علاقائی خدشات اور سفارتی پیغامات: افغانستان کے 6 پڑوسی ممالک کے اجلاس میں کیا طے ہوا؟

پیر 15 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

گزشتہ سے پیوستہ روز ایران کے دارالحکومت تہران میں افغانستان کی صورتحال پر منعقد ہونے والی علاقائی کانفرنس ایک ایسے وقت میں ہوئی جب خطہ شدید سیکیورٹی، سیاسی اور سفارتی دباؤ کا شکار ہے۔

افغانستان جو ایک طرف تو انسانی حقوق جیسا کہ لڑکیوں کو تعلیم کے حق سے محروم کرنے اور افغانستان کی دیگر کمیونیٹز کو حکومت کا حصہ نہ بنانے کی وجہ سے دنیا بھر میں ہدفِ تنقید ہے وہیں افغانستان کے بارے میں عالمی برادری کی سب سے بڑی تشویش وہاں دہشت گرد گروہوں کا منظم ہونا اور وہاں سے پورے خطے کو دہشت گردی سے ہونے والے خطرات ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: تہران: افغانستان پر علاقائی ممالک کی اہم بیٹھک، پاکستان نے دہشتگردی کا تدارک ناگزیر قرار دے دیا

پاکستان تو گزشتہ 4 برسوں سے افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کا نشانہ ہے لیکن وہیں حالیہ دنوں میں تاجکستان اور کچھ عرصہ قبل ایران اور روس بھی نشانہ بن چُکے ہیں۔ افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کو 3 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود نہ تو داخلی استحکام مکمل طور پر ممکن ہو سکا ہے اور نہ ہی ہمسایہ ممالک کے خدشات کم ہوئے ہیں۔

یہی پس منظر تہران کانفرنس کی بنیاد بنا، جس میں پاکستان، ایران، چین، روس اور وسطی ایشیا کے اہم ممالک نے شرکت کی، تاہم خود افغانستان کی عبوری حکومت کی عدم شمولیت نے اس اجلاس کو ابتدا ہی سے سوالات کی زد میں لا کھڑا کیا۔

میزبان ملک ایران نے افغانستان کی عدم شرکت کو افغانستان کا داخلی معاملہ قرار دیا اور کہا کہ اِس فیصلے کا احترام کرتے ہیں تاہم ہماری خواہش تھی کہ افغانستان اِس اِجلاس میں شریک ہوتا۔ایرانی حکام نے یہ بھی کہا کہ افغانستان کی عدم شرکت سے دونوں ملکوں کے سفارتی تعلقات متاثر نہیں ہوں گے۔

افغان حکومت کی عدم شرکت اور اس کا مؤقف

اس کانفرنس کا سب سے نمایاں پہلو افغان عبوری حکومت، یعنی اسلامی امارت افغانستان، کی عدم شرکت تھی۔ افغان وزارتِ خارجہ نے اس حوالے سے وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان نئے یا علیحدہ علاقائی فورمز کے بجائے پہلے سے موجود دوطرفہ اور علاقائی مذاکراتی پلیٹ فارمز کو زیادہ مؤثر سمجھتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: چین کی پاکستان اور افغانستان سے کشیدگی کم کرنے کی اپیل

افغان حکومت کے مطابق وہ اپنی خارجہ پالیسی خود مختاری کے اصول کے تحت ترتیب دیتی ہے اور ایسے اجلاسوں میں شرکت کو ضروری نہیں سمجھتی جو پہلے سے قائم فورمز کی نقل ہوں۔ تاہم ناقدین کے مطابق یہ فیصلہ افغانستان کو مزید سفارتی تنہائی کی طرف دھکیل سکتا ہے۔

کانفرنس کے شرکاء اور علاقائی نمائندگی

اس کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی خصوصی نمائندہ برائے افغانستان محمد صادق نے کی، جبکہ ایران نے بطور میزبان مرکزی کردار ادا کیا۔ چین اور روس کے نمائندے بھی شریک ہوئے، جو افغانستان کے معاملے میں طویل عرصے سے علاقائی استحکام اور انسدادِ دہشت گردی پر زور دیتے آئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ایران کے سرکاری دورے پر تہران پہنچ گئے

اس کے علاوہ تاجکستان، ازبکستان اور ترکمانستان جیسے وسطی ایشیائی ممالک کے وفود نے بھی شرکت کی، جن کے لیے افغانستان کی صورتحال براہِ راست سرحدی سلامتی، منشیات کی اسمگلنگ اور شدت پسندی کے خطرات سے جڑی ہوئی ہے۔

ان ممالک کی شرکت اس بات کا ثبوت تھی کہ افغانستان کا بحران اب ایک وسیع علاقائی مسئلہ بن چکا ہے۔

پاکستان کا مؤقف: امن کی خواہش، سیکیورٹی کی تشویش

کانفرنس میں پاکستان کے خصوصی نمائندے محمد صادق نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں امن، تعمیرِ نو اور اقتصادی بحالی کا خواہاں ہے، تاہم یہ خواہش اس وقت تک حقیقت کا روپ نہیں دھار سکتی جب تک افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف سرگرم دہشت گرد گروہوں کو روکا نہیں جاتا۔

انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ دہشت گردی صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے ایک مشترکہ خطرہ ہے، جس کا حل بھی مشترکہ حکمت عملی اور عملی اقدامات میں مضمر ہے۔ پاکستان کے اس مؤقف کو کانفرنس میں موجود کئی ممالک کی خاموش تائید حاصل رہی۔

ایمبسیڈر محمد صادق نے کہا کہ تمام شریک ممالک کے اس تجزیے سے اتفاق کرتا ہوں کہ افغانستان کی سرزمین سے جنم لینے والا دہشت گردی کا مسلسل خطرہ پورے خطے کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ پاکستان اس بات پر بھی زور دیتا ہے کہ افغانستان کے عوام پہلے ہی بے پناہ مشکلات اور مصائب جھیل چکے ہیں اور وہ اس سے کہیں بہتر مستقبل کے حقدار ہیں۔ لہٰذا یہ ناگزیر ہے کہ موجودہ ڈی فیکٹو حکمران عوام کی مشکلات میں کمی لانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

یہ بھی پڑھیے: افغانستان سے کسی دوسرے ملک پر حملہ کرنے والے باغی تصور ہوں گے، افغان علما کا اعلان

ان کے مطابق اس سلسلے میں سب سے بنیادی اور اولین قدم یہ ہونا چاہیے کہ افغان سرزمین کو بلاامتیاز ہر قسم کے دہشت گردوں سے مکمل طور پر پاک کیا جائے۔ پاکستان نے یہ نکتہ بھی واضح کیا کہ صرف وہی افغانستان جو دہشت گرد عناصر کو پناہ نہ دیتا ہو، ہمسایہ اور علاقائی ممالک میں اعتماد پیدا کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں افغانستان کے ساتھ بامعنی اور مؤثر روابط استوار ہوں گے اور ملک کی بے پناہ اقتصادی اور رابطہ کاری (کنیکٹیویٹی) کی صلاحیت کو بروئے کار لانے میں مدد ملے گی

ایران، چین اور روس: ڈائیلاگ اور شمولیت پر زور

بطور میزبان، ایرانی حکام نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان کے مسئلے کا حل فوجی یا وقتی اقدامات میں نہیں بلکہ مستقل علاقائی مکالمے میں ہے۔ ایران کے مطابق افغانستان کو خطے کے سیاسی اور اقتصادی عمل سے الگ رکھنا عدم استحکام کو مزید گہرا کرے گا۔

چین نے بھی اقتصادی رابطہ کاری، تجارت اور ترقی کو سیکیورٹی کے ساتھ جوڑتے ہوئے کہا کہ افغانستان کا استحکام خطے کے معاشی منصوبوں کے لیے ناگزیر ہے۔ روسی نمائندے نے اس بات کی نشاندہی کی کہ افغانستان میں سیاسی خلا اور سیکیورٹی کمزوری انتہا پسند عناصر کو مضبوط کر سکتی ہے، جس کے اثرات وسطی ایشیا اور اس سے آگے تک پھیل سکتے ہیں۔

اعلامیہ: اتفاقِ رائے، مگر محتاط زبان

کانفرنس کے اختتام پر جاری کیے گئے اعلامیے میں دہشت گردی کے خطرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ افغانستان سے جنم لینے والے سیکیورٹی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے علاقائی تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہوگا

یہ بھی پڑھیے: افغانستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، آسٹریلیا کا طالبان حکام پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان

 اعلامیے میں مستقبل میں فالو اپ اجلاسوں، ورکنگ گروپس اور مسلسل مشاورت کے امکان پر بھی زور دیا گیا، تاہم زبان محتاط رہی اور کسی ملک یا فریق پر براہِ راست الزام تراشی سے گریز کیا گیا۔ اس محتاط انداز نے واضح کر دیا کہ شرکا ایک طرف دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں تو دوسری جانب سفارتی دروازے بند کرنے کے بھی خواہاں نہیں۔

سفارت کاری کی کوشش، مگر سوال برقرار

مجموعی طور پر تہران کانفرنس علاقائی سفارت کاری کی ایک سنجیدہ کوشش ضرور تھی، جس میں خدشات کا اظہار، تعاون کی خواہش اور مستقبل کی راہیں تلاش کرنے کی بات کی گئی، تاہم اصل سوال بدستور اپنی جگہ موجود ہے کہ جب تک خود افغانستان ان مشاورتوں کا فعال حصہ نہیں بنتا، کیا خطے میں امن، استحکام اور دہشت گردی کے خاتمے کے دعوے عملی شکل اختیار کر سکتے ہیں؟

یہی سوال آنے والے دنوں میں علاقائی سیاست کا مرکزی نکتہ بنے رہنے کا امکان رکھتا ہے۔

 علاقائی ممالک کے اس فورم کی بہت اہمیت ہے: طاہر خان

افغان اُمور کے بارے میں باخبر صحافی اور تجزیہ نگار طاہر خان نے وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تہران کانفرنس میں افغانستان کے 6 پڑوسی ملکوں نے شرکت کی جن کا پہلے ایک گروپ تھا بعد میں روس بھی اُس میں شامل ہو گیا۔

انہوں نے کہا کہ اُس گروپ کے مسلسل اجلاس بھی ہوتے رہے ہیں، وزرائے خارجہ کی سطح پر اجلاس ہوئے ہیں، اور کل خصوصی نمائندگان کی سطح پر اجلاس ہوا جس میں فیصلہ ہوا کہ اگلا اجلاس اسلام آباد میں ہو گا اور وزرائے خارجہ اجلاس ترکمانستان میں ہو گا۔

یہ بھی پڑھیے: افغان طالبان کا ایران میں ہونے والے علاقائی اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

طاہر خان کا کہنا ہے کہ یہ گروپ پاکستان نے اُس وقت قائم کیا تھا جب طالبان نے عنانِ حکومت سنبھالی جس کا مقصد افغانستان کے ساتھ مختلف موضوعات جیسا کہ خواتین کی تعلیم، انسانی حقوق اور دہشتگردی پر گاہے بگاہے بات چیت کرنا تھا کیونکہ دہشتگردی کے حوالے سے تمام پڑوسی ممالک کو خدشات ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پڑوسی ممالک چاہتے ہیں تجارت کے حوالے سے بھی افغانستان کے ساتھ بات چیت کی جائے۔ ایران نے آج اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ انسدادِ دہشتگردی کے حوالے سے ہر لحاظ سے افغانستان کی مدد کرنے کو تیار ہے۔ ان کے مطابق بحیثیتِ مجموعی اس فورم کی بہت اہمیت ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

’میں نازیبا کپڑے نہیں پہنتی‘، رمضان ٹرانسمیشن میں ساڑھی پر تنقید کے بعد جویریہ سعود کی وضاحت

دی ہنڈرڈ میں پاکستانی کرکٹرز کی شرکت خطرے میں، آئی پی ایل روابط آڑے آگئے

حکومتی مراعات: ایپل کمپنی پاکستان میں آئی فون تیار کرے گی

ہاکی کی بحالی کا مشن شروع، ایڈہاک صدر نے پی ایچ ایف میں بڑی اصلاحات کا اعلان کردیا

’یہ ناقابلِ قبول ہے‘، اکشے کمار کی بھارت میں نسل پرستی کے واقعات کی سخت مذمت

ویڈیو

ٹوڈے بائٹس رمضان فیسٹیول، ریاض میں افطار کے لیے فیملیز کی پسندیدہ منزل

پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے واقعی سنجیدہ ہے؟

وزیرستان کی کم عمر کرکٹر آئینہ جو محنت کی پچ پر کامیابی کی اننگز کھیلنا چاہتی ہیں

کالم / تجزیہ

مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا

عماد وسیم کی دوسری شادی پر ہنگامہ کیوں؟

بنگلہ دیشی الیکشن، اور سونے کی درست ترتیب