اسلام آباد میں پہلے انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم کی تعمیر کا حتمی فیصلہ، پی سی بی اور سی ڈی اے کا مشترکہ منصوبہ

جمعرات 4 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسلام آباد میں پہلے باقاعدہ کرکٹ اسٹیڈیم کی تعمیر کا منصوبہ حتمی مراحل میں داخل ہو گیا ہے، اسلام آباد میں ہونے والے اہم اجلاس میں منصوبے کے مجوزہ ڈیزائن کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا کوئی اسٹیڈیم عالمی معیار کا نہیں، مگر اب کام ہوگا، چیئرمین پی سی بی محسن نقوی

ڈان نیوز کے مطابق بدھ کے روز چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کی زیر صدارت اسلام آباد میں اہم اجلاس ہوا، جس میں سی ڈی اے حکام اور کنسلٹنٹس نے اسٹیڈیم کا کونسیپٹ ڈیزائن پیش کیا، اسٹیڈیم سیکٹر ڈی12 کے قریب مارگلہ کی پہاڑیوں کے دامن میں تعمیر کیا جائے گا۔

نئے اسٹیڈیم میں تقریباً 32 ہزار افراد کے بیٹھنے کی گنجائش رکھی گئی ہے اور اسے مارگلہ کے کھلے نظاروں کے ساتھ تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

10 ہزار گاڑیوں کی پارکنگ

عام شہریوں  کے لیے تقریباً 10 ہزار گاڑیوں کی پارکنگ اسٹیڈیم سے ایک کلومیٹر دور بنائی جائے گی تاکہ ٹریفک دباؤ کم رہے۔ منصوبے کو دبئی کرکٹ اسٹیڈیم کی طرز پر تیار کرنے کا ارادہ ظاہر کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: محسن نقوی نے لاہور، راولپنڈی اور کراچی اسٹیڈیمز کے نئے ڈیزائن کی منظوری دے دی

ذرائع کے مطابق پی سی ون جس کی لاگت پہلے 12 ارب روپے تھی، اب ڈیزائن کی نظرثانی کے بعد 8 ارب روپے تک کر دی گئی ہے۔ منصوبے پر اگلے ہفتے دوبارہ اجلاس ہو گا، جس کے بعد ٹیندرنگ کا عمل شروع کرنے کیلئے سی ڈی اے کو حتمی منظوری دے دی جائے گی۔ تعمیر شروع ہونے کے بعد منصوبہ دو برس میں مکمل کیا جا سکتا ہے۔

راولپنڈی اسٹیڈیم پر دباؤ اور شہری مشکلات

فی الحال جڑواں شہروں میں صرف راولپنڈی اسٹیڈیم ہی انٹرنیشنل میچز کے لیے موجود ہے، لیکن شہر کے وسط میں واقع ہونے کے باعث میچز کے دوران ٹریفک جام، سڑکوں کی بندش اور سکیورٹی انتظامات سے شہری شدید مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کچھ لوگوں کی خواہش ہے چیئرمین پی سی بی کے عہدے سے استعفیٰ دے دوں، محسن نقوی

علاقہ مکین فرقان حسین کے مطابق میچز کے دن مری روڈ اور اطراف کے علاقوں میں ٹریڈرز کو بھی بندشوں کے باعث شدید مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔

سی ڈی اے اور پی سی بی کا مشترکہ منصوبہ

سی ڈی اے حکام کے مطابق مجوزہ اسٹیڈیم سی ڈی اے اور پی سی بی کا مشترکہ منصوبہ ہو گا۔ ابتدائی مذاکرات کے مطابق پی سی بی 5 برس میں اسٹیڈیم مکمل کرے گا جبکہ سی ڈی اے 280 کنال زمین 99 برس کی لیز پر فراہم کرے گا۔ آمدن کی تقسیم میں 70 فیصد حصہ پی سی بی جبکہ 30 فیصد سی ڈی اے کو ملے گا۔

شکرپڑیاں اسٹیڈیم منصوبہ کیوں ختم ہوا؟

اس سے قبل شکرپڑیاں میں اسٹیڈیم کی تعمیر کا منصوبہ شروع کیا گیا تھا، لیکن سپریم کورٹ نے اسے ختم کردیا تھا۔ شکرپڑیاں کا علاقہ 1960 کے ماسٹر پلان کے مطابق اسپورٹس سینٹر کے لیے مختص تھا، تاہم 1979 کے حکومتی نوٹیفکیشن کے بعد اسے نیشنل پارک میں شامل کردیا گیا جس کے بعد اسٹیڈیم تعمیر کی اجازت ختم ہوگئی۔

اب سی ڈی اے نے نیا مقام سیکٹر ڈی12  کے قریب منتخب کر لیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل

میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ

ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟

اسلامی حکومت یا وسائل کی لوٹ مار؟ افغان طالبان کے اندر اقتدار کی خونریز کشمکش سامنے آگئی

امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ

ویڈیو

پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل

تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے

گلگت بلتستان انتخابات: ووٹرز سیاسی جماعتوں سے کیا چاہتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

28 ویں ترمیم تو آنی ہی آنی ہے

جب یورپ کو پاکستان کی بات سمجھ آئی

گجرات کی گلیاں انور مسعود کو یاد کرتی ہیں