جسٹس کے کے آغا کی فائرنگ کرتے ہوئے ویڈیو وائرل، حقیقت کیا؟

بدھ 3 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں مبینہ طور پر ایک سرکاری عہدے دار کو عوامی مقام پر اسلحہ لہراتے اور فائرنگ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیو جسٹس کے کے آغا کی ہے۔

ویڈیو سامنے آنے کے بعد مختلف حلقوں میں سخت تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ محمد فیصل نامی صارف نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ یہ وفاقی آئینی عدالت کے جج کےکےآغا ہیں جو عوام میں اسلحہ لہراتے ہوئے فائرنگ کر رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ کتنا بے قانون ملک ہوگا جہاں جج کھلےعام غیر قانونی حرکات کرتے ہیں۔

عمران نامی صارف نے کہا کہ یہ وفاقی آئینی عدالت کے جج جناب کے کے آغا ہیں جو کھلے عام فائرنگ کر رہے ہیں اور دوسری طرف کل پنجاب میں 3 ہزار بچوں پر ہیلمٹ نہ پہننے پر پرچے دے کر بند کیا گیا ہے۔

کئی صارفین کے مطابق ویڈیو میں موجود شخص کوئی جج نہیں بلکہ ایک وکیل ہیں۔ سوشل میڈیا صارف شاہد حسین نے نشاندہی کی کہ کچھ افراد اس ویڈیو کو غلط طور پر جسٹس کے کے آغا سے منسوب کرکے پھیلا رہے ہیں، حالانکہ یہ ویڈیو ایک وکیل ہے جو 29 نومبر کو سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات میں کامیابی کی خوشی میں فائرنگ کر رہا تھا۔ ان کے مطابق یہ ویڈیو سندھ ہائیکورٹ کے احاطے میں ریکارڈ کی گئی تھی اور اس کا جسٹس کے کے آغا سے کوئی تعلق نہیں۔

چند صارفین کا کہنا تھا کہ اگر یہ جسٹس کے کے نہیں ہیں تو ویڈیو میں ’کے کے‘ کے نعرے کیوں لگائے جا رہے ہیں اور چند صارفین نے کہا کہ اگر ویڈیو میں موجود فرد واقعی سرکاری عہدہ رکھتا ہے تو یہ طرزِ عمل نہ صرف عوامی تحفظ کے لیے خطرہ ہے بلکہ ریاستی اداروں کی ساکھ کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

’روز 1300 بچے مر رہے ہیں، اگلے بچے کو مرنے سے بچائیں‘، وزیر صحت کا قومی اسمبلی میں جذباتی خطاب

کیرولین لیویٹ کا وائٹ ہاؤس میں آخری دن بچوں کے نام، بریفنگ روم میں جذباتی لمحات

کیا پاکستان چین سے دور ہوسکتا ہے؟ شبر زیدی کی پرانی ویڈیو کو تجزیہ کاروں نے مسترد کردیا

پمز سانحہ: وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا استعفیٰ وزیراعظم کو پیش، فرانزک رپورٹ کا انتظار

متنازع ٹیلی کام ترمیمی بل واپس لینے کا فیصلہ، اب کیا ہوگا؟

ویڈیو

دفاعی تعاون کے بعد پاک سعودی اقتصادی و زرعی شراکت داری مضبوط بنانے پر اتفاق، ٹیکنالوجی، پانی اور زرعی تجارت میں تعاون بڑھانے کا فیصلہ

پمز آتشزدگی: جدید فائر سیفٹی نظام ہوتا تو اتنا بڑا سانحہ نہ ہوتا

بیرسٹر سیف کا عمران خان سے رابطہ بحال، علی امین گنڈاپور عرصے بعد متحرک ہوگئے، سہیل آفریدی سے بھی دوریاں ختم

کالم / تجزیہ

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں

عام آدمی کے بیٹوں کا نوحہ