دہلی میں فضا کی آلودگی خطرناک حدوں پر پہنچنے کے بعد حکومت نے سرکاری اور نجی دونوں دفاتر کو ہدایت کی ہے کہ وہ صرف 50 فیصد عملے کو دفتر بلائیں جبکہ باقی ملازمین گھروں سے کام کریں۔
یہ بھی پڑھیں: نئی دہلی میں بڑھتی فضائی آلودگی کے خلاف احتجاج، درجنوں مظاہرین گرفتار
حکام کے مطابق یہ فیصلہ کمیشن فار ایئر کوالٹی مینجمنٹ کی ہدایات کے بعد کیا گیا ہے۔ تعمیراتی سرگرمیوں پر سخت پابندیاں اور صنعتی نگرانی بھی شامل ہے۔
دہلی کے ماحولیات کے وزیر منجندر سنگھ سرسا نے کہا کہ حکومت تمام اقدامات پوری سنجیدگی سے اور مسلسل مانیٹرنگ کے ساتھ نافذ کر رہی ہے اور خاص طور پر کمزور طبقوں کے تحفظ پر زور دیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیے: دہلی دنیا میں فضائی آلودگی میں پہلے نمبر پر، لاہور کا نمبر کونسا ہے؟
شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ کھلے میں کچرا جلانے سے گریز کریں، گرد و غبار پر قابو رکھیں اور خلاف ورزیوں کی اطلاع گرین دہلی ایپ کے ذریعے دیں۔
مزید پڑھیں: پنجاب: فرسٹ ایئر کی کتاب میں سنگین غلطی، شاہی قلعہ کی جگہ دہلی کے لال قلعہ کی تصویر شائع
حکومت کا کہنا ہے کہ سخت اقدامات، عوامی تعاون اور دفتر حاضری میں کمی سے آنے والے دنوں میں آلودگی کی شدت کم ہونے کی امید ہے۔













