وفاقی آئینی عدالت نے بلوچستان فائنانس ایکٹ 2020 کے تحت معدنیات پر عائد ایکسائز ڈیوٹی میں اضافے کو آئینی قرار دیتے ہوئے اٹک سیمنٹ کی جانب سے بلوچستان حکومت کے خلاف دائر درخواست مسترد کر دی ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ کسی قانون کے وفاقی اور صوبائی دونوں پہلو ہو سکتے ہیں اور اس بنیاد پر مذکورہ قانون آئین کے مطابق ہے۔
15 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جسٹس عامر فاروق نے جاری کیا، جبکہ کیس کی سماعت جسٹس عامر فاروق اور جسٹس روزی خان بریچ پر مشتمل بینچ نے کی۔
یہ بھی پڑھیں: سرکاری نوکریاں آن لائن میرٹ پر تقسیم ہوں گی، وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا اعلان
فیصلے میں عدالت نے ’دوہرا پہلو‘ کے اصول کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنا عمومی طور پر وفاقی اختیار سمجھا جاتا ہے، تاہم بعض معاملات میں صوبائی مفاد اور اختیار بھی اس سے وابستہ ہو سکتا ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ بلوچستان فائنانس ایکٹ 2020 کے تحت معدنیات پر عائد کی گئی ایکسائز ڈیوٹی کا مقصد لیبر ویلفیئر ہے، جو کہ عوامی مفاد کے تحفظ سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔
لیبر ویلفیئر صوبائی دائرہ اختیار میں آتا ہے، اس لیے صوبائی اسمبلی کو اس ضمن میں قانون سازی کا حق حاصل ہے۔
مزید پڑھیں: پنجاب نے اپنے حصے کے سالانہ 11 ارب روپے بلوچستان کو دیے، مجھے اس پر خوشی ہے، وزیراعظم شہباز شریف
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ صوبائی قانون سازی سے وفاقی اختیار ختم نہیں ہوتا بلکہ یہ آئینی ہم آہنگی کے اصول کے تحت کی گئی قانون سازی ہے۔
عدالت کے مطابق صوبائی قانون وفاقی نظام سے متصادم نہیں بلکہ اس کی تکمیل کرتا ہے۔
درخواست گزار اٹک سیمنٹ کا مؤقف تھا کہ بلوچستان فائنانس ایکٹ 2020 کے ذریعے ایکسائز ڈیوٹی میں کی گئی ترمیم غیر آئینی ہے کیونکہ ایکسائز ڈیوٹی لگانا وفاقی حکومت کا اختیار ہے اور صوبائی اسمبلی کو اس حوالے سے قانون سازی کا حق حاصل نہیں۔
مزید پڑھیں: آئین کی تشریح شفافیت، آزادی اور دیانت کے ساتھ کی جائے گی، چیف جسٹس آئینی عدالت امین الدین
درخواست میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ مذکورہ ایکٹ کے تحت معدنیات پر ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں غیر معمولی اضافہ کیا گیا ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے تمام دلائل کا جائزہ لینے کے بعد درخواست مسترد کرتے ہوئے بلوچستان حکومت کے مؤقف کو درست قرار دے دیا۔













