اسلام آباد پولیس کے ایس پی عدیل اکبر کی خودکشی،’ آخری کال ریکارڈ چیک کرنا چاہیے‘

جمعہ 24 اکتوبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسلام آباد پولیس میں تعینات سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) عدیل اکبر نے گزشتہ روز مبینہ طور پر خود کو گولی مار کر جان دے دی۔

 اس واقعہ کے بعد جہاں سوشل میڈیا صارفین ان کی ذہنی کیفیت پر افسوس کا اظہار کر رہے ہیں، وہیں ان کی خود کشی اور آخری فون کال سے متعلق سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد پولیس کے سینیئر افسر نے خودکشی کیوں کی؟

صارفین کا کہنا ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات ضروری ہیں تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ یہ واقعہ واقعی خود کشی تھا یا کسی اور پہلو کا معاملہ ہے۔

خرم اقبال نے لکھا کہ ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈینگی کی وجہ سے چھٹی نہ ملنا، مسلسل ڈیوٹی، ڈکیتی وارداتوں کے بعد اعلی افسران کی ڈانٹ، پروموشن روکنے کی دھمکی اور آخر میں ایک بار پھر ڈیوٹی کے دوران فون کال پر ڈانٹے جانے پر ایس پی عدیل اکبر دلبرداشتہ ہوئے، ان کا کہنا تھا کہ عدیل اکبر کی آخری کال ریکارڈ چیک کرنا چاہئے۔

بلال غوری لکھتے ہیں کہ پولیس افسر عدیل اکبرکی موت کو سب اپنے تعصبات کی عینک سے دیکھ رہے ہیں،بعض لوگ آئی جی اسلام علی ناصر رضوی کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں مگردستیاب معلومات کے مطابق یہ خودکشی کسی جذباتی ردعمل کانتیجہ نہیں۔ عدیل اکبر طویل عرصہ سے ڈپریشن کے مرض میں مبتلا تھے،،گزشتہ شب بھی انہوں نے ایک معروف ماہر نفسیات کو چیک اپ کروایا اور ان کی اہلیہ بھی ڈاکٹر ہیں۔

میاں داؤد نے کہا کہ ایس پی عدیل کی خودکشی یا موت کی تحقیقات ہونا بہت ضروری ہیں۔ آخر پتہ تو چلے اس حادثے کی وجوہات کا۔

شمع جونیجو لکھتی ہیں کہ یہ پاکستان کے پہلے پولیس افسر کی خودکشی نہیں ہے۔ عدیل اکبر سے پہلے بھی کئی افسروں نے اپنی جان لے لی ہے۔

ایک صارف کا کہنا تھا کہ ایسے کوئی اپنی جان نہیں لیتا جیسے سب بتا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ عدیل اکبر کا تعلق ضلع گوجرانوالہ اور پولیس سروس آف پاکستان کے 46ویں کامن سے تھا، وہ اسلام آباد پولیس میں بطور ایس پی آئی نائن تعینات تھے۔اپنے کیریئر کے دوران وہ ایس پی کوئٹہ، ایس پی زیارت اور ایس پی ژوب کے عہدوں پر خدمات انجام دے چکے تھے۔ رواں سال اگست سے وہ اسلام آباد میں بطور ایس پی انڈسٹریل ایریا تعینات تھے۔

ان کی پروموشن 2 سال قبل ہونا تھی، مگر ان کے خلاف ایک محکمانہ انکوائری 2 سال تک زیرِ التوا رہی، بعد ازاں انکوائری میں وہ بے قصور قرار پائے۔ عدیل اکبر نے امریکا میں ماسٹرز کے لیے اسکالرشپ کے لیے درخواست دے رکھی تھی اور گزشتہ روز ہی ان کی اسکالرشپ کی منظوری کا خط بھی موصول ہوا تھا۔ عدیل اکبر  شادی شدہ تھے اور ان کی 2 سالہ بیٹی بھی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

جاپان کی پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاری بہتر بنانے کے لیے نئی کاوشیں، 4 لاکھ ڈالر فراہم کردیے

ایک اور گیارہ سے نو دو گیارہ

پاک چین دوستی کے 75 سال مکمل، سی پیک تعاون سے معیشت اور ترقی کے نئے در وا

لائیوپاکستان کی ایران، امریکا مذاکرات کے دوسرے دور کو کامیاب بنانے کے لیے کوششیں جاری

پاک مصر مشترکہ مشق ’تھنڈر II‘ کامیابی سے مکمل، انسداد دہشتگردی تعاون مزید مضبوط

ویڈیو

لائیوپاکستان کی ایران، امریکا مذاکرات کے دوسرے دور کو کامیاب بنانے کے لیے کوششیں جاری

فیلڈ مارشل نے ایران میں امن کے لیے عظیم کام کیا، شیخ حسن سروری

ضلع مہمند کے عمائدین کا پاک فوج اور حکومت پر اعتماد، امن کوششوں پر خراجِ تحسین

کالم / تجزیہ

ایک اور گیارہ سے نو دو گیارہ

مطالعہ پاکستان : بنیان مرصوص ایڈیشن

امریکا ایران مذاکرات: کیا ہونے جا رہا ہے؟