بانی پی ٹی آئی عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے اپنے والد کی جیل میں صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ سابق وزیرِ اعظم کو گزشتہ 6 ہفتوں سے مکمل تنہائی میں رکھا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ان کے بیان کے مطابق، عمران خان کو جیل میں نہ اہلِ خانہ سے رابطے کی اجازت ہے اور نہ ہی ان کی صحت یا حالت کے بارے میں کوئی معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سیاسی تناؤ میں شدت، عمران خان سے ملاقات نہ کروانے پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا دھرنا جاری
انہوں نے کہا کہ عمران خان کو گرفتار ہوئے 845 دن گزر چکے ہیں اور اس دوران اب انہیں ’ڈیتھ سیل جیسے ماحول‘ میں رکھا جا رہا ہے۔
میرے والد کو گرفتار ہوئے 845 دن ہو چکے ہیں۔ پچھلے چھ ہفتوں سے انہیں مکمل بے خبری کے ماحول میں ڈیتھ سیل میں تنہا رکھا گیا ہے۔ ان کی بہنوں کو ہر ملاقات سے روک دیا گیا ہے حالانکہ عدالت کے واضح احکامات موجود ہیں۔ کوئی فون کال نہیں، کوئی ملاقات نہیں اور زندگی کی کوئی خبر نہیں۔ میں اور… pic.twitter.com/c0dhujWiSO
— Kasim Khan (@Kasim_Khan_1999) November 27, 2025
قاسم خان کے بقول، عمران خان کی جیل میں ’بے خبری‘ کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
قاسم خان کے مطابق عدالت کے واضح احکامات کے باوجود عمران خان کی بہنوں کو ملاقات سے روک دیا گیا ہے، جبکہ خود انہیں اور ان کے بھائی کو بھی والد سے کسی قسم کا رابطہ کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کو سیاسی چال کے طور پر استعمال کررہی ہے، طلال چوہدری
’یہ مکمل اندھیرا کسی حفاظتی پروٹوکول کا حصہ نہیں۔ یہ ایک جان بوجھ کر کی گئی کوشش ہے تاکہ ان کی حالت کو چھپایا جائے اور ہمارے خاندان کو یہ نہ معلوم ہو سکے کہ وہ محفوظ ہیں یا نہیں۔‘
قاسم خان نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کی تنہائی، عدم رسائی اور موجودہ حالات کی تمام قانونی، اخلاقی اور بین الاقوامی ذمہ داری پاکستان کی حکومت اور ’اس کے آقاؤں‘ پر عائد ہوتی ہے۔
مزید پڑھیں: چیئرمین پی ٹی آئی کا مذاکرات میں ناکامی کا اعتراف، گیم اوور تو نہیں ہو گیا؟
انہوں نے عالمی برادری، بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور جمہوری اداروں سے اپیل کی کہ فوری طور پر مداخلت کرتے ہوئےعمران خان کی زندگی کی تصدیق، عدالت کے احکامات کے مطابق رسائی کی فراہمی، اور انہیں درپیش غیرانسانی تنہائی کے خاتمے کو یقینی بنایا جائے۔
قاسم خان نے اپنے بیان کے آخر میں مطالبہ کیا کہ پاکستان کے ’سب سے مقبول سیاسی رہنما‘ کی رہائی عمل میں لائی جائے جنہیں، ان کے بقول، صرف سیاسی وجوہات کی بنیاد پر قید رکھا گیا ہے۔














