دنیا اور پاکستان کی ایوی ایشن انڈسٹری

اتوار 7 دسمبر 2025
author image

عبید الرحمان عباسی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ہر سال 7 دسمبر کو دنیا بھر میں انٹرنیشنل سول ایوی ایشن ڈے اس عزم کے ساتھ منایا جاتا ہے کہ فضائی سفر کو محفوظ، پائیدار اور سب کے لیے قابلِ رسائی بنایا جائے۔ یہ دن صرف ہوابازی کی کامیابیوں کا اعتراف نہیں بلکہ مستقبل کی سمت کا تعین بھی ہے جس میں عالمی تجارت، سیاحت اور معیشت کی بنیادیں مضبوط ہوتی ہیں۔ ہوابازی کی تاریخ دراصل ایک خواب کی تعبیر ہے جو 1903 میں رائٹ برادرز کی پہلی اڑان سے حقیقت بنا۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد تجارتی پروازوں کی رفتار بڑھنے لگی اور 1978 کی ایئرلائن ڈیریگولیشن نے فضائی سفر عام آدمی کی پہنچ میں لا دیا۔ آج روزانہ ایک لاکھ سے زائد پروازیں دنیا کو جوڑتی ہیں اور ایوی ایشن عالمی معیشت کی شہ رگ بن چکی ہے۔

انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے مطابق عالمی ایوی ایشن کا حجم تین ٹریلین ڈالر سے زیادہ ہے، عالمی معیشت میں اس کا حصہ ساڑھے تین فیصد ہے، سالانہ تقریباً ساڑھے چار ارب لوگ ہوائی سفر کرتے ہیں اور بین الاقوامی تجارت کی ستر فیصد ویلیو فضائی راستے سے منتقل ہوتی ہے۔ اس صنعت کے بغیر سیاحت، تجارت، میڈیکل سپلائی اور انسانی امداد ممکن نہیں۔ وہ ممالک جو اپنی فضائی صنعت پر سرمایہ کاری کرتے ہیں وہاں سیاحت بڑھتی ہے، بیرونی سرمایہ کاری آتی ہے اور ہوٹل، ٹرانسپورٹ، فوڈ انڈسٹری اور کارگو سمیت بے شمار ذیلی شعبوں میں روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ متحدہ عرب امارات، ترکی اور قطر نے ایوی ایشن کو معیشت کی بنیاد بنا کر نمایاں ترقی کی۔

دنیا آنے والے برسوں میں ہوابازی کے ایک نئے دور میں داخل ہونے جا رہی ہے۔ الیکٹرک اور ہائبرڈ طیارے، خودکار ایئرکرافٹ، سپرسونک سفر، ڈرون لاجسٹکس اور ماحول دوست ایندھن اس صنعت کا مستقبل ہیں۔ کاربن نیوٹرل ایوی ایشن کے لیے جدید ٹیکنالوجی پر کام جاری ہے اور 2025 کے بعد زیادہ تر کمپنیاں پائیدار ایندھن کی طرف منتقل ہو رہی ہیں۔

پاکستان بے شمار قدرتی مقامات، بلند پہاڑوں، برفانی تودوں، تاریخی ورثے اور مذہبی سیاحت کے مواقع کے ساتھ دنیا کے چند منفرد ملکوں میں شمار ہوتا ہے، مگر 1990 سے 2010 تک سیکیورٹی خدشات، کمزور پالیسیوں اور محدود کنیکٹیویٹی کے باعث سیاحت ترقی نہ کر سکی۔ حالیہ برسوں میں اسکردو، گلگت اور گوادر سمیت مختلف مقامات پر فضائی رابطے بہتر ہو رہے ہیں اور عالمی ٹریول بلاگر پاکستان کو بہترین ٹورزم ڈیسٹینیشن قرار دے رہے ہیں۔ نئی ایئرلائنز کے آغاز اور پالیسی اصلاحات کی کوششیں امید پیدا کر رہی ہیں۔

اس کے باوجود پی آئی اے کا بحران، ریگولیٹری کمزوریاں، تربیت یافتہ افرادی قوت کی کمی، سیفٹی کے مسائل اور فیصلہ سازی میں عدم تسلسل جیسے چیلنجز موجود ہیں۔ ایوی ایشن کو کبھی وزارت دفاع اور کبھی علیحدہ وزارت کے تحت رکھنے کی پالیسی نے اس شعبے کو مستقل تجربہ گاہ بنا دیا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر حکومت نیشنل ایوی ایشن پالیسی 2025 کو موثر انداز میں نافذ کرے، میرٹ پر بھرتیوں کو یقینی بنائے، لو کاسٹ ایئرلائنز اور کارگو بیسڈ ماڈلز کو فروغ دے اور سکردو و گوادر کو ٹورزم گیٹ وے کا درجہ دے تو سیاحت سے سالانہ پندرہ سے بیس ارب ڈالر تک آمدن حاصل کی جا سکتی ہے۔ مذہبی سیاحت کے لیے خصوصی روٹس، ای ویزا اور ٹورزم ہائی ویز کا اجرا تین سے چار ارب ڈالر سالانہ لا سکتا ہے۔

7 دسمبر کا دن یاد دلاتا ہے کہ ایوی ایشن صرف ایک صنعت نہیں بلکہ ترقی، سیاحت اور معیشت کا بنیادی ستون ہے۔ دنیا سپرسونک اور الیکٹرک طیاروں کے دور میں داخل ہو رہی ہے اور اگر پاکستان درست سمت میں فیصلے کرے تو اس کی ٹورزم انڈسٹری اربوں ڈالر کما سکتی ہے۔ فضائی صنعت میں موجود امکانات ملک کی معیشت کو نئی بلندیوں تک لے جا سکتے ہیں اور پاکستان ایک روشن فضائی مستقبل کے ساتھ عالمی نقشے پر دوبارہ ابھر سکتا ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

سینئر قانون دان کالم نگار اور فری لانس جرنلسٹ ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سمندری جہازوں کوقبضے میں لینا میری ٹائم قوانین کی خلاف ورزی، روس کا امریکی کارروائی پر ردعمل

خیبرپختونخوا حکومت دہشتگردوں کی اتحادی، آپریشن کا فیصلہ وفاقی کابینہ نے کرنا ہے، وزیر دفاع خواجہ آصف

ڈاگ بائٹ کے کیسز میں اضافہ، آوارہ کتوں کو مارنا ناگزیر ہوچکا ہے، مرتضیٰ وہاب

بنگلادیش بھارت میں ورلڈکپ نہ کھیلنے کے فیصلے پر قائم، آئی سی سی کو دوبارہ خط لکھنے کا عندیہ

بابر اعظم بھی انسان ہیں، کوشش کررہے ہیں کہ بیٹنگ میں بہتری لے آئیں، شاہین شاہ آفریدی

ویڈیو

خیبرپختونخوا میں گورنر راج، کیا سہیل آفریدی کی چھٹی کا فیصلہ ہوگیا؟

تبدیلی ایک دو روز کے دھرنے سے نہیں آتی، ہر گلی محلے میں عوام کو متحرک کریں گے، سلمان اکرم راجا

کراچی میں منفرد  ڈاگ شو کا انعقاد

کالم / تجزیہ

امریکا تیل نہیں ایران اور چین کے پیچھے وینزویلا پہنچا

وینزویلا کی’فتح‘ کے بعد، دنیا کا نقشہ کیا بنے گا؟

منو بھائی کیوں یاد آئے؟