طالبان سے وابستہ نام نہاد عالم کا پاکستان کے خلاف ’جہاد‘ کا فتویٰ، اشتعال انگیز بیان پر تشویش

بدھ 11 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

افغانستان کے صوبہ بدخشاں سے تعلق رکھنے والے ایک طالبان عالم کے پاکستان کے خلاف جہاد سے متعلق بیان نے خطے میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ مذکورہ عالم نے پاکستان کی حکومت کو ’کافر‘ قرار دیتے ہوئے اپنے پیروکاروں کو طالبان قیادت کے تحت لڑنے کی اپیل کی، جس پر مبصرین نے اسے مذہب کے نام پر انتہاپسندی کو ہوا دینے کی مثال قرار دیا ہے۔

افغانستان کے صوبہ بدخشاں کے ایک مذہبی عالم عبدالبصیر کی جانب سے پاکستان کے خلاف جہاد سے متعلق بیان سامنے آنے کے بعد اس معاملے پر شدید ردعمل ظاہر کیا جا رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں مذکورہ عالم پاکستان کی حکومت کو ’کافر‘ قرار دیتے ہوئے اپنے حامیوں کو طالبان قیادت کے تحت لڑنے کی ترغیب دیتے دکھائی دیتے ہیں۔

اس بیان میں انہوں نے پاکستان کے قانونی نظام کو بھی ’غیر اسلامی قانون‘ قرار دیا اور کہا کہ پیروکاروں کو ’امیرالمومنین‘ کی قیادت میں لڑنا چاہیے۔ مبصرین کے مطابق اس طرح کے بیانات مذہبی تعلیمات کو سیاسی مقاصد اور عسکری سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے کی مثال سمجھے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:افغان طالبان کا ٹی ٹی پی کے اہم کمانڈروں کو کابل کے ڈپلومیٹک انکلیو میں پناہ دینے کا انکشاف

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی تقاریر خطے میں کشیدگی کو بڑھا سکتی ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب افغانستان کی موجودہ حکومت یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہے کہ اس کی سرزمین پڑوسی ممالک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔

ناقدین کے مطابق افغان سرزمین سے اس نوعیت کی تقاریر سامنے آنا ان دعوؤں پر سوالات کھڑے کرتا ہے۔

مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ بعض مذہبی خطبات میں عوام کو پاکستان کے عوام اور حکومت کے درمیان فرق کرنے کا پیغام دیتے ہوئے حکومت کے خلاف جہاد کی بات کی جاتی ہے، جسے انتہاپسند بیانیے کی ایک حکمت عملی سمجھا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس طرح کے بیانات سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ افغانستان میں بعض حلقوں میں مذہبی خطابات کو سیاسی وفاداری اور عسکری مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جو خطے میں امن و استحکام کے لیے ایک تشویشناک رجحان قرار دیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp