’تیرےعشق میں‘: دھنش اور کریتی کی جوڑی بھی بے ترتیب لو اسٹوری نہ سنبھال سکی

جمعہ 28 نومبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آنند ایل رائے کی نئی فلم ’تیرے عشق میں‘ ریلیز کے بعد ناقدین کے سخت نشانے پر آ گئی۔

یہ بھی پڑھیں: ’نیشنل کرش‘ بننے کے بعد بالی ووڈ اداکارہ کو ہراسانی کا سامنا، نازیبا پیغامات کا انکشاف

بالی ووڈ فلم پر ای ڈی ٹی وی کے تبصرے میں کہا گیا ہے کہ فلمی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ 3 گھنٹے طویل محبت کی کہانی ضرورت سے زیادہ پھیلی ہوئی، بوجھل اور غیر مربوط ہے۔

یہاں تک کہ دھنش اور کریتی سینن جیسی مضبوط اداکار جوڑی بھی اسے سہارا نہیں دے سکی۔

فلم محبت اور تشدد کے رشتے پر سوال اٹھاتی ہے مگر اس کا بیانیہ کہیں بھی مضبوط بنیاد نہیں پکڑ پاتا۔

مزید پڑھیے: بالی ووڈ اداکارہ سلینا جیٹلی کا شوہر پر تشدد کا الزام، بڑے ہرجانے کا دعویٰ کردیا

فلم میں بنارس کا مختصر حصہ بھی شامل ہے جہاں اداکار محمد ذیشان ایوب ایک فلسفی پجاری کے کردار میں محبت، موت اور نجات پر گفتگو کرتے نظر آتے ہیں۔

دھنش (شَنکر) اور کریتی سینن (مکتی) اپنے کرداروں میں شدت لانے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں مگر فلم کی بکھری ہوئی کہانی اور ضرورت سے زیادہ طوالت تمام کوششوں پر پانی پھیر دیتی ہے۔

تنقید نگاروں کے مطابق فلم کی سب سے بڑی کمزوری اس کی تحریر ہے جو مکمل طور پر مرد لکھاریوں ہمانشو شرما اور نیرج یادَو کے نقطۂ نظر سے تشکیل دی گئی ہے۔

مزید پڑھیں: ’پاکستان میری موسی ماں ہے‘، بالی ووڈ کے لیجنڈ دھرمیندر کا پاکستان کے لیے محبت بھرا پیغام وائرل

فلم میں بار بار یہ تاثر ابھرتا ہے کہ سخت مزاج اور تشدد پسند مرد عورت کی محبت کے ذریعے سنور سکتے ہیں مگر بیانیہ اس خیال کو غیر حقیقی انداز میں پیش کرتا ہے۔

کہانی دہلی یونیورسٹی کے ایک غصیلے طالب علم لیڈر اور ایک اعلیٰ افسر کی باصلاحیت بیٹی کے گرد گھومتی ہے جو اپنی پی ایچ ڈی کے لیے یہ ثابت کرنا چاہتی ہے کہ تشدد پسند ’الفا میلز‘ کو بدلا جا سکتا ہے۔

وہ شنکر کو اپنے تجربے کا حصہ بننے پر آمادہ کرتی ہے اور وہ محض اس لیے مان جاتا ہے کہ ویلنٹائن ڈے قریب ہے۔

فلم کی ابتدا فضاؤں میں اڑتے فائٹر پائلٹ شنکر سے ہوتی ہے جس کے غصے اور انضباطی مسائل کے باعث اسے گراونڈ کر دیا جاتا ہے۔ اس کی کونسلنگ کے لیے مختار بن کر سامنے آتی ہے مکتی جو خود حاملہ، نشے میں اور ذہنی طور پر اس کام کے لیے تیار نہیں مگر 7 سال پہلے کے ایک ناکام تعلق کے باعث اسے یہ ذمہ داری دی جاتی ہے۔ کہانی ماضی اور حال کے درمیان سفر کرتے ہوئے ان کے پیچیدہ رشتے کو کھولتی ہے۔

تقریباً 3 گھنٹے کے دورانیے میں شنکر کا مکتی پر ذہنی دباؤ، اس کا غیر متوازن رویہ اور مکتی کے بااثر باپ کی مخالفت جیسے عناصر کہانی میں بار بار سامنے آتے ہیں لیکن ان کی نفسیاتی ساخت غیر واضح رہتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: فرح خان کی یو ٹیوب آمدن زیادہ ہے یا فلم سے کمائی، بالی ووڈ ہدایت کار کا انکشاف

بعض مواقع پر فلم شنکر کو ’مظلوم‘ دکھانے کی کوشش کرتی ہے جب کہ اصل میں وہ خود مکتی کو مسلسل گمراہ اور کمزور کرتا دکھائی دیتا ہے۔

فلم کے مکالمے الٹی میٹمز اور دھمکیوں پر مبنی دکھائی دیتے ہیں جبکہ کرداروں کے درمیان تعلقات غیر فطری انداز میں پیش کیے گئے ہیں، جس سے پلاٹ کی گتھیاں مزید الجھ جاتی ہیں۔

واحد قابلِ تعریف پہلو اے آر رحمان کی موسیقی ہے جو فلم کے بوجھل مزاج کے باوجود کچھ سہارا دیتی ہے مگر مجموعی طور پر فلم محبت کی وہ کہانی بننے میں ناکام رہتی ہے جو اپنا اثر چھوڑ سکے۔

مزید پڑھیں: بالی ووڈ کی سینیئر اداکارہ کامنی کوشل 98 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں

’تیرے عشق میں‘ ناقدین کے مطابق ایسی فلم ہے جو دکھاتی تو محبت کی طاقت ہے مگر انجام یہ ثابت کرتا ہے کہ محبت کی کہانی کبھی محض شدت، تشدد اور بے ربط تحریر کے سہارے نہیں چلتی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بہتر انتظامات مگر انتخابی ضابطوں کی خلاف ورزیاں اور کم ٹرن آؤٹ، ضمنی انتخابات پر فافن کی رپورٹ

صدر اور وزیراعظم پاکستان کا عالمی یومِ یکجہتیِ فلسطین پر مشترکہ اظہارِ حمایت

اسرائیلی فوجیوں کا گرفتاری دینے والے 2 فلسطینیوں کو قتل کرنے کا واقعہ، ویڈیو منظرعام پر آگئی

صدرِ پاکستان کا نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کا دورہ، قومی سلامتی ورکشاپ کے شرکا سے خطاب

نیدرلینڈز میں بڑھتے سیلاب اور رہائش کی کمی کے درمیان تیرنے والے گھروں کی مانگ میں اضافہ

ویڈیو

فٹ پاتھ پر پینٹنگ بیچتا ہوا نوجوان

عمران خان سے ملاقات کا معمہ، حکومت کی خوف زدگی، سہیل آفریدی کو جھٹکا اور نور مقدم کیس میں نیا موڑ

پہلے ٹوئٹر پر سخت پوسٹ کرنا چھوڑو، پھر ملاقات، عمران خان کی صحت سے متعلق فیک نیوز، سہیل آفریدی بھی ناکام

کالم / تجزیہ

ڈیجیٹل تشدد، ایک انتباہ

نورمقدم کیس: جسٹس باقرنجفی کے فیصلے پر ردعمل کیوں ؟

ہر دلعزیز محمد عزیز