ڈیلیوری والوں کے پاس چینج نہ ہونے پر بدنیتی کا الزام، ندا یاسر کو لوگوں نے آڑے ہاتھوں لےلیا

بدھ 3 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

معروف اداکارہ اور ٹی وی میزبان ندا یاسر اپنے حالیہ بیان کے باعث ایک بار پھر سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی زد میں آ گئی ہیں۔

اپنے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ندا یاسر نے کہا کہ فوڈ ڈیلیوری رائیڈرز اکثر ڈیلیوری کے وقت ’چینج‘ نہیں لاتے، ان کا کہنا تھا کہ آپ اپنی مرضی سے ان کو ٹپ دے دیں تو وہ اور بات ہے لیکن اگر وہ جھوٹ بول رہے ہیں تو میں ڈرائیور کو بلاتی ہوں اور کہتی ہوں جا کر کھلے پیسے لے کر آؤ۔

یہ بھی پڑھیں: ’ہر شو میں ایک نئی کہانی ہوتی ہے‘، ندا یاسر کو پھر تنقید کا سامنا

پروگرام میں شریک دیگر خواتین فنکاروں نے بھی ندا یاسر کی رائے کی تائید کی اور کہا کہ چینج ساتھ لانا آپ کا کام ہے کیا اس کا بندوبست بھی ہم کریں۔ نادیہ خان نے کہا کہ میں تو کہتی ہوں کہ اگر آپ کے پاس مشین ہے تو وہ بھیج دیں میں کریڈٹ کارڈ سے رقل کی ادائیگی کروں گی یا پھر رائیڈر کے ہاتھ ہی چینج بھیجیے گا۔

ان بیانات پر سوشل میڈیا صارفین نے شدید ردِعمل دیا ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ ندا یاسر اور دیگر فنکاروں کو ایسے حساس معاملات پر بات کرتے ہوئے احتیاط کرنی چاہیے۔ کئی صارفین نے لکھا کہ 100 یا 200 روپے کی ٹپ سے رائیڈر کوئی محل نہیں بنا لیتا، کم از کم اُن کی محنت کا احترام تو کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: اداکارہ ندا یاسر کو بیرون ملک جا کر لپ اسٹک لگانا مہنگا پڑ گیا، سوشل میڈیا صارفین کی کڑی تنقید

سعدیہ مظہر کا کہنا تھا کہ یہ وہ چہرے ہیں جنہیں ہمارا مین اسٹریم ہر صورت میں اسکرین فراہم کرتا ہے، اور اپنی محدود سمجھ بوجھ کے ساتھ یہ معاشرے کے لیے معیار اور فیصلے طے کرنے بیٹھ جاتی ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ انہیں اندازہ تک نہیں کہ ایک ڈلیوری بوائے کن مشکلات سے گزرتا ہے، لیکن 10 یا 20 روپے کا چینج نہ ہونے  پر بدنیتی کا الزام لگاتے ہوئے انہیں ذرا سی بھی شرم محسوس نہیں ہوتی۔

خواجہ یاسین عثمانی نے کہا کہ یہ ٹپ نہ دینا چاہیں تو ان کی اپنی مرضی ہے لیکن ٹی وی پر بیٹھ کر عوام کو کسی غریب کی مدد سے روکنا یا اس کا مذاق اڑانا نہایت نامناسب اور افسوسناک رویہ ہے۔

ایک صارف نے سوال کیا کہ ڈیلیوری بوائز زیادہ سے زیادہ کتنی ٹپ لے لیتے ہوں گے ان سے؟

سجاد حسین لکھتے ہیں کہ دنیا بھر میں ڈیلیوری مین کو ٹریفک قوانین سمیت مختلف سہولتیں دی جاتی ہیں۔ سڑکوں پر گاڑی چلانے والے بھی کوشش کرتے ہیں کہ انہیں راستہ ملے تاکہ وہ وقت پر آرڈر پہنچا سکیں اور لوگ بھی خوشی سے ٹپ دیے بغیر انہیں جانے نہیں دیتے۔ مگر یہاں صورتحال بالکل الٹی ہے ان کی مشکلات اور محنت کو سراہنے اور ان کی حوصلہ افزائی کرنے کے بجائے الٹا ان کی تذلیل کی جاتی ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی ندا یاسر کو ان کے بیانات کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، صارفین کا کہنا ہے کہ ندا کےہر شو میں ایک نئی کہانی ہوتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

دفتر خارجہ میں قونصلر خدمات کے لیے شام کی شفٹ کا آغاز، اوقات کار رات 8 بجے تک بڑھا دیے گئے

اسٹیٹ بینک کا شرح سود 11.50 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ، کاروبار اور معیشت کو کیا فائدہ ہوگا؟

پیٹرولیم کی قیمتوں میں ردوبدل، پیٹرول ایک روپے سستا اور ڈیزل 3.37 روپے مہنگا

ایران سے بات چیت جاری ہے، ناکامی کی صورت میں سخت حملہ کردیں گے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

ڈی ڈبلیو کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر دستاویزی فلم: صحافت یا پروپیگنڈا؟

ویڈیو

ڈی ڈبلیو کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر دستاویزی فلم: صحافت یا پروپیگنڈا؟

طالبان مخالف مزاحمت نئے مرحلے میں داخل، مسلح جدوجہد مقامی کارروائیوں سے منظم بغاوت کی جانب گامزن

کراچی کی منور چورنگی پر اب ٹریفک جام نہیں ہوگا، انڈر پاس عوام کے لیے کھول دیا گیا

کالم / تجزیہ

فخر درانی۔ ایک دلیر صحافی

دریاؤں کا مقدمہ اور معرکۂ حق

دو ہم سفر دو ہم عصر: منیر نیازی اور محمد سلیم الرحمان