فٹ پاتھ پر پینٹنگ بیچتا ہوا نوجوان

ہفتہ 29 نومبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسلام آباد کے بحریہ انکلیو کے قریب فٹ پاتھ پر بیٹھ کر رنگ اور برش سے دنیا کو نیا انداز دینے والے مسٹر عباس اپنی فنی صلاحیتوں سے ہر گزرتے ہوئے شخص کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لیتے ہیں۔ فنکارانہ مزاج رکھنے والے عباس کا تعلق ایک ایسے گھرانے سے ہے جہاں مصوری صرف ایک شوق نہیں بلکہ وراثت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پینا فلیکس کی جدید ٹیکنالوجی نے فن خطاطی کو کس طرح نقصان پہنچایا؟

انہوں نے تصویری فن اپنے والد اور دیگر بزرگوں سے سیکھا اور بچپن سے ہی رنگوں کے ساتھ جڑتی اس محبت کو آج تک دل سے سنبھالے رکھا ہے۔

مسٹر عباس مختلف ثقافتی مناظر، خطاطی اور نمائشی آرٹ کے ذریعے اپنی ہنرمندی پیش کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سڑک کنارے آرٹ دکھانا کوئی شرمندگی نہیں، اصل بات یہ ہے کہ کام معیاری ہو اور دیکھنے والے کو متاثر کرے۔ ان کے مطابق فن اپنی جگہ خود بناتا ہے، چاہے وہ فٹ پاتھ پر بیٹھ کر ہی کیوں نہ تخلیق کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: سنہرے اوراق پر کی گئی خوبصورت خطاطی

روزانہ کئی گھنٹے محنت کرنے والے مسٹر عباس نہ صرف اپنی محنت سے روزگار کماتے ہیں بلکہ اسلام آباد میں اس فٹ پاتھ کو ایک خوبصورت آرٹ گیلری کا روپ بھی دیتے ہیں۔ ان کے فن نے ثابت کیا ہے کہ جذبہ راستہ خود بنا لیتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بنگلہ دیش: اپوزیشن کا حکومت پر اصلاحات سے انحراف کا الزام، آمرانہ رجحانات کے خدشات

‏اظہر مشوانی کی ہم خیال گروپ کے ہمراہ برطانیہ میں مولانا طاہر اشرفى  اور ان كى فيملى پر حمله

لاہور میں پی ایس ایل 11 کا فائنل، ٹریفک کی نگرانی کے لیے 500 سے زائد اہلکار تعینات

گرینڈ حیات اسلام آباد کیس: منصوبے کی خلاف ورزیاں، قانونی کارروائی اور حتمی عدالتی فیصلے

فلوریڈا دوہرے قتل کیس میں پیشرفت، بنگلہ دیشی پی ایچ ڈی طالبہ کی لاش کی شناخت

ویڈیو

پنجاب ٹورازم اینڈ انویسٹمنٹ ایکسپو، سرمایہ کاروں کے لیے سنہری موقع

پاکستان کا آئی کیوب قمر مشن، کامیابیاں کیا رہیں اور اگلی لانچ کب؟

پی ایس ایل فائنل: حیدرآباد کنگز مین کے شائقین ٹرافی جیتنے کے لیے پُرامید

کالم / تجزیہ

امیر ملکوں میں رودالی کلچرکا احیا

صحافت بمقابلہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس: کون جیتے گا؟

امریکی دبدبہ