وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کے ذمہ دار وہ خود ہیں، ترجمان حکومت سندھ مصطفیٰ بلوچ

منگل 13 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سندھ حکومت کے ترجمان مصطفیٰ بلوچ کا کہنا ہے کہ سندھ کے دورے کے دوران وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے ساتھ جو ہوا اس کے وہ خود ذمے دار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سہیل آفریدی کی جانب سے افغانستان کی ترجمانی قابل مذمت اور شرمناک عمل ہے، وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ

وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے مصطفیٰ بلوچ نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے دورے کے دوران پیدا ہونے والی کشیدگی سے متعلق صوبائی حکومت کا مقدمہ لڑتے ہوئے کہا کہ سعید غنی نے ائیرپورٹ پر نہ صرف سہیل آفریدی کا استقبال کیا بلکہ انہیں اجرک اور ٹوپی پہنائی گئی جس سے ہم سندھ کی ثقافت کا مظاہرہ کرنا چاہ رہے تھے۔

یہ طے تھا کہ وزیر اعلی کا استقبال کرنا ہے

وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے آنے سے پہلے ہی طے ہوچکا تھا کہ ان کا استقبال کیا جائے گا لیکن میں خود سمجھنے سے قاصر ہوں کہ پی ٹی آئی کی جانب سے ایسا کیوں کیا گیا۔ مصطفیٰ بلوچ کا کہنا ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ تنازع سہیل آفریدی نے خود کھڑا کیا اور یہ لوگوں کے لیے سوشل میڈیا پر مواد پیش کرنے کے لیے کیا گیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جب سب چیزیں بہتر چل رہی تھیں تو شاید ان کو یہ پسند نہیں آیا اور تب ہی انہوں نے ایسا کیا تاکہ لوگوں میں انتشار پھیلے اور پاکستان تحریک انصاف کو شاید انتشار کے بغیر مزہ نہیں آتا۔

پی ٹی آئی کا ماضی کا ریکارڈ کے سامنے ہے

مصطفیٰ بلوچ کے مطابق پی ٹی آئی کا انتشار پھیلانے کا ماضی میں ایک ریکارڈ موجود ہے اس لیے سندھ حکومت بھی کوئی رسک نہیں لینا چاہتی تھی کیوں کہ لا اینڈ آرڈر کے حوالے سے کوئی ناخوشگوار واقعہ اگر کراچی میں ہوتا تو پھر کون جواب دیتا۔

’ہم تنازعات کی سیاست پر یقین نہیں رکھتے‘

مصطفیٰ بلوچ نے کہا کہ سندھ اور سندھ سے باہر سے آنے والوں کو تحفظ فراہم کرنا ہمارے ذمے ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم تنازعات کی سیاست پر یقین نہیں رکھتے اور چاہتے ہیں کہ سیاسی یکجہتی ہو۔

وزیراعلیٰ کے خلاف باتیں کی جائیں اور پھر وہ ملاقات بھی کریں؟

ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ ہمیں کسی جماعت کے جلسوں سے مسلئہ نہیں ہے کیوں کہ ہمارا ووٹ بینک محفوظ ہے اور جہاں تک وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی کی سہیل آفریدی سے ملاقات سے انکار کی بات ہے تو وہ کسی بھی وزیراعلیٰ کے خلاف آپ باتیں کریں گے تو وہ پھر کوئی کیسے ان سے سے ملے گا اس لیے مراد علی شاہ نے اپنا ایک نمائندہ بھیج کر سہیل آفریدی کا استقبال کیا۔

’کیا ہی اچھا ہوتا یہ آرام سے جلسہ کرکے چلے جاتے‘

مصطفیٰ بلوچ کا کہنا تھا کہ انہوں نے نہ صرف میڈیا پر حملہ کیا بلکہ انتظامیہ کے ساتھ ہاتھا پائی بھی کی۔

مزید پڑھیے: 9 مئی واقعات: وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی و دیگر کی موجودگی کی تصدیق

ان کا مزید کہنا تھا کہ پولیس پر تشدد کا الزام بھی عائد کیا گیا جو کہ غلط ہے، وہ تو تحفظ فراہم کرنے کے لیے موجود تھی، کیا ہی اچھا ہوتا کہ یہ اپنا جلسہ کرکے آرام سے چلے جاتے۔

ترجمان سندھ حکومت کے مطابق ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ جلسے کے لیے لوگ جمع نہیں ہوسکے اس لیے انتشار پھیلایا گیا۔

اگلی بار کون سا صوبہ انہیں سہولیات فراہم کرے گا؟

مصطفیٰ بلوچ نے کہا کہ اب اگلی بار اگر یہ صورت حال ہوگی تو پھر ظاہر ہے ہر صوبہ ہچکچاہٹ محسوس کرے گا۔

مزید پڑھیں: ’آئندہ انگریزی میں تقریر کی تو مجھے غصہ آ جائےگا‘، سہیل آفریدی وی سی ویمنز یونیورسٹی پشاور پر برہم

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت سندھ چاہتی ہے کہ ہر سرگرمی قانون کے دائرے میں ہو اور اگر ایسا ہو تو سہولیات فراہم کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

تونسہ میں ایچ آئی وی بحران، غیر تربیت یافتہ افراد سے انجیکشن لگوانے کا انکشاف

بحیرہ انڈمان میں کشتی ڈوبنے کا ہولناک واقعہ، 250 سے زائد افراد لاپتا ہونے کا خدشہ

امریکی سفارتکار زکری ہارکن رائیڈر کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات

خیبرپختونخوا: سرکاری ملازمین کی حکومتی اجازت کے بغیر غیرملکیوں سے شادی پر پابندی، نئے رولز جاری

ورلڈ کوانٹم ڈے: نئی ٹیکنالوجی کے چیلنج پر ادارے تیار، ڈیٹا کو لاحق خطرات میں اضافہ

ویڈیو

پاکستان، ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے کے لیے مزید کیا سکتا ہے؟

پاکستان میں بھارتی مواد چلانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، عوام کی رائے

پچھلے 13 سالوں میں پی ٹی آئی نے خیبرپختونخوا میں کرپشن کے سوا کچھ نہیں کیا، آفتاب شیرپاؤ

کالم / تجزیہ

ایران امریکا تصادم کس طرف جا رہا ہے؟

ایک تھی آشا

سمندری ناکہ بندی اور فیصلہ کن گھڑی میں پاکستان کا ثابت قدم کردار