اسلام آباد ہائیکورٹ کے لارجر بینچ نے جیل قیدیوں کی سیاسی گفتگو پر عائد پابندی سے متعلق اہم فیصلہ کرتے ہوئے جیل رول 265 کو بحال کر دیا ہے۔
عدالت عالیہ نے پنجاب حکومت کی اپیل منظور کرتے ہوئے سنگل بینچ کا فیصلہ معطل کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ہائیکورٹ کا بانی پی ٹی آئی سے جیل ملاقاتوں کے آرڈر پر عملدرآمد کا حکم
لارجر بینچ، جس کی سربراہی چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر کر رہے تھے، جبکہ جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس اعظم خان بھی شامل تھے، نے قرار دیا کہ سنگل بینچ کا فیصلہ فی الحال مؤثر نہیں رہے گا۔
اس سے قبل جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے بانی تحریک انصاف کی جانب سے شیر افضل مروت کی درخواست پر فیصلہ دیتے ہوئے جیل رول 265 کو خلافِ آئین قرار دے کر کالعدم قرار دیا تھا۔
جیل رول 265 کے مطابق قیدیوں کو جیل میں سیاسی گفتگو کرنے سے روکا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: عوام کا نمائندہ ہوں، عمران خان سے ملنے دیا جائے، سہیل آفریدی کا چیف جسٹس کو خط
پنجاب حکومت نے سنگل بینچ کے فیصلے کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ حکومت کی جانب سے دائر انٹرا کورٹ اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ جیل رول 265 جیل نظم و ضبط کے لیے ضروری ہے۔
اب عدالت نے حکومت کی اپیل منظور کرتے ہوئے قیدیوں کی سیاسی گفتگو پر پابندی کی شق بحال کر دی ہے، جس کے بعد پنجاب پرزن رولز میں قیدیوں کی سیاسی سرگرمیوں پر دوبارہ قدغن عائد ہو گئی ہے۔













