بحرین میں گولڈن ریزیڈنسی ویزا حاصل کرنا اب اور بھی آسان، نئی شرائط کیا ہیں؟

پیر 1 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بحرین نے گولڈن ریزیڈنسی ویزا حاصل کرنے کے لیے رئیل اسٹیٹ میں کم از کم سرمایہ کاری کی حد میں کمی کر دی ہے تاکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے طویل مدتی قیام کو مزید آسان بنایا جا سکے۔

یہ اعلان حال ہی میں بحرین کی وزارت داخلہ کے شعبہ قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹ اور رہائش نے کیا۔ حکام کے مطابق یہ اقدام بحرین کی خلیج میں قیام، کاروبار اور سرمایہ کاری کے لیے ایک مسابقتی مرکز کے طور پر اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

یہ بھی پڑھیے: وزیرِ داخلہ کا ایئرپورٹ کا اچانک دورہ: ویزا ایجنٹ مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم

سرمایہ کاری کی نئی شرط

پہلے گولڈن ویزا کے لیے کم از کم 200,000بحرینی دینا (تقریباً 530,555 امریکی ڈالر) کی سرمایہ کاری ضروری تھی، جو اب تقریباً 35 فیصد کم کر کے  130,000بحرینی دینا (تقریباً 345,000 امریکی ڈالر) کر دی گئی ہے۔

کون اہل ہے؟

 – وہ سرمایہ کار جو  130,000 بحرینی دینار ست زائد سرمایہ کاری کرنے والے ہوں

-بحرین میں کم از کم 5 سال کام کرنے والے ماہانہ 2,000 بحرینی دینار یا اس سے زیادہ کمانے والے پروفیشنلز

-بحرین میں 15 سال کام کرنے والے ریٹائرڈ افراد جن کی پنشن2,000  بحرینی دینار سے زیادہ ہو

-غیر مقیم ریٹائرڈ افراد جن کی پنشن 4,000 بحرینی دینار سے زیادہ ہو

-کاروباری افراد، ہائی اسکِلڈ پروفیشنلز اور ملکی معیشت یا سماج میں حصہ ڈالنے والے افراد

فوائد

ویزہ ہولڈرز کو عمر بھر رہائش، کام کرنے کی آزادی، غیر محدود داخلہ، خاندان کے افراد کی کفالت کے حقوق اور مکمل کاروباری ملکیت کے حقوق حاصل ہوں گے۔ درخواست دہندگان کو وزارت کے پورٹل کے ذریعے درست پاسپورٹ، 6 ماہ کے بینک اسٹیٹمنٹس، ہیلتھ انشورنس اور رہائش کا ثبوت جمع کرانا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے: امریکی ویزا مسترد ہونے پر خاتون ڈاکٹر نے خودکشی کرلی

ماہرین کا خیال ہے کہ نئی شرائط بحرین میں سرمایہ کاروں کی تعداد میں اضافہ کریں گی اور ملکی رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو بھی فروغ دیں گی، جس سے بحرین کو خلیج میں طویل مدتی قیام اور سرمایہ کاری کا مرکز بنانے میں مدد ملے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟