27 ویں ترمیم کے خلاف کنونشن بدمزگی کا شکار، کیا وکلا تقسیم ہیں؟

ہفتہ 22 نومبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سندھ ہائیکورٹ کے باہر 27 ویں ترمیم کے خلاف وکلاء نے کنونشن کا انعقاد کیا۔ سندھ ہائیکورٹ کے داخلی راستوں پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور پولیس کمانڈوز و اینٹی رائٹ فورس کے اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔

وکلا کی داخلی مخالفت

جنرل سیکریٹری سندھ ہائیکورٹ بار مرزا سرفراز کا کہنا تھا کہ ہم وکلاء کنونشن نیو بار روم میں کرنا چاہ رہے تھے، لیکن ہائیکورٹ بار کے صدر اور کچھ اراکین نے تحفظات کا اظہار کیا اور اس کنونشن کو منسوخ کر دیا۔

رجسٹرار سندھ ہائیکورٹ نے آرڈر جاری کیا کہ تقاریر اور نعرے سے ہائیکورٹ کا وقار مجروح ہوتا ہے، اور ہفتے کو سندھ ہائیکورٹ میں صرف انتظامی نوعیت کے کام ہوتے ہیں۔

وکیل مرزا سرفراز نے کہا کہ ہم آئین کی پاسداری اور قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں۔ ہم نے اپنا کنونشن نیو بار روم سے شفٹ کرکے ہائیکورٹ کے باہر کرنے کا اعلان کیا۔ ہماری تحریک پرامن ہے، اگر کسی نے سبوتاژ کرنے کی کوشش کی تو ہم ذمہ دار نہیں ہوں گے۔

پولیس اور وکلا کے درمیان تصادم

ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ کے باہر وکلاء اور پولیس اہلکاروں کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی ہے۔

ہائیکورٹ کے باہر پولیس افسر کے ساتھ نامناسب رویہ کیا گیا، اور اس حوالے سے رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو خط لکھا جائے گا۔ قانونی طور پر بارز کو بھی اس حوالے سے آگاہ کیا جائے گا، اور تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

نیو بار روم میں ہڑتال اور بجلی کا تعطل

وکلا نیو بار روم سے باہر آگئے کیونکہ وہاں بجلی بند کر دی گئی تھی۔ نیو بار روم کے باہر کنونشن جاری رہا۔ صدر کراچی بار ایسوسی ایشن عامر نواز وڑائچ نے کہا کہ 24 نومبر کو سندھ بھر میں عدالتوں میں مکمل ہڑتال ہوگی اور آئندہ کا لائحہ عمل 13 دسمبر کے بعد دیا جائے گا۔

کنونشن کی تاریخی تفصیلات

ذرائع کے مطابق جنرل سیکریٹری سندھ ہائیکورٹ بار مرزا سرفراز نے 27 ویں ترمیم کے خلاف وکلاء کنونشن نیو بار روم میں کرنے کا اعلان کیا تھا، جس پر سندھ ہائی کورٹ بار کے صدر نے یہ کہہ کر انکار کیا کہ یہ بیان مرزا سرفراز نے اپنی ذاتی حیثیت میں دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:اپوزیشن اتحاد کا 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف شدید ردعمل، یوم سیاہ اور مارچ کا اعلان کردیا

عدالتی تقدس پامال ہونے کے باعث رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ نے اجازت نہیں دی، لہٰذا وکلاء کنونشن کے لیے سندھ ہائی کورٹ کے باہر جمع ہوئے، جس میں سندھ کے دیگر اضلاع سے بھی وکلا شریک ہوئے۔

اختتام اور آئندہ انتخابات کا اثر

جب وکلا کی تعداد بڑھی تو انہوں نے ہائی کورٹ کی عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کی، جسے روکنے کے لیے پولیس آگے بڑھی اور وکلاء و پولیس کے درمیان تصادم ہوا۔ پولیس کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

وکلا نیو بار روم میں داخل ہوئے تو وہاں کی بجلی بند کر دی گئی۔ یوں تنازعات سے بھرپور آج کا کنونشن اس نوٹ پر اختتام پزیر ہوا کہ آنے والے وکلاء کے انتخابات میں وکلاء ووٹ کے ذریعے فیصلہ کریں گے کہ وہ کس کے ساتھ کھڑے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

برنی سینڈرز کا اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی روکنے کے لیے امریکی سینیٹ میں قرارداد پیش کرنے کا اعلان

امریکی کانگریس میں بڑا سیاسی بحران 2 اراکین جنسی زیادتی کے الزامات کے بعد مستعفی

مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے اثرات: بنگلہ دیش کی واحد آئل ریفائنری بند

سعودی عرب کی جانب سے اضافی مالی معاونت کے اعلان کے بعد پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی

’ڈراما انڈسٹری میں پیسے نہیں، اداکار گردے بیچ کر ایمار میں گھر بنا رہے ہیں‘، کنور اسلان کے حٰیران کن بیانات

ویڈیو

سعودی عرب کا پاکستان کے لیے 3 ارب ڈالر اضافی معاونت کا اعلان، 5 ارب ڈالر ڈپازٹ کی مدت میں توسیع

مریم نواز شریف کی وزارت اعلیٰ کے 2 برس، لوگ کیا کہتے ہیں؟

پاکستان کی ثالثی نے دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹ کو بچا لیا

کالم / تجزیہ

محبت، کتابیں اور دستوئیفسکی کے ’بیچارے لوگ‘

ایران امریکا تصادم کس طرف جا رہا ہے؟

ایک تھی آشا