے۔
بلاک پرنٹنگ کے کاریگر سید مطاہر حسین کا کہنا ہے کہ اب ہمارے پاس اتنے گاہک نہیں آتے، کیونکہ بلاک پرنٹنگ کا وہ پرانا حسن لوگوں کو بھاتا نہیں۔ ہم ایک دو دن میں ایک دوپٹہ تیار کرتے ہیں، جبکہ مشین چند گھنٹوں میں درجنوں چھاپیں نکال دیتی ہے، اور لوگ سستا ہونے کی وجہ سے وہی خرید لیتے ہیں۔
وقت گزرنے کے ساتھ یہ ہنر ماند ضرور پڑ رہا ہے، مگر بلاک پرنٹنگ اب بھی اس سرزمین کی تہذیبی روح کا رنگین استعارہ بنی ہوئی ہے۔ مزید جانیے اس ویڈیو رپورٹ میں۔













