لاہور ہائیکورٹ بار کا جنرل ہاؤس اجلاس اختتام پذیر ہوگیا، جس کے بعد وکلا نے ہائیکورٹ بار سے جی پی او چوک تک ریلی نکالی۔
ریلی کی قیادت سلمان اکرم راجا، انتظار پنجوتھا، اظہر صدیق سمیت دیگر وکلا رہنماؤں نے کی۔ ریلی کے دوران وکلا نے 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف نعرے بازی کی۔
مزید پڑھیں: کیا ہم ایک اور وکلا تحریک کی طرف بڑھ رہے ہیں؟
لاہور ہائیکورٹ بار کا یہ جنرل ہاؤس اجلاس 27ویں آئینی ترمیم کیخلاف احتجاج ریکارڈ کرانے اور مستعفی ججز کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے منعقد کیا گیا تھا۔
اجلاس کی صدارت لاہور ہائیکورٹ بار کے صدر ملک آصف نسوانہ نے کی۔ اجلاس میں سلمان اکرم راجا، صدر لاہور بار مبشر رحمان چوہدری سمیت دیگر وکلا نے بھی شرکت کی۔
جنرل ہاؤس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے کہاکہ ہمیں کھڑا ہونا ہے، ہمیں اپنی آواز بلند کرنی ہے۔
انہوں نے کہاکہ اس ملک میں عوام کے حقوق کی جنگ ابھی تک جاری ہے۔ عوام کو حقیر جانا جاتا ہے۔ 8 فروری کو جو ہوا وہ انسانیت کی توہین ہے۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان واحد ملک ہے جہاں سول افراد کا ٹرائل ملٹری کورٹس میں ہوتا ہے۔
سلمان اکرم راجا نے مزید کہاکہ سپریم کورٹ نے ملٹری کورٹس میں سویلین کے ٹرائل کو رد کیا تھا، مگر بعد میں آئینی بینچ سے اسے منظور کروا لیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اسی آئینی بینچ نے مخصوص نشستیں، جو پی ٹی آئی کو ملنی تھیں، دوسری پارٹیوں کو دے دیں۔
انہوں نے الزام عائد کیاکہ آئینی عدالت کا سربراہ وزیراعظم نے لگایا اور باقی ججز بھی اسی سربراہ نے تعینات کیے۔
انہوں نے کہاکہ وکلا کی یہ برسوں پر محیط جدوجہد ہے، اس لیے نسلوں کے مستقبل کے لیے اٹھنا ہوگا اور گھروں میں نہیں بیٹھا جا سکتا۔
مزید پڑھیں: عمران خان کی پی ٹی آئی کو وکلا تحریک کا ساتھ دینے کی ہدایت
ان کا کہنا تھا کہ 2007 میں جب نکلے تھے تو دروازوں پر زنجیریں تھیں لیکن جذبہ ایمانی نے وہ زنجیریں توڑ دیں۔ آج پھر وقت آگیا ہے کھڑے ہونے کا، اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔
آخر میں انہوں نے کہاکہ آج اس ملک میں شرافت، آئین اور قانون کی کوئی جگہ نہیں۔














