عالمی یومِ اطفال 2025: صدرِ مملکت اور وزیراعظم کا بچوں کے حقوق کے تحفظ اور معیاری تعلیم کی فراہمی پر زور

جمعرات 20 نومبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

عالمی یومِ اطفال کے موقع پر وزیراعظم محمد شہباز شریف اور صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے اپنے علیحدہ پیغامات میں بچوں کے حقوق، تحفظ اور معیاری تعلیم کی قومی و عالمی اہمیت اجاگر کی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان دنیا کے ساتھ مل کر بچوں کی فلاح و بہبود، حقوق اور تعلیم کے فروغ کے عزم کا اعادہ کر رہا ہے۔ اس سال یومِ اطفال ’میرا دن، میرے حقوق‘ کے عنوان سے منایا جا رہا ہے، جس کا مقصد بچوں کے انفرادی و اجتماعی مسائل اور ان کے حقوق کی مؤثر تکمیل پر توجہ دینا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قوموں کے مستقبل کا انحصار بچوں کی بہتر نشوونما اور تعلیم پر ہے اور اس مقصد کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ تعاون ناگزیر ہے۔

مزید پڑھیں: تعلیم، تحفظ اور نشوونما بچوں کا بنیادی حق، وزیر اظم کا عالمی چلڈرن ڈے پر خصوصی پیغام

وزیراعظم نے بتایاکہ حکومت پاکستان بچوں کی ذہنی و جسمانی نشوونما، تحفظ اور معیاری تعلیم کے لیے جامع حکمت عملی کے تحت اقدامات کر رہی ہے۔

دانش سکول پراجیکٹ کی رفتار، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت بچوں کی نشوونما میں معاونت اور تعلیمی وظائف کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مزید ہم آہنگی اور مربوط کوششوں کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ تعلیم کی فراہمی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اسی لیے ملک میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے تاکہ ہر بچے کا سکول تک رسائی یقینی بنائی جا سکے۔

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے اپنے خصوصی پیغام میں کہا کہ بچوں کے حقوق کا تحفظ قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی فریضہ بھی ہے۔ صدرِ مملکت نے والدین، سول سوسائٹی اور میڈیا سے اپیل کی کہ وہ مل کر بچوں کا مستقبل محفوظ اور روشن بنانے میں کردار ادا کریں۔

مزید پڑھیں: پاکستان اور عالمی ادارہ صحت کے درمیان بچوں کے کینسر کی مفت ادویات کی فراہمی کا معاہدہ

انہوں نے عالمی یومِ اطفال کو دنیا بھر میں بچوں کی فلاح و بہبود کا دن قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اقوامِ متحدہ کے کنونشن برائے حقوقِ طفل کا پابند ہے، جب کہ آئینِ پاکستان بھی بچوں کے بنیادی حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔

صدر زرداری نے کہا کہ “My Day, My Rights” کا عالمی موضوع بچوں کی آواز کو نمایاں کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بچوں کے استحصال کی روک تھام ریاست اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اور حکومت نے اس مقصد کے لیے مضبوط قوانین، چائلڈ پروٹیکشن یونٹس اور سروس ڈلیوری مراکز قائم کیے ہیں۔

مزید پڑھیں: عالمی ادارہ صحت، پاکستان میں غذائی قلت کے شکار 80 ہزار بچوں کو علاج میں مدد دیگا

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان بچوں کی فلاح کے لیے بین الاقوامی معاہدوں کا پابند ہے اور ان کی زندگی کو متاثر کرنے والے فیصلوں میں بچوں کی شمولیت بھی ضروری ہے۔

دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بچوں کے حقوق کا تحفظ اور ان کے لیے بہتر مستقبل کی فراہمی قومی ترجیح ہے اور اس کے لیے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کراچی: سی ٹی ڈی کی بڑی کارروائی، بی ایل اے کے اہم کمانڈر سمیت 4 دہشتگرد ہلاک

پنڈی گھیب حملہ کیس: سزائے موت کالعدم، ملزمان کو فوری رہا کرنے کا حکم

عمران خان کے بیٹوں کو فوری ملاقات کی اجازت دی جائے، جمائمہ خان کی شہباز شریف سے اپیل

سلمان علی آغا کے متنازع رن آؤٹ پر ایم سی سی نے وضاحت جاری کردی

ایپل نے دوسری جنریشن کے ایئرپوڈز میکس 549 ڈالر میں متعارف کرا دیے

ویڈیو

اسلام آباد کا عید بازار جہاں خواتین کے لیے رنگ برنگے اسٹالز موجود ہیں

وی ایکسکلوسیو: نیو ورلڈ آرڈر کے بعد اگر ہم فیصلوں کی میز پر نہ ہوئے تو فیصلوں کا شکار ہو جائیں گے، خرم دستگیر

کیا آپ کی غلطیاں آپ کو جینے نہیں دے رہیں، دل کو ری سیٹ کیسے کریں؟

کالم / تجزیہ

پاک افغان تعلقات: ایک پہلو یہ بھی ہے

صحافت کا افتخار اور فیض صاحب کا مرثیہ

کھلے دل سے اعتراف اور قصہ ’رمضان عیدی‘کا