پاکستان، سعودی عرب دفاعی و تزویراتی تعاون پر کتاب کی رونمائی، ماہرین کا مثبت رد عمل

ہفتہ 22 نومبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی و اسٹرٹیجک تعلقات پر مبنی اہم تحقیقی کتاب کی رونمائی کے بعد دونوں ممالک میں تعاون کی نئی جہتوں پر بحث ایک بار پھر فعال ہوگئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران نے پاک سعودی دفاعی معاہدے میں شمولیت کی خواہش ظاہر کردی

 کتاب ’النهضة الباكستانية في جنوب آسيا واتفاقية الدفاع الاستراتيجي المشترك‘ میں 2025 تک کی علاقائی صورتِ حال، دفاعی تعاون، مشترکہ چیلنجز اور مستقبل کی مؤثر حکمتِ عملی پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے۔

کتاب کا عکس

کتاب میں پاک سعودی عرب دفاعی شراکت داری کی تاریخ اور موجودہ صورتِ حال کا تقابلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

مصنف کے مطابق جنوبی ایشیا کے بدلتے ہوئے جیو اسٹریٹیجک ماحول میں پاکستان کا کردار پہلے سے زیادہ اہم ہوتا جا رہا ہے، جبکہ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے تاریخی، مذہبی اور عسکری روابط نئی سطح پر داخل ہو رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:پاک سعودی معاہدہ برادرانہ تعلقات کی تجدید اور خطے میں قیام امن کی ضمانت ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر

کتاب میں دونوں ممالک کے عسکری تعاون کے مختلف زاویوں، تربیتی اشتراک، فوجی مشقوں، انٹیلی جنس تعاون، اور خطے میں درپیش سیکیورٹی چیلنجز کا تفصیلی احاطہ کیا گیا ہے۔

اس میں مزید بتایا گیا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کسی ایک حکومت یا دور تک محدود نہیں رہے، بلکہ ہر دور میں یہ شراکت مزید مضبوط ہوتی گئی ہے۔

مصنف نے پاکستان کی قومی سلامتی، دفاعی حکمتِ عملی، اور پاکستان آرمڈ فورسز کے تاریخی کردار کا بھی جائزہ لیا ہے۔

 کتاب میں برصغیر کی تقسیم سے لے کر 1947، 1965، 1971 اور کارگل 1999 تک اہم عسکری مراحل کا تذکرہ موجود ہے جس کے ذریعے خطے کی سیاسی و دفاعی حرکیات کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاک سعودی عرب معاہدہ: طاقت کے توازن کی نئی تعبیر

کتاب میں سعودی قیادت کے پاکستان سے تعلقات اور باہمی اعتماد کو مستقبل کی مشترکہ ترقی کے لیے بنیادی ستون قرار دیا گیا ہے۔ مصنف نے واضح کیا ہے کہ دفاعی تعاون صرف عسکری میدان تک محدود نہیں بلکہ معاشی، سائنسی اور تکنیکی اشتراک بھی دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔

کتاب کی رونمائی کے بعد سفارتی اور دفاعی حلقوں میں اسے ایک جامع اور اہم تحقیقی کام قرار دیا جا رہا ہے، جو نہ صرف دونوں ممالک کے تزویراتی تعلقات کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے بلکہ مستقبل کے فیصلوں کے لیے بھی ایک رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

ماہرین کے مطابق کتاب اس امر کو نمایاں کرتی ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعاون کی بنیاد باہمی اعتماد، مشترکہ اہداف اور خطے میں امن و استحکام کے مشترکہ وژن پر قائم ہے، جو مستقبل میں مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

محسن نقوی سے اماراتی وفد کی ملاقات، دونوں ممالک میں پری امیگریشن کلیئرنس معاہدے پر اتفاق

فلسطینی نژاد مصنفہ کے ادبی میلہ سے اخراج پر احتجاج، 180 مصنفین کا شرکت سے انکار، فیسٹیول بورڈ ارکان مستعفی

بلوچستان فائنانس ایکٹ 2020 آئینی قرار، اٹک سیمنٹ کی درخواست مسترد

نوجوان اداکار سمجھتے ہیں ہمیں سب کچھ آتا ہے، صبا فیصل کی تنقید

بنگلہ دیش میں شخصی حکمرانی روکنے کے لیے ایوان بالا قائم کرنے کی تجویز پیش

ویڈیو

سخت سردی میں سوپ پینے والوں کی تعداد میں اضافہ

سانحہ 9 مئی: سہیل آفریدی کی موجودگی ثابت، ایف آئی آر میں نامزد نہ کیا گیا تو عدالت سے رجوع کریں گے، وکیل ریڈیو پاکستان

کیا ونڈر بوائے آ رہا ہے؟ پی ٹی آئی کی آخری رسومات ادا

کالم / تجزیہ

وزیر اعلیٰ ہو تو سہیل آفریدی جیسا

ہیرا ایک ہی ہے

’نہیں فرازؔ تو لوگوں کو یاد آتا ہے‘